Posts

Showing posts from December, 2022

Zaban-e-Khalq زبان خلق ، شمارہ 90

Image

تلخ و ترش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق رفیقی

٭وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں گجرات گرین ہائیڈروجن ہب بننے جا رہا ہے پٹرول ڈیزل پر چلنے والی کاریں گرین ہائیڈروجن سے چلیں گی ، ہم اس سمت میں کام کر رہے ہیں ۔۔۔ یو این آئی صاحب نے کہا ہے تو ایسا ضرور ہوکر رہے گا، اور ویسے بھی صاحب کی کرپا سے گجرات بہت ساری چیزوں کا ہب بن چکاہے اور وہاں ایک ایسی لیبارٹری بھی بن چکی ہے جہاں، صاحب کے "آشاؤں کا بھارت" بنانے کے لئے خاص تجربات ہوتے ہیں۔ ٭ عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ ملک کو ایسے الیکشن کمشنرز کی ضرورت ہے جو ضرورت پڑنے پر وزیر اعظم پر کاروائی کرنے سے بھی نہ ہچکچائیں ، اور وہ گھٹنے ٹیکنے والا اور ہر بات پر جی حضور کہنے والا نہ ہو۔۔۔ دی ہندو ناممکن حد تک مشکل ہے، بھگتوں کے سنسار میں جہاں ہر بات بھگتی کی دشا سےآتی ہو ایسی آشا رکھنا بھی سرکشی میں شمار ہوسکتی ہے۔ ٭ فیفا ورلڈ کپ 2022 کے دوران قطر میں جا بجا تبلیغ دین کے مظاہرے دکھائی دے رہے ہیں ۔ بعض مسلم خواتین نے غیر مسلم خواتین کو حجاب سے متعارف کرانے کی مہم شروع کی ہے جس کی خوب پزیرائی ہو رہی ہے الجزیرہ کے رپورٹ کے مطابق غیر مسلم خواتین نے حجاب پہن کر اچھا مح...

ایک ندڑ، بے باک اور سچے صحافی (رویش کمار) کی تائید میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق رفیقی

جرعات جب عقل و شعور پر غفلت اور کاہلی کے پردے پڑ جاتے ہیں تو ہر چمکنے والی چیز سونا نظر آنے لگتی ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان اندھی تقلید میں مبتلا ہوکر آمنا و صدقنا کے مرض میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس کی فطرت میں موجود تحقیق اور جستجو کے جراثیم غذائی قلت یعنی علم و فکر کے فقدان، کے شکار ہو کر یا تو مر جا تے ہیں یا بے اثر ہوجاتے ہیں۔ ہر بات پر آمنا و صدقنا کا مرض اتنا خطرناک ہے کہ اس کی وجہ سے قوموں کی ترقی رک جاتی ہے اور وہ ذلت و رسوائی کی تاریکیوں میں ہمیشہ کے لئے گم ہوجاتی ہیں۔ ان کی نسلیں غلامی کو قابل فخر، نجات کا راستہ اور آمنا و صدقنا کو وظیفہء حیات سمجھنے لگتی ہیں۔ جب یہ مرض کسی معاشرے میں در آئے تو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ معاشرہ بہت جلد دھتکارے ہوئے سماج میں بدلنے والا ہے جس کی حیثیت زرخرید غلاموں سے بھی بد تر ہوگی۔ کتنی تعجب کی بات ہے کہ ہمارے درمیان موجود کچھ لوگ ہمیں مذہب اور دانش کے نام پر بے وقوف بنا نے میں لگے ہوئے ہیں تاکہ سماج میں ان کا دبدبہ اور رعب قائم رہے اور ہم یہ بات سمجھنا تو دور سننے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔ ان کے پالتوؤں کی ایک بھیڑ نے ان کی ہر بات پر آمنا...