Posts

Showing posts from November, 2019

Zaban-e-Khalq زبان خلق ، شمارہ 29

Image

تلخ و تُرش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

٭پورے ملک میں این آر سی کا نفاذ اقلیتوں اور کمزور لوگوں کو مشکل میں ڈالے گا۔۔۔۔۔۔ اے آئی ایم آئی کے صدر اسد الدین اویسی صدر صاحب سے بصد عجز و انکسار عرض ہے کہ ان کی بے لگام سیاست نے اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کو جن کھٹنائیوں سے دو چار کر رکھا ہے اس کے ہوتے اور کوئی مشکل، اتنی مشکل نہیں ہوگی۔ ٭اسرائیل کے اٹارنی جنرل اویچائی منڈیلبلیٹ نے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو پررشوت لینے، دھوکا دہی کرنے اور اعتماد شکنی کے الزام عا ئد کئے ہیں۔۔۔۔۔ ایک خبر جس ملک   کی بنیاد ہی دھوکہ دہی اور اعتماد شکنی پر رکھی گئی ہو، اس ملک کے وزیر اعظم پر ایسا الزام۔۔۔۔ یقینا دال میں کچھ کالا ہے۔ کہیں یہ انگلی کٹا کر شہیدوں میں شامل ہونے کی کوشش تو نہیں !!! ٭ریوئیو پٹیشن، مسلم پرسنل لاء بورڈ اور بھارت کے مسلمان۔۔۔۔ ایک عنوان لگتا ہے پھر سے کوئی نیا چکر ویو شروع ہونے والا ہے، خدا خیر کرے۔   ٭فیس بک کی ملکیت والے پلیٹ فارم وہاٹس ایپ نے کہا ہے کہ ہندوستان میں عام انتخابات کے دوران صحافیوں اورہیومن رائٹس کارکنوں پر نگرانی کے لئے اسرائیل کے اسپائی ویئر پیگاسس کا استعمال کیا گیا۔۔۔ ایک خبر ...

اِتمام حُجت کس پر؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

جرعات حالیہ عدالت عالیہ کے فیصلوں سے یہ بات یقینی ہوچکی ہے کہ بھارت تاریخ کے ایک نئے موڑ میں داخل ہو چکا ہے۔ ایک ایسے موڑ میں جہاں اکثریتی جبر بھارت کی مثالی رواداری اور بھائی چارگی پر حاوی ہوچکی ہے۔ فاشسٹ طاقتوں نے کمال عیاری سے عوام کی ایک بڑی تعداد کو ایسے مسئلوں میں الجھا دیا ہے جن کی کوئی زمینی حقیقت نہیں ہے۔ سرمایہ دار وں، نام نہاد مذہبی قائدین اور نوکر شاہی کے گٹھ جوڑ سے ایک ایسا تکون وجود میں آگیا ہے جس کی ہر چوٹی پر فساد اور انتشار کا نوکیلا خنجر گڑا ہے۔ نفرت اور عداوت کے نئے زاویے تراش کر معاشرے کو ہمیشہ کے لئے تقسیم در تقسیم کی راہ پر لگا دیا گیا ہے۔ ان سب کے پیچھے ایک ہی مقصد ہے کہ کسی بھی طرح اقتدار پر گرفت مظبوط کی جائے اور اس گرفت میں ہمیشگی لائی جائے۔ وطن عزیز میں امت کا المیہ یہ ہے کہ آپ، آج بھی ماضی میں جی رہے ہیں۔آپ کی زبوں حالی کی وجہ زمینی حقائق سے مسلسل چشم پوشی ہے، نہ آپ کو اس بات کا ادراک ہے کہ اب آپ اقتدار سے بے دخل ہوچکے ہیں اور نہ آپ اس بات پر یقین کرنے کو تیار ہیں کہ معاشی، سیاسی، سماجی ہر اعتبار سے آپ کی حیثیت صفر ہوگئی ہے۔ آپ کی پہچان ایک ایسے...

Zaban-e-Khalq زبان خلق ، شمارہ 28

Image

تلخ وترش ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقی

                                              ٭ دہلی کے تیس ہزاری کورٹ میں پولیس اور وکیلوں کے درمیان ہوئی جھڑپ‌کے بعد پولیس اہلکاروں پر ہوئے حملے کی مخالفت میں منگل کو سینکڑوں پولیس اہلکاروں نے پولیس ہیڈ کوارٹر   کے باہر مظاہرہ کیا۔۔۔۔۔ ایک خبر عدالت میں تو ایسا   بہت بار دیکھا لیکن پولیس، وکیلوں سے سڑک پر بھی ہار جائے گئی،   سوچا بھی نہیں تھا۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ پولیس والوں کی حفاظت کے لئے ایک نئے فورس کی تشکیل کرے۔ ٭اسامہ اور بغدادی کے خلاف امریکی آپریشن میں کیا مماثلت ہے؟۔۔۔۔ ایک سوال اسامہ اور بغدادی کو   پال پوس کر بڑا کر کے ان سے جتنا کام لینا تھا لے لینے کے بعد ان کو ختم کر نے کے لئے خفیہ آپریشن کر کے ان کی لاشیں بھی دنیا کو دکھائے بغیر اس کہانی کو انجام تک پہنچانے کی، اس ہالی ووڈ تھرلر کی ہر سین کا اسکرپٹ ایک ہی ہے۔ تماشا ...

ہمارے ترجیحات کا المیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقی

Image
                               پہلی جنگ آزادی کے بعد بر صغیر میں مسلمانوں نے اپنی بد ترین شکست کو لے کر، اپنے صفوں کی ترتیب نو کے لئے جو ترجیحات قائم کئے اُن کا باریک بینی سے اگر جائزہ لیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ اُس وقت ملت مستقبل سے زیادہ ماضی اور وقتی طور پر حال سے جڑے رہنے پر بضد تھی۔ اُس کی تمام تگ ود وکا مقصد صرف یہ تھا کہ کسی طرح پھر سے حکومت کا تاج مسلمانوں کے سر وں پر سج جائے اور ان کے مذہبی تشخص پر کسی قسم کی آنچ نہ آئے۔مسلم لیگ کی سیاست،اس کے نتیجے میں ملک کی تقسیم اور ملک بھرمیں پھیلا مدرسوں کا جال اس کے ثبوت ہیں۔ اُس وقت ہوسکتا ہے، شکست کی وجہ سے حالت اضطرار میں لئے گئے ان ترجیحات کی افادیت رہی ہو لیکن وقت گزرنے کے بعد بھی انہیں سے جڑے رہنے کی ضد کی وجہ سے امت کو جو نقصان پہنچا ہے اس کی بھر پائی ناممکن حد تک مشکل ہے۔ اپنے وقت پر سر سید احمد خان نے ترجیحات بدلنے کی ایک کوشش ضرور کی تھی لیکن کچھ ان کی متنازعہ فیہ مذہبی اختلافات کی وجہ سے ان کی کوششیں عوامی تحریک نہ بن سکیں۔ ر...