تلخ و ترش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق رفیقی
٭وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں گجرات گرین ہائیڈروجن ہب بننے جا رہا ہے پٹرول ڈیزل پر چلنے والی کاریں گرین ہائیڈروجن سے چلیں گی ، ہم اس سمت میں کام کر رہے ہیں ۔۔۔ یو این آئی
صاحب نے کہا ہے تو ایسا ضرور ہوکر رہے گا، اور ویسے بھی صاحب کی کرپا سے گجرات بہت ساری چیزوں کا ہب بن چکاہے اور وہاں ایک ایسی لیبارٹری بھی بن چکی ہے جہاں، صاحب کے "آشاؤں کا بھارت" بنانے کے لئے خاص تجربات ہوتے ہیں۔
٭ عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ ملک کو ایسے الیکشن کمشنرز کی ضرورت ہے جو ضرورت پڑنے پر وزیر اعظم پر کاروائی کرنے سے بھی نہ ہچکچائیں ، اور وہ گھٹنے ٹیکنے والا اور ہر بات پر جی حضور کہنے والا نہ ہو۔۔۔ دی ہندو
ناممکن حد تک مشکل ہے، بھگتوں کے سنسار میں جہاں ہر بات بھگتی کی دشا سےآتی ہو ایسی آشا رکھنا بھی سرکشی میں شمار ہوسکتی ہے۔
٭ فیفا ورلڈ کپ 2022 کے دوران قطر میں جا بجا تبلیغ دین کے مظاہرے دکھائی دے رہے ہیں ۔ بعض مسلم خواتین نے غیر مسلم خواتین کو حجاب سے متعارف کرانے کی مہم شروع کی ہے جس کی خوب پزیرائی ہو رہی ہے الجزیرہ کے رپورٹ کے مطابق غیر مسلم خواتین نے حجاب پہن کر اچھا محسوس کیا ہے ۔۔۔ ترکیہ اردو
ممکن ہے ایسا ہی ہو لیکن یہ بہت ہی مہنگی تبلیغ ہے۔ جتنی رقم قطر کی حکومت نے اس کھیل کے لئے لگائی ہے اگر اس کا عشر بھی راست تبلیغ میں لگاتی تو کیا کچھ ہوسکتا ہے یہ ہر انصاف پسند سوچ لے ۔
٭ وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ کی گئی تقریباً تمام تقرری اور ان کے ذریعہ لئے گئے سارے فیصلے بغیر مشاورت ، کنونشن اور آئین کو طاق میں رکھ کر لئے گئےہیں ۔۔۔ کانگریس پارٹی
صاحب سمراٹ ہیں، وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں، ان سے سوال کرنے کا حق کسی کو بھی نہیں ہے اور جو سوال کرتا ہے در حقیقت وہ راج دروہ کا مرتکب ہوتا ہے۔
٭مہاراشٹر،" میں مرکزی حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ایمیزون پارسل واپس لے لیں جو انہوں نے گورنر کی شکل میں بھیجا ہے"۔۔۔ شیوسینا لیڈر ادھو ٹھاکرے
اگر ایسا ہو بھی گیا جس کی امید کم ہی ہے تو جو دوسرا پارسل آئے گا اس میں سے کیا کوئی بہتر شکل نکلے گا؟ ہوسکتا ہے وہ موجودہ شکل سے بھی خطرناک شکل ہو !!!!!۔
٭ جرمنی کی نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ روس کے ’’دہشت گردانہ طریقہ کار‘‘ کی وجہ سے معصوم افراد مارے جا رہے ہیں۔ یوکرینی شہروں اور تنصیبات پر اس کے مسلسل فضائی حملے ’’ریاستی دہشت گردی‘‘ کے مترادف ہیں۔۔۔ ڈی ڈبلیو اردو
اور جو لبیا، عراق اور افغانستان کے شہروں پر فضائی حملے کئے گئے تھے جس میں لاکھوں لوگ مارے گئے تھے، کیا وہ ریاستی دہشت گردی کے مترادف نہیں ؟ اگر نہیں تو پھر آج کیسے ہو گئے ۔ یعنی آپ کا خون خون، ہمارا خون پانی !! کتنا بھی بہا دو کوئی فرق نہیں پڑے گا اور نہ کہیں حساب دینا ہوگا۔
٭’’ایک دن کے لیے سی بی آئی، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ میرے حوالے کر دیں، آدھی بی جے پی جیل میں ہوگی‘‘۔۔۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اور عاپ پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال (این ڈی ٹی وی)
اور آدھی بی جے پی آپ کی پارٹی میں ۔ یعنی آپ بھی وہی کھیل کھیلیں گے جو آج کل صاحب کھیل رہے ہیں۔ واہ جی مفلر انکل! بہت خوب
٭ کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر ایک اور شدید حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ جب پورا ملک انگریزوں کے خلاف لڑ رہا تھا، دائیں بازو کی جماعت انگریزوں کی حمایت کر رہی تھی ۔۔۔ آئی اے این ایس
منفی انداز میں ہی سہی، گودی میڈیا کی سرخیوں میں آنے کے لئے کانگریسی رہنما کے یہ بیانات کمال کی سیاست ہے ۔ شاید انہیں اندازہ ہوگیا ہے کہ جب تک وہ موجودہ حکومت کو فکری اور نظریاتی کمک پہنچانے والوں پر راست حملہ نہیں کریں گے، یہ جنگ نہیں جیت سکتے۔
٭ جرمنی میں ہم جنس پرستوں کی خاطر کیتھولک چرچ نے قانون بدل دیا جرمنی میں تقریباً آٹھ لاکھ افراد چرچ میں کام کرتے ہیں، جس نے اپنے لیبر قوانین میں تبدیلی کی ہے تاکہ جو لوگ ہم جنس پرست ہیں یا جو طلاق کے بعد دوبارہ شادی کرلیں، انہیں ملازمت سے برطرف نہ کیا جا سکے۔۔۔ ڈی ڈبلیو اردو
ایک وہ ہیں کہ برائی کے لئے خدائی قانون میں آسانی سے تبدیلی کر لیتے ہیں اور ایک ہم ہیں کہ اچھائی کے لئے بھی خدائی قانون کے نام پر بنائے گئے اپنے نام نہاد قانون میں زیر زبر تبدیل کرنے کے بھی قائل نہیں ۔
٭ مرکزی حکومت کی طرف سے ہر ماہ اوسطاً 15 سے 16 لاکھ ملازمتیں پیدا ہو رہی ہیں۔۔۔ مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو اجمیر میں سنٹرل ریزرو پولیس فورس کے ’روزگار میلہ‘ میں
اگر ایسا ہے تو ملک میں اتنی بے روزگاری کیوں ہے؟ غربت کی شرح میں اتنی تیزی سے اضافہ کیوں ہورہا ہے؟ زمینی سطح پر ان 15-16 لاکھ ملازمتوں کے نتائج کیوں دکھائی نہیں دے رہے ہیں؟ سب مایا ہے مایا!!!
Comments
Post a Comment