ہمارے ترجیحات کا المیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقی

                              

پہلی جنگ آزادی کے بعد بر صغیر میں مسلمانوں نے اپنی بد ترین شکست کو لے کر، اپنے صفوں کی ترتیب نو کے لئے جو ترجیحات قائم کئے اُن کا باریک بینی سے اگر جائزہ لیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ اُس وقت ملت مستقبل سے زیادہ ماضی اور وقتی طور پر حال سے جڑے رہنے پر بضد تھی۔ اُس کی تمام تگ ود وکا مقصد صرف یہ تھا کہ کسی طرح پھر سے حکومت کا تاج مسلمانوں کے سر وں پر سج جائے اور ان کے مذہبی تشخص پر کسی قسم کی آنچ نہ آئے۔مسلم لیگ کی سیاست،اس کے نتیجے میں ملک کی تقسیم اور ملک بھرمیں پھیلا مدرسوں کا جال اس کے ثبوت ہیں۔ اُس وقت ہوسکتا ہے، شکست کی وجہ سے حالت اضطرار میں لئے گئے ان ترجیحات کی افادیت رہی ہو لیکن وقت گزرنے کے بعد بھی انہیں سے جڑے رہنے کی ضد کی وجہ سے امت کو جو نقصان پہنچا ہے اس کی بھر پائی ناممکن حد تک مشکل ہے۔ اپنے وقت پر سر سید احمد خان نے ترجیحات بدلنے کی ایک کوشش ضرور کی تھی لیکن کچھ ان کی متنازعہ فیہ مذہبی اختلافات کی وجہ سے ان کی کوششیں عوامی تحریک نہ بن سکیں۔ رہ سہی کثر ملک کی تقسیم اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات نے پوری کردی۔ اور یوں اضطراری حالات میں لئے گئے کچھ ترجیحات آج امت کا مقصد عین بن چکے ہیں۔
کتنی حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ تقسیم اور ملک کے آزاد ہوئے ۰۷ سال بیت چکے ہیں،ہمارے سامنے سماج کے سب سے زیادہ دھتکارے گئے طبقات،تعلیم اور معاشی میدان میں ہم سے بہت آگے بڑھ چکے ہیں، لیکن ہم وہیں کہ وہیں بلکہ اور تنزل کی طرف تیزی سے رواں دواں ہیں۔ اس کی وجہ ہمارے ترجیحات ہیں، آج بھی ہمارے نزدیک اپنا نام نہاد مذہبی تشخص، اُس سے جڑی روایات اور رسومات اہم ہیں، ہم جاہل رہ جائیں گے، بھیک مانگنے کی ذلت گوارا کر لیں گے لیکن اپنی پہچان کی قربانی نہیں دیں گے۔ حالانکہ ہم نے جس چیز کو اپنا مذہبی تشخص سمجھ رکھا ہے اس کا حقیقی اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ اسلام ایک دعوت ہے حق کی طرف، ایک دین ہے، راستہ ہے سچائی کا، نہ اس کی کوئی الگ ثقافت ہے نہ کوئی اس کی تہذیب، یہ ہر ثقافت اور ہر تہذیب کے لئے ان میں مداخلت کئے بنا راستی اور صداقت کا مینارہ نور ہے۔ اسلام خود کوئی ثقافت و تہذیب نہیں بلکہ دنیا بھر میں موجود ثقافت و تہذیب پر چڑھے زنگ اور گند کو دور کر کے ان کو چمکانے کا ایک خدائی طریقہ ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمارا اولین فرض یہی ہے کہ ہم اس زمین میں موجود ہر تہذیب و ثقافت کے آگے اسلام کی دعوت پیش کریں، ہر حال میں ان سے تصادم سے گریز کریں، لیکن ہیہات!! ہیہات!!! ہم نے اپنے اس فرض منصبی کو بھلا دیا، اسلام کے نام پر اپنی ایک تہذیب بنا لی اور دوسرے تہذیبوں سے تصادم کو اپنی ترجیحات میں شامل کر کے خدائی مدد سے بھی محروم ہوگئے کیونکہ ہم اسلام کی نہیں اپنی نام نہاد تہذیب کی ترویج اور ترقی چاہتے ہیں۔ 
اگر ہم نے اضطراری حالت سے نکلنے کے فورا بعد، اپنا فرض منصبی پہچانا ہوتا تو بحیثیت داعی ہماری ترجیحات اور ہوتے۔ عالی شان مساجد اور مدرسے بنانے میں ہم نے جو دولت اور وقت ضائع کی اس کی جگہ رفاہی کام کرتے، معاشرے میں تقلیدی نہیں غور و فکر والی تعلیم عام کرتے، سماج کی معاشی ترقی کے لئے منصوبے بناتے اور بلا تفریق ِ قوم مذہب عوام کو روزگار فراہم کرتے تو آج وطن عزیز میں ہماری حیثیت اور ہوتی۔ حکومت کی گلیاروں میں ہماری بات سنی جاتی، شر پسندوں کے شر کے باوجود لوگ ہماری عزت کرتے کیونکہ وہ دیکھتے کہ ہم ان کے ادا کردہ ٹیکس پر مفت روٹیاں نہیں توڑ رہے ہیں بلکہ اپنی دولت، محنت اور قابلیت، اُن کی فلاح و بہبودی پر خرچ کر رہے ہیں۔ کاش ایسا ہوا ہوتا۔
جب جاگو تبھی سویرا، ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا،اگر ہم نے آج ہی یہ بات ٹھان لی کہ ہم اپنی ترجیحات بدل دیں گے، ہر قسم کے تصادم سے گریز کر تے ہوئے ایک داعی کی طرح مستقبل کے لئے اپنا لائحہ عمل طے کریں گے، اپنی دولت، محنت اور وقت نام نہاد مذہبی تشخص کے لئے نہیں رفاہ عام کے لئے خرچ کریں گے، معاشرے سے جہالت کو مٹانے کے لئے غور وفکر والی تعلیم عام کریں گے، تقلیدی سوچ اور عمل کی ترویج میں کوئی کردار ادا نہیں کریں گے، لاکھوں کروڑوں کی دولت عبادت خانوں تقلیدی سوچ عام کرنے والے درس گاہوں پر لگانے کے بجائے اللہ کے بندوں کے لئے شفا خانے،  لاوارثوں کے لئے راحت گھر، غور و فکر والی تعلیمی ادارے بنائیں گے جہاں بلا تفریق مذہب و قوم تمام انسان یکساں سمجھے جائیں گے اور ان کی خدمت کی جائے گی تو یقین جانئیے جس سیادت اور عزت  کے لئے ہم برسوں سے سرگرداں ہیں وہ ہمیں مہینوں میں مل جائے گی اور آخرت کا اجر تو ہمارا ایمان ہے۔ اللہ ہمیں سمجھ دے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

مسجد خدمت کمیٹی، ایک تعارف، ایک جائزہ ............................... اسانغنی مشتاق رفیقیؔ

تلخ و ترش ........................ اسانغنی مشتاق رفیقیؔ

لوگوں میں بڑھتی ہوئی بے یقینی اور ہمارا فرض منصبی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ