Posts

Showing posts from December, 2019

Zaban-e-Khalq زبان خلق ، شمارہ 30

Image

تلخ و ترش ................. اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

٭شہریت ترمیم بل: شیو سینا نے مودی حکومت پر لوگوں کو ہندو،مسلمان میں بانٹنے کا الزام لگایا۔۔۔ ایک خبر سیاست میں کب کیا ہوجائے اور کون کس کی حمایت میں کھڑا ہوجائے، کچھ کہا نہیں جاسکتا!!   لیکن یہ بات یاد رہے کہ شیو سینا کی سیاست ہمیشہ ابن الوقتی رہی ہے، زیادہ خوش فہمی میں مبتلا ہونے سے احتراز کریں۔ ٭ہندوستان اقتصادی بحران کی زد میں ہے، تمام اختیارات وزیراعظم دفتر کے پاس ہونا معیشت کے لئے ٹھیک نہیں۔۔۔ آر بی آئی کے سابق گورنر رگھو رام راجن ” معیشت کے لئے ٹھیک ہویا نہ ہو لیکن حکومت اور سیاست کے لئے اختیارات کا وزیر اعظم دفتر کے پاس ہونا ضروری ہے۔ ایک اور بات ہندوستان میں کوئی اقتصادی بحران نہیں ہے۔ بس اینٹی نیشنلس نے ایک ہوا کھڑا کر رکھا ہے اور کچھ نہیں، یہ جو مارکیٹ میں اتھل پتھل ہے یہ سب تو چلتا رہتا ہے، اصل مسئلہ حزب اختلاف کی مائنارٹی اپیزمنٹ پالیسی ہے جب تک اس کے جواب میں میجارٹی ووٹ بینک مضبوط نہیں کیا جائے گا پریشانیاں ختم نہیں ہونگی “ ایک بھگت کا خیال۔ ٭سپریم کورٹ نے بھوک سے ہوئی اموات پر سبھی ریاستوں کو نوٹس جاری کیا۔۔۔ ایک خبر لیکن یہ خبر کہیں بھی سرخی نہ بن...

جو ڈر گیا، سمجھو مرگیا ..................... اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

جرعات     چند دہائیوں قبل کی بات ہے کہ ہم میں سے کئی لوگوں نے فلم شعلے میں ایک مکالمہ سنا تھا،”جو ڈر گیا، سمجھو مرگیا“ ہمارا خیال ہے کہ شایدہی کسی نے اس کو بھول پایا ہو۔ انسان کی زندگی میں ڈر اور گھبراہٹ ایسے رویے ہیں جو جیتے جی انسانوں کو مار دیتی ہیں۔ گھبرایا اور ڈرا ہوا انسان نہ خود جیتا ہے نہ اوروں کو جینے دیتا ہے،وہ نہ صرف خود کی بلکہ دوسروں کی زندگی بھی برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔ڈر اور گھبراہٹ یعنی خوف انسان کو نفسیاتی مریض بنا دیتے ہیں۔اگر ڈر اور خوف کو کسی انسانی سماج پر مسلط کیا جائے تو یہ اور زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے، اس کے رد عمل میں زمین کا ایک بڑا حصہ انارکی اور لاقانونیت کا شکار ہوجاتا ہے۔ وطن عزیز کی بد قسمتی کہ آج کل اُس پر ایک ایسا ٹولہ بر سر اقتدار ہے جو اپنی انتہا پسند نظریات کو ملک پر تھوپنے کے لئے سرمایہ داروں سے مفاہمت کر کے ذرائع ابلاغ کے ہر شعبے کو اپنے قبضے میں لے کر عوام کی ایک بڑی اکثریت کو ڈر اور خوف میں مبتلا کر نے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر نے کے لئے جہاں ایک طرف وہ اکثریت کے دلوں میں اقلیت کا ڈر پیدا کر کے ا...