تلخ و ترش ................. اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ
٭شہریت
ترمیم بل: شیو سینا نے مودی حکومت پر لوگوں کو ہندو،مسلمان میں بانٹنے کا الزام لگایا۔۔۔
ایک خبر
سیاست میں کب کیا
ہوجائے اور کون کس کی حمایت میں کھڑا ہوجائے، کچھ کہا نہیں جاسکتا!! لیکن یہ بات یاد رہے کہ شیو سینا کی سیاست ہمیشہ
ابن الوقتی رہی ہے، زیادہ خوش فہمی میں مبتلا ہونے سے احتراز کریں۔
٭ہندوستان
اقتصادی بحران کی زد میں ہے، تمام اختیارات وزیراعظم دفتر کے پاس ہونا معیشت کے لئے
ٹھیک نہیں۔۔۔ آر بی آئی کے سابق گورنر رگھو رام راجن
”معیشت کے لئے ٹھیک
ہویا نہ ہو لیکن حکومت اور سیاست کے لئے اختیارات کا وزیر اعظم دفتر کے پاس ہونا ضروری
ہے۔ ایک اور بات ہندوستان میں کوئی اقتصادی بحران نہیں ہے۔ بس اینٹی نیشنلس نے ایک
ہوا کھڑا کر رکھا ہے اور کچھ نہیں، یہ جو مارکیٹ میں اتھل پتھل ہے یہ سب تو چلتا رہتا
ہے، اصل مسئلہ حزب اختلاف کی مائنارٹی اپیزمنٹ پالیسی ہے جب تک اس کے جواب میں میجارٹی
ووٹ بینک مضبوط نہیں کیا جائے گا پریشانیاں ختم نہیں ہونگی “ ایک بھگت کا خیال۔
٭سپریم
کورٹ نے بھوک سے ہوئی اموات پر سبھی ریاستوں کو نوٹس جاری کیا۔۔۔ ایک خبر
لیکن یہ خبر کہیں
بھی سرخی نہ بن سکی، افسوس ہمیں حقائق سے زیادہ تماشے اچھے لگتے ہیں۔
٭چائلڈ
اسمگلنگ کے معاملے میں راجستھان ٹاپ پر، بہار سے ہر دن ایک بچے کی اسمگلنگ۔۔۔ نیشنل
کرائم ریکارڈ بیورو
بچوں کو کسی بھی قوم
و ملک کا مستقبل کہا جاتا ہے، یہاں ایسا لگتا ہے ہر دن ہمارا مستقبل اسمگلنگ ہورہا
ہے اور قائدین ملک کرسی کے چکر میں اسے ہونے دے رہے ہیں، پتہ نہیں کب ہمیں عقل آئے
گی۔
٭کرناٹک
ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی بڑی جیت، 14 میں 12 سیٹیوں پر کامیاب،
2 سیٹیں کانگریس کے
حق میں اور جنتا دل سیکولر کھاتہ کھولنے میں ناکام۔۔۔ ایک خبر
کانگریس کی گھمنڈ
ہی آج اُس کی اس درگت کا کارن ہے۔ بی جے پی کی جیت در حقیقت جیت نہیں اپوزیشن کی سر
پٹھول کا نتیجہ ہے۔
٭جھارکھنڈ
کے سرائے کیلا میں ہوئی تبریز انصاری موب لنچنگ سے متعلق کیس کی سماعت میں رانچی ہائی
کورٹ نے 11 میں سے 6 ملزمین کو ضمانت پر
آزاد کرنے کا حکم صادر کیا۔۔۔ ایک خبر
باقی بانچ کی بھی
کچھ دنوں بعد ضمانت ہوجائے گی اور پھر ایک دن عدم ثبوت کے بنا پر مقدمہ خارج کردیا
جائے گا۔ اندھیرنگری چوپٹ
راج میں ایسا ہی ہوتا
ہے۔ مظلوموں کو انصاف نہیں ملتی اور ظالموں کو تمغات اور عہدے سے نوازا جاتا ہے۔
٭سعودی
ریسٹورنٹس میں خواتین کے لئے الگ راستے ختم۔۔۔ بی بی سی
یعنی اب سعودی عرب
میں عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ ریسٹورنٹس میں آ جا سکتی ہیں اور کھا پی سکتی ہیں۔
مفتیان بر صغیر سے اس پر تبصرہ درکار ہے کہ ایسا کرنے سے اُن کی شریعت پر کہاں کہاں
آنچ آتی ہے، تاکہ ہم ایسے کسی بھی گناہ سے بچ جائیں۔
Comments
Post a Comment