Posts

Showing posts from January, 2021

Zaban-e-Khalq زبان خلق ، شمارہ 53 .... برقی ضمیمہ E-Issue

Image
 

Zaban-e-Khalq زبان خلق ، شمارہ 53

Image
 

مسجد خدمت کمیٹی، ایک تعارف، ایک جائزہ ............................... اسانغنی مشتاق رفیقیؔ

تقریباً ڈھائی تین سال پہلے کی بات ہے، محلے کی مسجد میں جیسے ہی جمعہ کی نماز ختم ہوئی ایک صاحب کھڑے ہوگئے اور پانچ منٹ کی مختصر تقریر کی جس کا لب لباب یہ تھا ”آنحضور ﷺ کے زمانے میں مسجدوں کے تحت، خاص کر مسجد نبوی میں چار کام ہوتے تھے، عبادت، دعوت، تعلیم اور خدمت۔ عبادات کا نظام اسی طرز پرآج بھی جاری ہیں، نماز وں سے ذکر و اذکار کی مجلسوں سے مساجد آباد ہیں۔ تعلیم کا نظام بھی کسی نہ کسی شکل میں وعظ و نصائح کے مجالس قائم کرکے اور مکاتب کے ذریعے موجود ہے۔ دعوت کا عمل بھی مسجدوں سے جڑا ہوا ہے۔ لیکن خدمت کے شعبے سے مساجد خالی ہوچکے ہیں۔ حالانکہ اس کی بھی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی عبادت تعلیم اور دعوت کی ہے۔ آپ ﷺ کے دور میں اور خلفائے راشدین کے دور میں خدمت کے جتنے بھی کام انجام پاتے تھے وہ مسجد کے تحت ہی انجام پاتے تھے۔ غرباء اور ضرورت مندوں کی مدد، مسکینوں کو کھاناکھلانا، بیمار وں کے علاج کے لئے مسجدوں سے ہی انتظام کئے جاتے تھے۔ مسجدوں کے تحت،خدمت کے اس عمل کو پھر سے جاری کرنے کے لئے مسجد خدمت کمیٹی کے نام سے ایک کمیٹی ہمارے صوبے میں کچھ سالوں سے کام کر رہی ہے۔ آج آپ کے مسجد میں اس کی شاخ قائم ...

تلخ و ترش ........................ اسانغنی مشتاق رفیقیؔ

    ٭پیٹ پر پتھر باندھ کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں مسلمان، اب ہمیں ایسے اسکولوں کی ضرورت ہے جس میں مذہبی شناخت کے ساتھ ہمارے بچے دنیاوی تعلیم حاصل کرسکیں۔۔۔صدر جمعیتہ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی صدر جمعیتہ سے عاجزانہ التماس ہے کہ پہلے وہ اپنے اور اپنے زیر اثر مدرسوں کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے لئے پیٹ پر باندھے بغیر ہی ہر ممکن کوشش کریں، باقی رہے عامی مسلمان تو وہ دو روز ہ دنیا کے لئے اپنے بچوں کو عصری اعلیٰ تعلیم دلوا کر کیوں اپنی اور اُن کی عاقبت برباد کریں۔ بقول ہمارے ایک کرم فرما کہ۔۔۔ جس تعلیم کی کوئی فضیلت ہی نہیں اس کا حصول در حقیقت وقت کا زیاں ہے۔ ٭کیا امریکی جمہوریت خطرے میں ہے؟۔۔۔ ایک سوال بلکل نہیں، کیونکہ وہ مضبوط قوت ارادی رکھنے والے عیار سرمایہ داروں کے زیر اثر ہے۔ وہ ایک دو نہیں ہزاروں خطروں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وقتی طور پر اس کے امیج کو دھکا ضرور لگا ہے لیکن اس کا اندرون انتظامی ڈھانچہ اتنا مضبوط ہے کہ ہمیں کسی بھی طرح کی خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ٭ہندوستانی مسلمانوں کا المیہ، ہوئے اپنے ہی گھر میں بیگانے۔۔...

سوال اور تحقیق و جستجو سے گریز کے نتائج ............................... اسانغنی مشتاق رفیقیؔ

  جرعات   ایک بالغ،صحت مند اور مضبوط معاشرے کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہاں ہر ایک کو سوال کرنے کی مکمل آزادی ہوتی ہے۔کیونکہ سوال سے ہی تحقیق اور جستجو کے دروازے کھلتے ہیں، غور و فکر کے نئے جہت آشکار ہوتے ہیں، سوچ کو جلا ملتی ہے اور پھر اس کے نتیجے میں معاشرہ تیزی سے ترقی کی طرف گامزن ہوتاہے۔ جس معاشرے میں سوال پر پابندی ہو وہ معاشرہ جمود کا شکار ہو کر تنزل کی راہ پر لگ جاتا ہے۔ مسلمانوں کے دور اول میں جو معاشرہ تشکیل پایا تھا اس کی سب سے بڑی خوبی یہی تھی کہ وہاں سوال کرنے کی آزادی تھی۔ سائل کا ہر سوال چاہے اس سے کفر شرک کو تقویت ملتی ہو یا بغاوت کی بو آتی ہو،سکون و اطمینان سے سنا جاتا تھا اور ارباب حل وعقد اس کا تسلی بخش جواب دینے کو اپنا فریضہ سمجھتے تھے۔ جہاں جواب دینے میں دقت ہوتی وہاں مصحف اعظم کے پیش کردہ اصول و ضوابط پر غور و فکر اور تحقیق کے ذریعے نئے زاویئے کھوجے جاتے اور ایسے بیانیے تشکیل دئے جاتے کہ سائل اطمینان قلب پاجاتا۔لیکن ان بیانیوں کو بھی حتمی نہیں سمجھا جاتا بلکہ ان پر زمانے کے بدلتے روش کے ساتھ تبدیلی کو ناگزیر سمجھا جاتا۔اس دور کے مسلمان قرآن و سنت کے ذر...

Zaban-e-Khalq زبان خلق ، شمارہ 52

Image

تلخ و ترش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

  ٭کسان سرکار اور عدالت کا بھروسہ کیسے کریں؟۔۔۔ ایک سوال اسی طرح جیسے پندرہ لاکھ اکاؤنٹ میں ٹرانسفر پر کیا، سب کا ساتھ سب کا وکاس اور سب کا وشواش پرکیا، بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ پر کیا، سوچھ بھارت پر کیا، یقین رکھیں سرکار اپنے تمام نعروں اور باتوں میں سنجیدہ ہے، لیکن عوام، وقت اور قدرت ساتھ نہیں دے رہے ہیں اس کی وجہ سے وعدے پورے کرنے میں دیری ہورہی ہے۔ سرکار کے متعلق خوش گمان رہیں، دکھوں سے مکتی یقینی ہے۔ ٭مسلمانوں کی ترقی تعلیم سے ہی ممکن ہے۔۔۔ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی کوئی کہتا ہے زمانے کے کاندھوں سے کاندھا ملا کر چلنے سے،کوئی کہتا ہے اُن کے اکابرین کے تقلید سے، کوئی کہتا ہے بزرگوں اور مشائخ کے درگاہوں اور خانقاہوں میں حاضری سے اور انہیں مشکل کشا ماننے سے، کوئی کہتا ہے مکمل سیاست میں داخل ہونے سے، کوئی کہتا مدراس کو اسلام کا قلعہ مان کر انہیں اور مضبوط کرنے سے، پتہ نہیں کس کی بات درست ہے، کس کی بات پر یقین کریں اور کس کی بات کو قابل عمل سمجھیں۔ جہاں تک تعلیم سے ترقی کی بات ہے ذوق اس پر بہت پہلے کہہ گئے ہیں آدمیت اور شئے ہے علم ہے کچھ اور چیز کتنا طوطے کو پڑھایا پر و...

لوگوں میں بڑھتی ہوئی بے یقینی اور ہمارا فرض منصبی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

جرعات دنیا جس تیزی سے ترقی کی طرف بڑھ رہی ہے اسی تیزی سے اپنا اعتبار بھی کھوتی جارہی ہے۔ ہر چیز پر بے یقینی کے بادل گہرے ہوتے جارہے ہیں۔ انسان اپنی زندگی کو پر کیف بنانے کے لئے آرام و آسائش کے ممکنات تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب تو ہوتا جارہا ہے لیکن زندگی کی بے یقینی کو یقین سے بدلنے میں ٓج بھی ناکام ہے۔ آسمان پر کمندیں ڈالنے والا، چاند اور ستاروں کو فتح کر لینے کا دعویدار، سمندر کی تہہ کو چھو آنے والا، خلاؤں کو اپنی وجود کا احساس دلانے ولا انسان جب ایک جرثومے سے ڈر کر چوہوں کی طرح اپنی بلوں میں چھپنے لگتا ہے تو حیرت ہی نہیں، اپنے آپ پر اپنی نام نہاد صلاحیتوں پر اُس کی بے یقینی نمایاں ہوتی ہے۔ تعجب ہوتا ہے جب یہ بے یقین انسان ایک ایسی دنیا کے لئے جس کے موسم کا، اگلے پل کا کوئی اعتبار نہیں،رنگ و نسل، مذہب اور خدا  اور اپنے قائم کردہ نام نہاد جغرافیائی حدود کے نام پر اپنے ہی جیسے انسانوں کا بے دریغ خون بہاتا ہے، اُن کے ساتھ جانوروں کے جیسا سلوک کرتا ہے، اُنہیں کتے کے پلّے سے تشبیہ دے کر اُن کی ذلیل کرتا ہے، اُن کے لباس پر اُن کے طرز معاشرت پر اُن کے کھانے پینے کے عادات میں دخل ...