Posts

Showing posts from June, 2021

Zaban-e-Khalq زبان خلق ، شمارہ 63 .... برقی ضمیمہ E-Issue

Image
 

Zaban-e-Khalq زبان خلق ، شمارہ 63

Image
 

تلخ وترش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق رفیقی

  ٭این سی پی سربراہ شرد پوار اور سیاسی میدان میں اپنی حکمت عملی کے لئے مشہور پرشانت کشور کی پندرہ دنوں کے تیسری ملاقات، سیاسی قیاس آرائیاں تیز۔۔۔ ایک خبر   جب تک مضبوط حکمت عملی کے ساتھ کوئی لائحہ عمل طے کر کے الیکشن نہیں لڑی جائیگی بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنا مشکل ہے۔ ویسے امید پہ دنیا قائم ہے، دیکھتے ہیں یہ سیاسی ملاقاتیں کیا رنگ لاتی ہیں۔ ٭اتر پردیش کی عوام تبدیلی چاہتی ہے۔۔۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو بے شک عوام تبدیلی چاہتی ہیں، لیکن وہاں کے لیڈران ایسا نہیں چاہتے، اگر وہ ایسا چاہتے توعوام کے خواہشوں کااحترام کرتے ہوئے ایک مضبوط گٹھ بندھن ضرور تشکیل دیتے۔ پتہ نہیں انہیں عقل کب آئے گی، آئے گی بھی کہ نہیں۔ ٭عمر گوتم اور جہانگیر عالم کی گرفتاریاں افسوسناک،ملک میں اقلیتوں کے خلاف میڈیا ٹرائل ایک خطرناک روش۔۔۔مسلم مبلغوں کی گرفتاری کے خلاف مسلم تنظیموں کے احتجاجی بیانات صرف بیانات جاری کردینے سے کچھ نہیں ہوگا۔ ایک مضبوط محاذ قائم کر کے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی دباؤ بناکر اور عدالتی کاروائی کے ذریعے جب تک ان کا منہ توڑ جواب نہیں دیا جائے ...

موت کا خوف، مسلمان اور ویکسین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق رفیقی

    جرعات موت کا خوف ایک ایسا خوف ہے جو دنیا میں بسنے والے ہر انسان کے دل میں پایا جاتا ہے۔ لیکن ہم مسلمانوں کا یہ دعویٰ ہے کہ موت سے خوف کھانا ہماری فطرت میں نہیں اور یہ بات سچ بھی ہے،ہمارے اس دعوے کی دلیل میں تاریخ کے کئی صفحات پیش کئے جاسکتے ہیں،پر اب وہ بات نہیں رہی۔ یہ دعویٰ صرف زبانی جمع خرچ بن کر رہ گیا ہے۔ موت کا خوف اس طرح ہمارے دلوں پر چھا چکا ہے کہ ہم ہر نئی چیز کو اپنے دجود کے خلاف سازش کہہ کر اس سے یا تو فرار اختیار کرلیتے ہیں یا اس کے خلاف نفرت کا بازار گرم کرنے میں لگ جاتے ہیں۔یہ سمجھے اور جانے بغیر کہ جس چیز سے ہم فرار اختیار کررہے ہیں یا جس چیز کے خلاف افواہیں اور نفرت پھیلا رہے ہیں اس میں ہمیں نقصان پہنچانے کی کوئی سکت ہے بھی یا نہیں۔ ہم مسلمانوں میں موت سے اس قدر خوفزدہ ہونے کے بہت سارے عوامل ہیں۔ سب سے بڑی وجہ، حدیث میں بھی جس کی پیشین گوئی موجود ہے، دنیا سے والہانہ لگاؤ اور پرستش کی حد تک محبت ہے۔ جس ایمان کی بدولت موت سے بے خوفی پیدا ہوتی تھی وہ ایمان، قرآن و سنت اور غور و فکر سے دوری، اندھی تقلید اور روایت پرستی کی وجہ سے قصہ ء پارینہ بن چکا ہے۔ ب...

Zaban-e-Khalq زبان خلق ، شمارہ 62

Image
 

تلخ و تُرش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق رفیقی

    ٭اس بار این آر سی اور سی اے اے کا مقابلہ متحد ہوکر کریں۔۔۔ ایک عنوان ناممکن ہے، بھلے سے این آر سی اور سی اے اے کی وجہ سے جو جور و ستم سہنا ہوگا سہہ لیں گے مگر متحد ہونا، یہ ہم سے نہیں ہوگا اور قیامت تک بھی نہیں ہوگا۔۔!!!۔ ٭کیا کووڈ بحران سے وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت میں گراوٹ آئی ہے؟۔۔۔ ایک سوال کوئی گراوٹ نہیں آئی ہے۔ سچ پوچھیں تو بھگتوں کی تعداد میں اور اضافہ ہوا ہے۔سوشیل میڈیا کا کوئی بھی صفحہ کھول کر دیکھ لیں، آپ کو پتہ چل جائے گا۔ جب تک بھارت میں مذہب کی سیاست بلاروک ٹوک جاری رہے گی تب تک شری نریندر مودی کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ ٭کووڈ 19، واٹس اپ یونیورسٹی کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وطن عزیز میں لوگوں نے جس سانحے کا سامنا کیا اس میں سرکار کا کوئی قصور نہیں۔۔۔ ایک خبر بے شک سرکار کا کوئی قصور نہیں ہے۔ لوگوں نے سرکار کو مندر بنانے کے لئے ووٹ دیا، سرکار نے وہ کر دکھایا، لوگوں نے سرکار کو اقلیتوں کو سبق سکھانے کے لئے ووٹ دیا، سرکار نے وہ کر دکھا یا اور اسی طرح لوگوں نے جس جس کے لئے سرکار کو من سے ووٹ دیا سرکار اس راستے پر تیزی ...

جذباتیت، اختلافات اور سیاست ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق رفیقیؔ

    جرعات گزشتہ دنوں سوشیل میڈیا میں ایک ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا، جس میں ایک مخصوص مسلک سے وابستہ صاحب لہک لہک کر ایک شعر سنا رہے تھے جس میں ایک اور مخصوص مسلک کے افراد کو گستاخ رسول کہہ کر ان کا مذاق اُڑایا گیا تھااور بردران وطن کو، اس حوالے سے، ان سے بہتر کہا گیا تھا۔ اس شعر پر پورا مجمع مخصوص نعروں کے ساتھ اُن پر واہ واہ کے ڈونگر ے برسا رہا تھا اور کچھ افراد تو کرنسی نوٹ بھی نچھاور کر رہے تھے۔ ایسے ہی ہمارے لکھے ہوئے ایک مضمون پر، جس میں تمام مسلکی اختلاف کو ایک طرف رکھ کر متحد ہونے کی دعوت دی گئی تھی، اک صاحب تبصرہ کرتے ہوئے اس بات پر اڑگئے کہ اتحاد سے بھی بڑی چیز عقیدہ ہے، ایک بد عقیدہ سے کسی بھی حال میں اتحاد ممکن نہیں،چاہے اس کی وجہ سے پوری امت پر پریشانیوں کا کوئی پہاڑ ہی کیوں نہ گر جائے۔ موصوف کا اس پر اصرار رہا کہ اتحاد تبھی ممکن ہے جب سب اُن کے مسلک کو حق مان لیں۔ اس بیچ فیس بک میں ایک اور مضمون سے سامنا ہوا جس میں نوجوانوں کی جذباتیت کو ہدف بناتے ہوئے انہیں امت کے مسئلوں کو لے کر   سنجیدگی دکھانے کی دعوت دی گئی تھی۔ اور یہ کوئی غلط مشورہ بھی نہیں تھا،...