Posts

Showing posts from November, 2021

Zaban-e-Khalq زبان خلق ، شمارہ 72

Image

تلخ و ترش .................. اسانغنی مشتاق رفیقی

٭وزیر اعظم مودی نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متنازعہ زرعی قوانین منسوخ کئے جائیں گے،مظاہرین سے گھر واپس جانے کی اپیل کی۔۔۔ ایک بڑی خبر کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ ہائے اُس زود پشیماں کا پشیماں ہونا ایک سال تک ہزاروں کسانوں کو احتجاج کے لئے مجبور کر کے انہیں گھر دار سے جدا رکھ کر اور کئی سو کسانوں کے موت کے بعد قوانین کی واپسی ہوئی ہے تو یہ کوئی مہربانی نہیں سیاسی مجبوری ہے۔ ٭گڑگاؤں: ہندوتنظیموں نے گڑگاؤں میں عوامی مقامات پر نماز جمعہ کی مخالفت کی تو سکھوں نے گردوارے کے دروازے کھول دئے۔۔۔ ایک خبر پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے شاید ایسے ہی موقعہ کے لئے کہا گیا مصرعہ ہے،سکھ قوم کے اس دریا دلی کو ہمارا سلام ہے۔ ٭کسانوں کا احتجاج فوری طور پرواپس نہیں ہوگا۔ہم اس دن کا انتظار کریں گے جب پارلیمنٹ میں زرعی قوانین کو منسوخ کر دیا جائے گا۔۔۔ بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت صحیح فیصلہ اور سوچ سمجھ کر لیا گیا دانشمندانہ فیصلہ، کیونکہ ایسے حساس معاملہ میں زبانی باتوں پر بھروسہ کرکے بڑے فیصلے لینا چاہے وہ کسی کے جانب سے بھی کیوں نہ ہو سخت حماقت ہی ہوگی۔ ٭جب تک اقتدار میں ن...

شہر وانم باڑی، برسات، سیلاب اور دریائے پالار کی طغیانی ........................... اساںغنی مشتاق رفیقیؔ،وانم باڑی

جرعات برسات خدا کی بڑی نعمتوں میں ایک نعمت ہے۔ اس کا نہ ہونا جہاں مصیبتوں کے انبار لگا دیتا ہے وہیں اس کا حد سے زیادہ برسنا بھی سخت مشکلات پیدا کردیتا ہے۔ ٹمل ناڈو میں ایک طویل عرصے تک خشک سالی کا دور دورا رہنے کے بعد ادھر کچھ سالوں سے برسات کی بھر مار ہے۔ خاص کر ہمارا علاقہ یعنی ضلع ویلور اور ترپاتور کئی دہائیوں سے خشک سالی میں مبتلا رہا۔ ضلع کی شہہ رگ سمجھا جانے والا دریائے پالار سوکھ کر مختصر ہوتا چلا گیا۔ ہمارے شہر، شہر وانم باڑی میں بھی اس کی شاخوں اور نالوں کو پاٹ کر انسانوں نے آبادیاں بسا لیں، اس کے تالابوں اور نہروں کو انسانی آبادیاں کھاتی چلی گئیں۔ ایسے میں گزشتہ ایک ہفتہ کی لگاتار بارش نے شہر کو جل تھل کر کے رکھ دیا۔ بڑے بڑے محلوں کی کئی گلیوں میں پانی بھر گیا ہے۔ تالابوں میں جگہ کی کمی سے چھلکتا ہوا پانی اپنے کھوئے ہوئے نالوں اور نہروں کی تلاش میں آبادیوں میں گھستا چلا جا رہا ہے اور گھروں میں تباہیاں مچا رہا ہے۔ شہر کے اندر موجود دریائے پالارکی دونوں شاخیں جو گندی نالیوں میں تبدیل ہوچکی تھیں سیلاب کی زد میں ہیں۔ان پر بنائے گئے پُل سیلابی موجوں کی شدت کے آگے سُپر ڈال کر بر...

Zaban-e-Khalq زبان خلق ، شمارہ 71

Image

تلخ و ترش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق رفیقی

٭ترپورہ میں مسلم بھائیوں پر ظلم ہو رہا ہے،تشدد کرنے والے ہندو نہیں ڈھونگی ہیں۔۔۔ کانگریس رہنما راہل گاندھی اتنا کافی نہیں ہے راہل جی! جب تک آپ اور آپ کی پارٹی اقلیتوں اور ہندوتو۱کے سلسلے میں ایک واضح موقف اختیار نہیں کرے گی، ایسی خالی بیان بازی سے کچھ نہیں ہونے والا۔ ٭اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے لئے پہلی شرط فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔۔۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان عوامی سطح پربظاہرگزشتہ ستر سالوں سے سعودیوں کا یہی موقف ہے۔ لیکن ان کے پڑوسیوں نے اپنا موقف تبدیل کر کے اسرائیل سے تعلقات قائم کر لی ہے کیونکہ انہیں پتہ چل چکا ہے کہ موجودہ حالات میں فلسطینی ریاست کا قیام ناممکنات سے ہیں، دیکھنا سعودیوں کو کب اس کا کشف ہوتا ہے۔ ٭یوپی میں خواتین کے لئے چالیس فیصدی سیٹوں کا اعلان، پرینکا گاندھی کا اب تک کا سب سے بڑا سیاسی داؤ کتنا کارگر ہوگا؟کیا خواتین کے ووٹ سے وزیر اعلیٰ بنیں گی پرینکا گاندھی؟۔۔۔ ایک سوال سیاست میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے، لیکن جب مد مقابل بی جے پی جیسی پارٹی ہے تو یہ بات اتنا ُسان نہیں ہے۔ پرینکا گاندھی اور ان کی پارٹی سخت محنت کر کے اپنی امیج کا جو بت کھڑا کر ے گ...

آلام اور مصیبتوں کا انبوہ۔۔۔ کیا یہ آزمائش ہے ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق رفیقی

جرعات رنج و غم، دکھ درد، تکلیف اور پریشانی کا انسانی زندگی کے ساتھ بہت گہرا رشتہ ہے اور یہ رشتہ انسان کی آخری سانسوں تک اس سے جڑا رہتا ہے۔ بقول غالبؔ قید ِ حیات و بندِ غم،اصل میں دونوں ایک ہیں موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں انسان چاہے کتنی ہی ترقی کیوں نہ کرلے،آسمان پر کمندیں ڈال کر خلاؤں اور ستاروں پر کیوں نہ گھر بسا لے، آرام و آسائش کے اشیاء سے اپنی زندگی کو کتنا ہی آسان کیوں نہ کرلے، پھر بھی دل کے کسی کونے میں اسے کسی بات کارنج،دکھ یا تکلیف ضرور محسوس ہوتا رہتا ہے اور کبھی کبھی یہ احساس اسقدرقوی ہوجاتا ہے کہ انسان بددل ہو کر آدم بیزار ہوجاتا ہے گوشہ نشینی اختیار کر لیتا ہے اور دنیا سے ہی سنیاس لے لیتا ہے، یا شدید جھنجھلاہٹ کا شکار ہو کر اپنی حواس کھو بیٹھتا ہے اور پاگل ہوجا تا ہے یا مایوسی کا شکار ہو کر خود کشی کر بیٹھتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ازل سے یہ سوال سوچ بچار رکھنے والے ہر انسان کے آگے ایک للکار کی شکل میں کھڑا ہے۔ اس حوالے سے فلسفیوں اور دانشوروں نے کئی توجہیات پیش کی ہیں، کئی نظریے دئے ہیں، اربوں کھربوں صفحات سیاہ کر کے اس کا حل تلاش کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن سب سے زی...