شہر وانم باڑی، برسات، سیلاب اور دریائے پالار کی طغیانی ........................... اساںغنی مشتاق رفیقیؔ،وانم باڑی

جرعات برسات خدا کی بڑی نعمتوں میں ایک نعمت ہے۔ اس کا نہ ہونا جہاں مصیبتوں کے انبار لگا دیتا ہے وہیں اس کا حد سے زیادہ برسنا بھی سخت مشکلات پیدا کردیتا ہے۔ ٹمل ناڈو میں ایک طویل عرصے تک خشک سالی کا دور دورا رہنے کے بعد ادھر کچھ سالوں سے برسات کی بھر مار ہے۔ خاص کر ہمارا علاقہ یعنی ضلع ویلور اور ترپاتور کئی دہائیوں سے خشک سالی میں مبتلا رہا۔ ضلع کی شہہ رگ سمجھا جانے والا دریائے پالار سوکھ کر مختصر ہوتا چلا گیا۔ ہمارے شہر، شہر وانم باڑی میں بھی اس کی شاخوں اور نالوں کو پاٹ کر انسانوں نے آبادیاں بسا لیں، اس کے تالابوں اور نہروں کو انسانی آبادیاں کھاتی چلی گئیں۔ ایسے میں گزشتہ ایک ہفتہ کی لگاتار بارش نے شہر کو جل تھل کر کے رکھ دیا۔ بڑے بڑے محلوں کی کئی گلیوں میں پانی بھر گیا ہے۔ تالابوں میں جگہ کی کمی سے چھلکتا ہوا پانی اپنے کھوئے ہوئے نالوں اور نہروں کی تلاش میں آبادیوں میں گھستا چلا جا رہا ہے اور گھروں میں تباہیاں مچا رہا ہے۔ شہر کے اندر موجود دریائے پالارکی دونوں شاخیں جو گندی نالیوں میں تبدیل ہوچکی تھیں سیلاب کی زد میں ہیں۔ان پر بنائے گئے پُل سیلابی موجوں کی شدت کے آگے سُپر ڈال کر بری طرح ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں۔ عوام پریشان ہیں۔ آمد و رفت کے ذرائع اور راستے مسدود ہونے کی وجہ سے کاروباری طبقہ سخت پریشان ہے اور کام کاج کے ٹھپ ہوجانے سے مزدور طبقہ کی مشکلات میں کئی گناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ کرونا کے بعد یہ دوسری بڑی مصیبت ہے جو شہر پر نازل ہوئی ہے۔ پڑوس کے شہروں خاص کر آمبور اور پرنامبٹ میں بھی بارش اور سیلاب نے بڑی تباہی مچا رکھی ہے۔ کئی مکانات منہدم ہوچکے ہیں اور سڑکوں میں پانی جمع ہوجانے کی وجہ سے زندگی کا سارا نظام معطل ہوا پڑا ہے۔ پرنامبٹ میں ایک مکان منہدم ہونے سے نو لوگوں کی جانیں چلی گئی ہیں جن میں چار بچے بھی شامل ہیں۔ ان سب کے بیچ راحت کاری کا کام بھی جاری ہے۔ضلع میں موجود کئی فلاحی تنظیمیں اور سیاسی تنظیمیں اپنے اپنے حلقوں میں رات دن سیلاب سے متاثر لوگوں کو راحت پہنچانے میں جٹے ہوئے ہیں۔ خصوصا ً شہر وانم باڑی میں راحت کاری کا کام زوروں پر ہے۔ شہر کی کئی تنظیمیں میدان عمل میں موجود ہیں۔ ان تمام لوگوں کو جن کے گھروں میں پانی داخل ہوگیا تھا اسکولوں اور رفاہی اداروں میں پہنچا کر ان کے لئے وہاں کھانے وغیرہ کا معقول انتظام کیا گیا ہے اور ان کی باز آباد کاری کے لئے کوششیں جاری ہیں۔ اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے شہر کی انتظامیہ بھی پوری کوشش کر رہی ہے۔ جن جن علاقوں میں پانی بھرا ہوا ہے وہاں سے پانی کی نکاسی کے لئے راستے بنائے جارہے ہیں۔ چونکہ شہر کا اکثر حصہ اس پریشانی سے دو چار ہے اور انتظامیہ کے پاس عملہ اور ایسے مواقع سے نمٹنے کے لئے جدید آلات کی کمی ہے اس لئے صاف صفائی کی کاموں میں دقتیں آرہی ہیں۔ ایک اور بات جو دیکھنے میں آرہی ہے وہ راحت کاری کے کاموں میں ایک ہی علاقے پر بہت ساری فلاحی تنظیموں اور سماجی کارکنوں کا بیک وقت توجہ مبذول کردینا ہے جس کی وجہ سے کئی دوسرے متاثرہ علاقے نظر انداز ہورہے ہیں۔ شاید اس کی وجہ ان تنظیموں اور سماجی کارکنوں میں رابطے اور آپسی تال میل کا فقدان ہے۔ کم از کم ایسے ہنگامی حالات میں اگر یہ تنظیمیں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر کام کریں تو عوام کو بہت فائدہ ہوسکتا ہے اور ہر متاثر تک راحت مساوی مقدار میں پہنچ سکتی ہے۔ اس بات پر توجہ دینے کی فوری اور اشد ضرورت ہے۔ کہا جارہا ہے کہ علاقے میں ایسی بارش اور دریائے پالار میں طغیانی کئی دہائیوں سے دیکھی نہیں گئی۔ اندرون شہر کئی پختہ گلیوں اورگھروں میں پانی داخل ہوجانے کولے کر لوگوں میں سخت بے چینی محسوس کی جارہی ہے۔ بعض لوگ اس کے لئے شہر کے انتظامیہ کو ذمہ دار ٹہرا رہے ہیں کہ برساتی نالوں کی صحیح نگہداشت اور ان کی نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی۔ اگر انتظامیہ برساتی نالوں پر جھونپڑ پٹیاں آباد ہونے سے بر وقت روک دیتی تو حالات اتنے نہیں بگڑتے۔ کچھ لوگ بڑھتی ہوئی آبادی اور اس کے نتیجے میں بے ہنگم تعمیرات کو بھی اس کی ایک وجہ گردان رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کے نزدیک عوام میں سماج کے تئیں کم ہوتی ہوئی ذمہ داری کا احساس بھی اس کی ایک وجہ ہے کیونکہ یہ عوام ہی ہیں جنہوں نے اپنی سہولیات کے لئے قدرت کے اصولوں سے کھلواڑ کر کے اپنے لئے مشکلات کھڑی کر لی ہیں۔ بات جو بھی ہو شہرکی ایک بڑی آبادی بھاری نقصان سے دوچار ہوچکی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس قسم کے حالات پیدا نہ ہوں اس کے لئے غور و فکر اور لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے۔ شہر کے سیاسی رہنماؤں، دانشوروں اور فلاحی کام کرنے والے سماجی کارکنوں کو چاہئے کہ وہ حالات بہتر ہونے کے بعد مل بیٹھ کر اس سلسلے میں ماہرین سے رائے لے کر رہنما اصول طے کریں اور شہر کے لئے ایسے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ایک وفاق تشکیل دیں۔اس سیلاب کو قدرت کی جانب سے اپنے لئے ایک انتباہ سمجھیں اور اس سے جو تجربات حاصل ہورہے ہیں اس کو آگے رکھ کر آئندہ کے لئے عوام اور انتظامیہ کو ساتھ میں لے کر ایسے حالات پھر سے پیدا نہ ہوں اس کیلئے منصوبہ بندی کریں۔ خلوص اور لگن سے کی جانے والی ہر کوشش ضرور کامیابی سے ہمکنار ہوگی اور یوں ہم اپنے شہر کو ایک مثالی شہر بھی بنا سکتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

اِتمام حُجت کس پر؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ............ اسانغنی مشتاق رفیقی