Posts

Showing posts from October, 2019

Zaban-e-Khalq زبان خلق ، شمارہ 27

Image

تلخ و تُرش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

Image
٭کاروباری ویلتھ مینجمنٹ کی رپورٹ کے مطابق،  ملک میں امیروں کے پاس 2017 میں 392 لاکھ کروڑ روپے کی جائیداد تھی، جو کہ 2018 میں 430 لاکھ کروڑ روپے ہوگئی۔۔۔ ایک خبر یعنی 38 لاکھ کروڑ کا ایک ہی سال میں اضافہ، چلو اچھا ہے،امیروں کے ہی سہی کسی کے تو اچھے دن آئے ہیں۔   ٭شری ویر ساورکر نے آزادی کی لڑائی میں رول نبھایا، ملک کے لیے جیل گئے۔۔۔ کانگریس رہنما ابھیشیک منو سنگھوی لگتا ہے پی چدمبرم جی کی جو درگت ہورہی ہے اُس سے کانگریس میں اچھے اچھوں کی ہوا اکھڑ گئی ہے۔ سنگھوی کو سنگھی سوچ مبارک ہو۔ ٭مہاراشٹر: مسلم اکثریتی علاقوں میں الیکشن کے تعلق سے بے حسی اور عدم دلچسپی۔۔۔۔ ایک خبر  شاید مسلمانوں کو اچھی طرح اس بات کا احساس ہو گیا ہے کہ ان کے ووٹ دینے اور نہ دینے سے کچھ بدلاؤ آنے والا نہیں، تو پھر بیکار میں کیوں اپنا خون جلائیں اور دوسری بات ووٹ دینا کوئی ثواب کا کام تو ہے نہیں جس کے لئے وقت لگایا جائے کیونکہ آجکل بقول شاعر... خلاف شرع مسلمان تھوکتا بھی نہیں  ٭بنگلہ دیش میں توہین مذہب کے خلاف احتجاج، پولیس کی فائرنگ، 4ہلاک،50سے زائد زخمی۔۔۔۔۔ ایک عالمی ...

تاریخ، عقیدہ یا عبرت............. اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

Image
شاید ہی کسی کو اس بات میں اختلاف ہو کہ آغاز تمدن سے لے کر موجودہ زمانے تک، انسان نے جس علم کی طرف زیادہ توجہ دی ہے وہ علم تاریخ ہے۔ اپنے اسلاف کے فرضی اور حقیقی داستانوں کو یاد رکھ کے، اُسے سینہ بہ سینہ منتقل کرتے ہوئے،پھر پتوں اور چھال پر لکھ کر، پھر کتابوں میں نقل کر کے اور آج کمپیوٹر کے ہارڈ ڈسکس میں اُسے ہمیشہ کے لئے محفوظ کر تے ہوئے،اُس نے  اس علم سے اپنی حد سے زیادہ جذباتی وابستگی کا ثبوت دیا ہے۔ قرآن مجید میں بھی تاریخ کے حوالے سے بہت ساری باتیں آئی ہیں۔ خالق کائنات اپنی اِس کتاب میں جو اُس نے سارے انسانوں کی ہدایت کے لئے افضل الناس خاتم النبیاﷺ پر اُتاری ہے، تاریخ کو فخر کر نے لئے داستان کی حیثیت سے نہیں حق اور راستی پر جمے رہنے کے لئے بطور عبرت پیش کرتا ہے۔ دیگر اقوام کی طرح امت مسلمہ بھی اپنے ہادی کی بعثت کی پہلی ساعت سے ہی اپنی تاریخ کو محفوظ کر تے ہوئے اس کی تدوین اور اشاعت میں لگی رہی اور آج یہ بات دعوے سے کہی جاسکتی ہے کہ دنیا میں اگر کسی ملت کے پاس اپنی مکمل مربوط تاریخ ہے تو وہ صرف امت مسلمہ ہی ہے۔لیکن افسوس کہ امت اپنی تاریخ کو بجائے حال کے سنوارنے اور مستقبل ک...

Zaban-e-Khalq زبان خلق ، شمارہ 26

Image

تلخ و ترش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

Image
٭''بی جے پی کی کامیابی سے خوف زدہ ہونے کے بجائے کانگریس کے لئے بہتر ہوگا کہ وہ ان اصولوں کے لئے کھڑی ہو، جن پر اس نے ہمیشہ ہی یقین کیا ہے۔''۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کانگریس سینئر رہنما ششی تھرور اصولوں پر کھڑے ہونے کے لئے لوہےکاجگر چاہئیے، لیکن موجودہ کانگریسی نیتاؤں میں کسی کے پاس یہ چیز نہیں ہے۔ ویسے بھی آدھے سے زیادہ کانگریسی نیتا،اپنا ہدف یعنی کانگریس کا کریا کرم مکمل  کر کے اپنی اصل یعنی سنگھ کی طرف لوٹنے میں لگے ہیں اور باقی کا کچھ بھروسہ نہیں کہ کب کہاں پائیں جائیں گے، ایسے میں کانگریس کہ لئے یہی بہتر ہے کہ وہ سیاسی میدان سے سبکدوشی لےلیں اور خود کو سماجی کاموں کے لئے وقف کر دیں تاکہ عوام میں اس کی کچھ عزت باقی رہ جائے۔ ٭وزیر خارجہ ایس جئے شنکر کے اس بیان پر کیا جس میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہیوسٹن ریلی میں ’ اب کی بار ٹرمپ سرکار‘کا جو نعرہ دیا تھا، وہ کسی دوسرے سیاق میں تھا اور اس کا غلط مطلب نہ نکالیں۔ کانگریس رہنما راہل گاندھی نےوزیر خارجہ سے درخواست کی کہ وہ وزیر اعظم مودی کو تھوڑی ڈپلومیسی سکھائیں۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک خبر شری راہل گاندھی جی کو بھی وزیر اعظم ...

آستین کے سانپ ۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

Image
کہتے ہیں جب جہاز ڈوبنے پہ آتا ہے تو جہاز چھوڑ کر سب سے پہلے چوہے بھاگنے لگتے ہیں۔ اسی طرح جب کسی قوم و ملت پر زوال کے بادل منڈلانے لگتے ہیں تو اُس کے صفوں میں موجود وہ عیار جن کا مقصد ہر قیمت پر اپنے مسند و دستار کا تحفظ ہوتا ہے، کوڑیوں کے بھاؤ قوم کا سودا کر نے لگتے ہیں تاکہ اُن پر اور اُن کے نام نہاد مورثی سلطنت پر آنچ نہ آئے۔ہر آتی جاتی سانسوں پر قوم کی دہائی دینے والے یہ آستین کے سانپ، دشمنوں کے صفوں میں کھڑے اپنی ہی کشتی کو تاروپیڈ کرتے نظر آتے ہیں۔ ی ہی دنیا کا دستور ہے اور یہی ازل سے ہوتا آیا ہے۔ اس میں سمجھنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔ بات یوں بھی کہی جاسکتی ہے کہ جب کسی قوم پر قدرت مہربان ہوتی ہے تو اُس پر زوال کے آثار لاتی ہے۔ تاکہ اُن میں جو منافقین ہیں جن کا مقصد صرف اپنے مفادات ہوتے ہیں، قوم کے سامنے عریاں ہوجائیں اور لوگ اُن کی حقیقت جان کر ایک نیا لائحہ عمل مرتب کر کے ترقی کے راستے پر پھر سے گامزن ہوجائیں۔ وطن عزیر میں موجودہ حالات سے نپٹنے میں ہماری ناکامی اس بات کا صاف اشارہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم زوال کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ سیاسی، سماجی، معاشی، مذہبی، ہر محاذ پ...