تلخ و ترش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ
٭''بی جے پی کی کامیابی سے خوف زدہ ہونے کے بجائے کانگریس کے لئے بہتر ہوگا کہ وہ ان اصولوں کے لئے کھڑی ہو، جن پر اس نے ہمیشہ ہی یقین کیا ہے۔''۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کانگریس سینئر رہنما ششی تھرور
اصولوں پر کھڑے ہونے کے لئے لوہےکاجگر چاہئیے، لیکن موجودہ کانگریسی نیتاؤں میں کسی کے پاس یہ چیز نہیں ہے۔ ویسے بھی آدھے سے زیادہ کانگریسی نیتا،اپنا ہدف یعنی کانگریس کا کریا کرم مکمل کر کے اپنی اصل یعنی سنگھ کی طرف لوٹنے میں لگے ہیں اور باقی کا کچھ بھروسہ نہیں کہ کب کہاں پائیں جائیں گے، ایسے میں کانگریس کہ لئے یہی بہتر ہے کہ وہ سیاسی میدان سے سبکدوشی لےلیں اور خود کو سماجی کاموں کے لئے وقف کر دیں تاکہ عوام میں اس کی کچھ عزت باقی رہ جائے۔
٭وزیر خارجہ ایس جئے شنکر کے اس بیان پر کیا جس میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہیوسٹن ریلی میں ’ اب کی بار ٹرمپ سرکار‘کا جو نعرہ دیا تھا، وہ کسی دوسرے سیاق میں تھا اور اس کا غلط مطلب نہ نکالیں۔ کانگریس رہنما راہل گاندھی نےوزیر خارجہ سے درخواست کی کہ وہ وزیر اعظم مودی کو تھوڑی ڈپلومیسی سکھائیں۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک خبر
شری راہل گاندھی جی کو بھی وزیر اعظم نریندر مودی سے بہت سی باتیں سیکھنی ہیں، جیسے عوام کو بھگت کیسے بنانا ہے، لاکھ سیاسی مخالفت کے باوجود ہدف سے کیسے جڑے رہنا ہے، پارٹی میں مخالفین کو کیسے الگ تھلگ کرنا ہے۔ اب یہ باتیں پتہ انہیں کون بتائے گا۔
٭ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے کہا ہےکہ کوئی کتنابھی دکھاوا کرے اور خود کو بابا ئے قوم مہاتما گاندھی کے اصولوں کا پجاری ہونے کا دعوی کرے لیکن حقیقت یہی ہے کہ گاندھی جی کے خیالات پر کانگریس ہی چلی ہے اور آئندہ بھی چلے گی۔۔۔۔۔۔ ایک خبر
اس پر غالب کا ایک شعر عرض ہے
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقئقت لیکن
دل کے خوش رکھنےکو غالب یہ خیال اچھا ہے
٭اگر دنیا ایران کو روکنے کے لیے مستحکم اور ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتی تو آنے والے وقت میں ہم مزید کشیدگیاں دیکھیں گے جس سے عالمی مفادات کے لئے خدشات پیدا ہوں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان
ٹھوس اقدامات، مزید کشیدگیاں اور عالمی مفادات وضاحت طلب ہیں،مزید کشید گیوں کا ہوا کھڑا کر کے اگر سعودی عرب یہ سمجھتا ہے کہ وہ امریکہ اور اقوام متحدہ کے زریعے اپنے علاقائی حریف پر ٹھوس اقدامات کے نام پر جنگ تھوپ کے اسے بھی عراق اور شام کی طرح برباد کردے گا تو در حقیقت وہ بے وقوفوں کی جنت میں رہ رہا ہے۔ عالمی بساط میں ایران، سعودی عرب اور اسرائیل تین ایسے مہرے ہیں جن میں سے کسی ایک کا پٹ جانا پوری بساط الٹ سکتا ہے، اس لئے عالمی طاقتوں کے نزدیک عالمی مفادات کے تحفظ کے لئے ان تینوں کی میدان میں اپنی پوری قوت کے ساتھ موجود رہنا بہت ضروری ہے۔
٭’بھارت ایک ہندو راشٹر ہے‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کا اعلان
مبارک باد، اس اعلان پر مولانا ارشد مدنی دامت برکاتہم اور مولانا محمود مدنی دامت برکاتہم کے تبصرے کا انتظار رہے گا۔
٭گجرات،وی ایچ پی اور پروین توگاڑیہ کی اے ایچ پی نامی دو ہندو تنظیموں کے اراکین بڑودہ کے ایک علاقے میں واقع دفتر پر قبضہ کے تنازع میں باہم متصادم۔۔۔۔۔۔ ایک خبر
ایسا لگتا ہے یہاں بھی ہماری انفرادیت ختم ہونے والی ہےکیونکہ ایسے جھگڑے ہمارے جماعتوں کے طرہ امتیاز رہے ہیں۔ دیو بندی بریلوی، شورائی اماراتی وغیرہ وغیرہ
٭ وزیراعظم نریندر مودی نے آج گاندھی جینتی کے موقع پر ہندوستان کو کھلی جگہوں پر رفع حاجت سے پاک ملک قرار دیا اور کہا کہ یہ کارنامہ 60 ماہ میں حاصل کیا گیا جس پر دنیا حیرت زدہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک خبر
بقول وزیر اعظم دنیا والے اس پر حیرت زدہ ہیں کہ اتنے کم عرصے میں یہ کیسے ممکن ہوگیا لیکن ہم حیرت زدہ اس پر ہیں کہ ہمارے وزیر اعظم نے یہ اعلان کرنے میں اتنی دیر کیوں لگا دی۔ وہ اگر یہ بات 2019 کے الیکشن سے پہلے کہہ دیتے تو اور 100 سیٹ یقینی تھی۔ یہ بھارت کا نیا روپ ہے پیارے! آج کل یہاں حقائق نہیں جملے چلتے ہیں، صرف جملے۔
Comments
Post a Comment