تلخ و تُرش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ
٭کاروباری ویلتھ مینجمنٹ کی رپورٹ کے مطابق، ملک میں امیروں کے پاس 2017 میں 392 لاکھ کروڑ روپے کی جائیداد تھی، جو کہ 2018 میں 430 لاکھ کروڑ روپے ہوگئی۔۔۔ ایک خبر
یعنی 38 لاکھ کروڑ کا ایک ہی سال میں اضافہ، چلو اچھا ہے،امیروں کے ہی سہی کسی کے تو اچھے دن آئے ہیں۔
٭شری ویر ساورکر نے آزادی کی لڑائی میں رول نبھایا، ملک کے لیے جیل گئے۔۔۔ کانگریس رہنما ابھیشیک منو سنگھوی
لگتا ہے پی چدمبرم جی کی جو درگت ہورہی ہے اُس سے کانگریس میں اچھے اچھوں کی ہوا اکھڑ گئی ہے۔ سنگھوی کو سنگھی سوچ مبارک ہو۔
٭مہاراشٹر: مسلم اکثریتی علاقوں میں الیکشن کے تعلق سے بے حسی اور عدم دلچسپی۔۔۔۔ ایک خبر
شاید مسلمانوں کو اچھی طرح اس بات کا احساس ہو گیا ہے کہ ان کے ووٹ دینے اور نہ دینے سے کچھ بدلاؤ آنے والا نہیں، تو پھر بیکار میں کیوں اپنا خون جلائیں اور دوسری بات ووٹ دینا کوئی ثواب کا کام تو ہے نہیں جس کے لئے وقت لگایا جائے کیونکہ آجکل بقول شاعر...
خلاف شرع مسلمان تھوکتا بھی نہیں
٭بنگلہ دیش میں توہین مذہب کے خلاف احتجاج، پولیس کی فائرنگ، 4ہلاک،50سے زائد زخمی۔۔۔۔۔ ایک عالمی خبر
ایسے احتجاج صرف برصغیر میں ہی کیوں ہوتے ہیں، مشرق وسطیٰ جو مسلمانوں کا گڑھ ہے وہاں کیوں نہیں ہوتے۔وہاں احتجاج ہوتے بھی ہیں تو صرف حکومت کے خلاف یا اس کے ڈکٹیٹرانہ پالیسیوں کے خلاف ہوتے ہیں، مذہب کے نام پر نہیں۔ در حقیقت یہ سب یہاں کے مسلمانوں کا حد سے زیادہ جذباتی ہو کر مذہب اور سیاست کو خلط ملط کرنے کا نتیجہ ہے جس کا انجام خلفشار کے سوا کچھ نہیں۔
٭شہر پونا کے 102 سالہ رہائشی حاجی ابراہیم علیم جواد نے اپنے خاندان کی پانچ نسلوں پر مشتمل 270 ارکان کے ہمراہ مہاراشٹر کے ریاستی انتخابات میں ووٹ ڈالا۔۔۔۔ ایک خبر
ماشاء اللہ۔۔۔۔۔ حاجی صاحب کا عمل قابل ستائش ہی نہیں لائق تقلید بھی ہے۔ سمجھداروں کے لئے اس میں بہت ساری نشانیاں اور مشورے ہیں۔
٭شام، یمن، لبیا اور سوڈان مین تنازعات کی وجہ سے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں 5 سال سے کم عمر کے 16 ملین سے زیادہ بچے غذائی قلت کا شکار۔۔۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف کی ایک تازہ رپورٹ
اس خبر کو دنیا کی مین اسٹریم میڈیا میں شاید ہی کوئی پذیرائی ملے، لیکن وہیں اگر امریکہ یا یورپ میں دو ایک بچے بھی کسی حادثے کا شکار ہوجائیں تو اسے عالمی خبر بننے میں ذرا بھی دیر نہیں لگتی۔ موجودہ عالمی سماج کا یہ خود غرضانہ طرز عمل اس عہد کا سب سے بڑا المیہ ہے۔
٭بھوک مری سے لڑنے میں ناکام ہندوستان، گلوبل ہنگر انڈیکس میں 117 ممالک میں 102 ویں مقام پر
پتہ نہیں یہ کون لوگ ہیں جو موجودہ ہندوستان، یعنی مودی جی کی بھارت میں بھوک مری کی بات کرتے ہیں!!! درحقیقت انہیں پتہ نہیں کہ چاند پر کمندیں ڈالنے والے یہاں کے واسی ایسی چھوٹی باتوں کی پرواہ نہیں کرتے۔
٭ہندو سماج پارٹی کے صدر کملیش تیواری کا قتل انتظامیہ کی لاپرواہی سے ہوا۔۔۔۔ مشہور ہندی شاعر کمار وشواس
کوی جی اچھی شاعری کر لیتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کا تجزیہ بھی درست ہو، موجودہ یو پی سرکار میں انتظامیہ لاپرواہ ہو ہی نہیں سکتی۔ کمار وشواس صاحب کو چاہئے کہ وہ اپنی بات فورا واپس لیں یا اپنے دروازے پر ای ڈی والوں کا انتظار کریں۔
Comments
Post a Comment