تاریخ، عقیدہ یا عبرت............. اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ


شاید ہی کسی کو اس بات میں اختلاف ہو کہ آغاز تمدن سے لے کر موجودہ زمانے تک، انسان نے جس علم کی طرف زیادہ توجہ دی ہے وہ علم تاریخ ہے۔ اپنے اسلاف کے فرضی اور حقیقی داستانوں کو یاد رکھ کے، اُسے سینہ بہ سینہ منتقل کرتے ہوئے،پھر پتوں اور چھال پر لکھ کر، پھر کتابوں میں نقل کر کے اور آج کمپیوٹر کے ہارڈ ڈسکس میں اُسے ہمیشہ کے لئے محفوظ کر تے ہوئے،اُس نے اس علم سے اپنی حد سے زیادہ جذباتی وابستگی کا ثبوت دیا ہے۔ قرآن مجید میں بھی تاریخ کے حوالے سے بہت ساری باتیں آئی ہیں۔ خالق کائنات اپنی اِس کتاب میں جو اُس نے سارے انسانوں کی ہدایت کے لئے افضل الناس خاتم النبیاﷺ پر اُتاری ہے، تاریخ کو فخر کر نے لئے داستان کی حیثیت سے نہیں حق اور راستی پر جمے رہنے کے لئے بطور عبرت پیش کرتا ہے۔ دیگر اقوام کی طرح امت مسلمہ بھی اپنے ہادی کی بعثت کی پہلی ساعت سے ہی اپنی تاریخ کو محفوظ کر تے ہوئے اس کی تدوین اور اشاعت میں لگی رہی اور آج یہ بات دعوے سے کہی جاسکتی ہے کہ دنیا میں اگر کسی ملت کے پاس اپنی مکمل مربوط تاریخ ہے تو وہ صرف امت مسلمہ ہی ہے۔لیکن افسوس کہ امت اپنی تاریخ کو بجائے حال کے سنوارنے اور مستقبل کے لئے ایک بہتر لائحہ عمل تیار کر نے تک محدود رکھتی اور وحی آخر کی طرز پر اپنی تاریخ سے عبرت حاصل کرتی، دیگر اقوام کی طرح اس کو فخر اور تکبر کا استعارہ بنا لیا۔ ستم بالائے ستم بات فخر تک نہیں رکی بلکہ اس کی بہت ساری روایات کو عقیدہ کا جز بنا کے امت نے ایک ایسی بدعت کو رواج دینے کی کوشش کی کہ آج بطورخمیازہ فرقوں میں بٹی نظر آرہی ہے۔
تاریخ کو عقیدہ بنانے اور ثابت کر نے کی ضد نے امت کی وحدت کو جہاں ایک طرف ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے وہیں اس کی متحد ہونے کی راہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مسدود کر دی ہیں۔ کیونکہ ہر فریق اپنے دعوے میں روایات کا ایک ایسا انبار لئے پھر رہا ہے جس میں دور دور تک اتحاد و اتفاق کا کوئی پیغام نظر نہیں آتا۔ صد حیف کہ یہ نادان اپنے ان تاریخی روایات کو، جس کو یہ عقیدہ بنائے بیٹھے ہیں، اُس کی سچائی جانچنے کے لئے اپنے پاس موجود فرقان حمید پر پیش کرتے، جو حق اور باطل کے پرکھنے کا حقیقی میزان ہے،اپنے ہی طے کردہ کچھ ضابطوں پر پرکھ کے حق قرار دے کر اُسے کفر و ایمان کا پیمانہ بنا رکھا ہے۔ در حقیقت امت تاریخی روایات کے چکر میں الجھ کر اُس کے حوالے سے مہیا ہر قول پر اندھا اعتماد کر کے اپنی بعثت کی حقیقی مقصد سے بہت دور نکل گئی ہے۔
اکملت لکم دینکم کی واضح ہدایت کے باوجود جس دیدہ دلیری سے تاریخی روایات کو شریعت کا درجہ دے دیا گیا ہے اور اِس روش پر ہلکی سی تنقید بھی اگر کہیں سے سامنے آجائے تو جو اودھم اور واویلا مچایا جاتا ہے اُسے دیکھ کر حیرت ہی نہیں صدمہ بھی ہوتا ہے کہ کیسے ایک امت خیر، خرافات اور روایات کو اصل سمجھ کر شر کی وادیوں میں بھٹکتے پھر رہی ہے۔ موجودہ دور کے کچھ دانشوروں کا خیال ہے کہ ہمیں اپنی تاریخ کو فراموش کر کے اس کے نشیب و فراز سے صرف نظر کر کے فقط حال اور مستقبل کے حوالے سے گفتگو کرنی چاہئے تاکہ ہم میں اتحاد کی فضا قائم ہو۔ حالانکہ یہ بات تبھی ممکن ہے جب تاریخ کو عقیدہ بنانے کی عظیم غلطی کی وجہ سے ہم میں جو بیانیہ تشکیل پاچکے ہیں اُن کے مایا جال سے امت کو رہائی دلائی جائیں جو امت میں انتشار اور آپسی رسہ کشی کی اصلی سبب ہیں۔ ہم تاریخ کو مقدس گائے کی حیثیت سے نہیں، عمل جراحی کے لئے لائے گئے ایک مریض کی حیثیت سے دیکھیں اور اس میں موجود ناسور وں کی نہ صرف نشاندہی کریں بلکہ انہیں نکالنے کی سعی کریں۔ اس سارے عمل میں ہوسکتا ہے مریض سے ہی نہیں مریض کے لواحقین سے بھی لاف و گزاف سننے کو ملیں، لیکن ہمیں پوری دلجمعی کے ساتھ اپنی کوششوں میں لگے رہنا ہے تاکہ مریض کو ایک لمبی اور نہ ختم ہونے والی تکلیف سے ہمیشہ کے لئے بچایا جاسکیں۔ تاریخ کو بطور عقیدہ نہیں عبرت کی نگاہ سے دیکھنا، اُس کی خامیوں او رخوبیوں کو نظر میں رکھتے ہوئے حال اور مستقبل کے سنوارنے میں اُس سے سبق حاصل کرنا ہی حقیقی معنوں میں اُس سے انصاف ہے۔ اللہ ہمیں سمجھ دے۔

Comments

Popular posts from this blog

اِتمام حُجت کس پر؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ............ اسانغنی مشتاق رفیقی