تشخص کی قربانی اور یکجہتی کے مظاہرے ............................ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ
جرعات
صلح حدیبیہ انسانی
تاریخ کا ایک ایسا حیرت انگیز واقعہ ہے جو فتح اور شکست کی تعبیر ہی بدل کر رکھ دیتا
ہے ۔ اس منظر نامے میں بظاہرجو شکست زدہ ٹہرتا ہے وہ در حقیقت جیت کی پہلی سیڑھی
پر قدم رکھ چکا ہوتا ہے اور جو فاتح نظر آتا ہے وہ حقیقت میں سراب کے پیچھے ہوتا
ہے ۔ موجودہ حالات میں اس واقعے سے سیکھنے کے لئے سب سے اہم بات اپنی تشخص کی
قربانی ہے ۔ جسکی مثال مخبر صادقﷺ نے اپنے نام کے ساتھ لفظ رسول ہٹا کر کے دی ۔
وطن عزیز میں ،سی
اے اے، این آر سی اور این پی آر کا مسئلہ صرف مسلمانوں کی بقا کا مسئلہ نہیں
بلکہ ملک کے تمام کمزور اور پچھڑے ہوئے طبقوں کے بقا کا بھی سوال ہے ۔ اس پس منظر
میں اس مسئلے کے خلاف احتجاج کو نادانستگی میں ہی سہی کسی بھی قسم کی مذہبی رنگ دینے
کی کوشش بہت بڑی غلطی ہوگی ۔ یہاں تشخص کی قربانی عین سنت رسول ہے ۔ ہر حال میں
ہماری کوشش یہی ہونی چاہئے کہ احتجاج کہیں سے بھی کوئی مخصوص رنگ نہ لے لیں ۔ غنیم
کی یہی خواہش ہے کہ وہ اس معاملے کو مذہبی رنگ دے کر ملک کی اکثریت کو الجھا دیں ۔
وہ اپنی پوری قوت کے ساتھ چھوٹی سی چھو ٹی بات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے ۔ ہماری
ہلکی سی بھول بھی اس کے لئے نعمت ثابت ہوسکتی ہے ۔ احتجاجی جلوس اورجلسوں میں مذہبی
نعرے لگا کر یا صرف ایسے افراد کو ان جلسوں اور جلوس کی قیادت کے لئے آگے بڑھاکر
جن کی تسلیم شدہ پہچان ایک مذہبی شخصیت کی حیثیت سے ہو، موجودہ حالات میں فریق
مخالف کے بچھائے جال میں جان بوجھ کر پھنسنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ جب ملک کا
وزیر اعظم خود عوام کو یہ صلاح دے رہا ہے کہ مخالفین کو لباس کے ذریعے پہچانے تو ایسے
میں ہماری حکمت عملی کس حد تک محتاط ہونی چاہئیے یہ ہم میں کا ہر فرد سمجھ سکتا ہے
۔
دوسری اور اہم
بات مشترکہ امور پر دشمن کے دشمن کو دوست بنانے کی ہے ۔ اس میں سب سے بڑی رکاوٹ
خود ہماری انا ہے ۔ گزشتہ ستر سالوں سے تقسیم کے بعد کی مخصوص حالات کی وجہ سے ہم
نے اپنے اطراف جو دیواریں کھڑی کر رکھی ہیں انہیں ڈھا کر اجنبی لوگوں کو سینے سے
لگانا اور ان کے ساتھ بیٹھ کر برابری کی گفتگو کرنا، جن کے تعلق سے ہمارے ہی کچھ
نادان دوستوں نے ہمیں غلط سلط پڑھا رکھا ہے یا معاشرے کی دیکھا دیکھی ہم نے بھی
انہیں کمتر سمجھ رکھا ہے ، بڑا ہی کٹھن مرحلہ ہے ۔ لیکن، جب تک ہم اس بات پر پہل
نہیں کریں گے، انا اور تکبر کے خود ساختہ منبر و محراب سے نیچے نہیں اتریں گے ،
اپنے آس پاس بسنے والے کمزور اور دھتکارے ہوئے طبقوں کو سینے سے لگا کر مشترکہ
امور پر ان سے بندھن مضبوط نہیں کریں گے ،ہماری مثال اُس ملاح کی سی ہوگی جو
چپوچلانے والوں کو اعتماد میں لئے بغیرکشتی طوفان میں اتاردیتا ہے اور اپنی اس
نادانی کی وجہ سے سب کا نقصان کر بیٹھتا ہے ۔ آج ملک کا ایک بڑا طبقہ بہت پریشان
ہے ۔ مٹھی بھر لوگوں نے عیاری اور مکاری سے جھوٹ اور فریب کے سہارے وطن عزیز کے
افسر شاہی طبقے کو اپنی جال میں پھانس رکھا ہے اور اپنی مانی کر رہا ہے، جس کی وجہ
سے ملک تیزی سے خلفشار اور انارکی کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ تعصب اور نفرت کی ایسی زہریلی
ہوائیں چلا دی گئی ہیں کہ الامان الحفیظ ۔ ۔ ۔ کب کہاں کیا ہوجائے کچھ کہا نہیں
جاسکتا ۔ ایسے میں ہماری ذمہ داری دہری ہوجاتی ہے بحیثیت انسان اور بحیثیت مسلمان
ہمارافرض اولین بن جاتا ہے کہ ہم امن کے لئے ظلم کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر
کھڑے ہوجائیں ، نہ صرف مظلوموں پر ظلم ہونے نہ دیں بلکہ ظالموں کو ظلم کرنے سے روکیں
کیونکہ اسی میں ان کی بہتری ہے ۔ اس اعلیٰ مقصد کے لئے تن من دھن کا نذرانہ بھی دینا
پڑے تو اس سے گریز نہ کریں ۔ مومن کی شان ہی یہی ہے کہ وہ امن و انصاف کی سر بلندی
کو اپنی ذات پر بھی مقدم رکھتا ہے ۔
سی ای ای، این سی
آر اور این پی آرکا جب سے مسئلہ شروع ہوا ہے اس کے نتیجے میں کئی اچھی باتیں بھی
سامنے آئی ہیں ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ جو مغالطہ کھڑا کیا گیا تھا کہ کچھ
مخصوص جماعتیں اور درس گاہیں ملک میں اسلام کے قلعے ہیں ،اس اچانک اُٹھنے والی پُر
زور آندھی میں یہ ہوائی قلعے پوری طرح زمین بوس ہو گئے ۔ آج ملک کا بچہ بچہ ظلم
کے خلاف راستوں پر نکل کر آواز لگا رہا ہے ،لاٹھیاں کھار رہا ہے، لہو کا نذرانہ پیش
کر کے ظالموں کے خلاف احتجاج میں اپنی شرکت درج کرارہا ہے، لیکن اسلام کے قلعے
باور کرائے گئے ان درس گاہوں کے منبر و محراب سے دور اندیشی کے نام پر چپ رہنے کا
پاٹھ پڑھایا جارہا ہے ۔ آنسو بہا بہا کر غیرت اور حمیت کے تلواروں کو مصلحت کے میانوں
میں رکھنے کی دہائی دی جارہی ہے ۔ افسوس صد افسوس ، صف اول کے شہہ سوارانِ جنگ
آزادی کی نسلیں اپنے اجداد کی روحوں کو اتنا شرمندہ کریں گی کسی کے وہم و گمان میں
بھی یہ بات نہ تھی ۔
دوسری بات ملت کی
عورتیں اور لڑکیاں جنہیں کبھی بھی، کچھ قابل سمجھا ہی نہیں گیا ، ہمیشہ انہیں زندگی
کے ہر میدان سے الگ رکھنے کی کوشش کی گئی ، سماجی اور معاشرتی حوالے سے کبھی ان کی
قیادت تسلیم نہیں کی گئی ،ظلم کے خلاف اس احتجاج میں نہ صرف اپنی اوڑھنی کا پرچم بنا
کر صف اول میں نظر آئیں، بلکہ غنیم نے جب بھی وار کیا یہ مردوں کے لئے ڈھال بن کر
کھڑے ہوگئیں ۔ یہ تبدیلی ایک ایسا خوش آئیندہ پہلو ہے جس سے یہ بات واضح ہوجاتی
ہے کہ صدیوں کی کوششوں کے باوجود، امت کے نصف تعداد کواپاہج بنانے کی دشمنوں کی
سازش ناکام ہوگئی ۔
آخری بات آپس میں
اتحاد کا مظاہرہ ہے ۔ یہ ایک ایسا پر کیف منظر ہے جس پر سو جان سے قربان ہو جانے
کو جی چاہتا ہے ۔ قابل مبارکباد ہے ہمارا غنیم جس کی وجہ سے یہ اتحاد کا مظاہرہ
ممکن ہوسکا ۔ کیا ہی اچھا ہو اتحا د اور یکجہتی کی یہ فضا جو آج حالت اضطرارکی پیدائش
لگتی ہے حالت امن میں بھی ،ہمیشہ کے لئے باقی رہ جائے ۔
Comments
Post a Comment