تلخ و ترش .......................... اسانغنی مشتاق احمد رفیقی





٭ اترپردیش کے فیروز آباد شہر میں 20 دسمبرکو شہریت ترمیم قانون کو لے کر ہوئے مظاہرے اور تشدد کے بعد پولیس نے ایسے 200 لوگوں کو نشان زد کر نوٹس بھیجا ہے ، جن میں ایک مرحوم شخص اور شہر کے کچھ بزرگوں کے نام بھی ہیں، جو اب چل پھر بھی نہیں سکتے۔۔۔۔ ایک خبر
شکر کریں شکم مادر میں پرورش پاتے اور  دودھ پیتے بچوں کے نام نہیں لئے، کیونکہ موجودہ سرکار اور اس کے کرمچاریوں سے کچھ بھی ممکن ہے۔  اُن کی عقلمندی کے حساب  سے جب موجودہ نسلیں 1000 سال پرانے غلطیوں کے ذمہ دار ہو سکتیں ہیں تو آنے والے نسلیں موجودہ حالات کے کیوں نہیں۔
٭ ال آنڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی بنگلہ دیش کی ویڈیو کو اترپردیش کی بتائے جانے پر بھی شدید رد عمل کا اظہار کیا اور کہا کہ انھیں ہندوستان کے مسلمانوں کی فکر کرنے کے بجائے پاکستان میں سکھوں اور گردواروں پر حملے روکنے چاہیں۔۔۔۔ ایک خبر
بجا فرمایا اویسی صاحب نے،پتہ نہیں یہ دونوں طرف کے حکمرانوں کو کیوں دوسرےکی ہی فکر زیادہ رہتی ہے، اگر وہ اتنی فکر اپنے عوام اور ان کے مسائل کی کریں تو کتنا اچھا ہوتا۔
٭جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی کے کیمپس میں  اتوار(2020-01-05) کی دیر شام نقاب پوش بھیڑ گھسی اور مختلف ہاسٹل میں گھس کر طلبہ و طالبات کو ڈنڈے اور راڈ سے پیٹا ۔۔۔۔ ایک سرخی
 وطن کے مستقبل سمجھے جانے والے طلبہ وطالبات کو ان نقاب پوشوں نے جو گھاؤں دیا ہے  شاید وہ کچھ دنوں میں  بھر جائے لیکن ان کے من کو،  جو گھاؤں، حکمران طبقہ نے اپنی ہٹ دھرمی اور چودھراہٹ منوانے کے لئے دیا ہے، شاید ہی کبھی وہ بھر پائے۔
٭امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر عراق نے امریکی افواج کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تو اسے سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ کا یہ بیان عراق کے ارکان پارلیمان کی جانب سے بغداد میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد تمام غیر ملکی افواج کے ملک سے انخلا کے بارے میں ایک قرارداد منظور کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔۔۔۔ بی بی سی نیوز
عراق میں کوئی حکومت ہے جو امریکہ کو آنکھیں بھی دکھا سکتی یہ یقین کرنا کافی مشکل ہے، یہ سب ایک طویل ڈرامے کا ایک سین ہے اور باقی کچھ نہیں۔  سیاسی شطرنج کے اس شاطر کھیل میں صرف ایک گھوڑ سوار گرا ہے، ابھی اور ایسے کئی موڑ آئیں گے جن میں اور کچھ فیل بان گھوڑ سوار وغیرہ پٹیں گے، لیکن یاد رکھیں  شہہ مات کبھی بھی کسی کی بھی نہیں ہوگی۔
٭سی اے اے اوراین آرسی کے خلاف زبردست احتجاج وقت کی اہم ضرورت ہے، ہمیں اس کا حصہ بننے کے ساتھ اس میں تعاون کرنا چاہئے۔ اتوار(2020-01-05) کو اسلام جمخانہ میں جمعیۃ علماء کے قائد مولانا سید محمود مدنی نے ایک میٹنگ میں جمعیۃ کی یونٹوں کے عہدیداران اور علماء کی توجہ اس جانب مبذول کروائی ۔
یہی مولانا کچھ عرصے پہلے فرماتے سنے گئے تھے کہ ملک بھر میں این آر سی لاگو ہونا چاہئے وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ لیکن اب جب وقت کی نبض دیکھی تو فورا قلا بازیاں کھا کر "جمعیت" کو "جماعت" کے ساتھ جوڑے رکھنے  کی کوشش میں مصروف نظر آرہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے شاید انہیں قیادت کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کی فکر لاحق ہوگئی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

اِتمام حُجت کس پر؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ............ اسانغنی مشتاق رفیقی