گہرا ہوتا ہوا اندھیارا اور مستقبل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ
جرعات
سردی عروج پر ہے۔
ایک طرف موسم رگوں میں لہو کومنجمد کردینے پر تلا ہوا ہے تو دوسری طرف سیاسی عیار
عوام کے ذہن و سوچ کو برف بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ روز نئے نئے عنوانات
کھڑے کر کے حقیقی مسائل کو اس طرح الجھا یا جارہا ہے کہ آدمی کی سوچنے سمجھنے کی
صلاحیت ہی ختم ہوجائے اور وہ لایعنی بحث و مباحث میں پڑ کر ہمیشہ اِنہی بھول بھلیوں
میں بھٹکتا رہے۔ مہنگائی، بے روزگاری،کساد بازاری اور بد عنوانی جیسے اہم اور
روزبروزکے مسئلوں پر کہیں کوئی آواز نہیں اُٹھ رہی ہے۔ لوگوں کی توجہ کو عیارانہ
ہتکنڈوں کے ذریعے شور شرابا سے آگے بڑھنے نہیں دیا جارہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جان بوجھ کر افرتفری اور شور
شرابا برپا کیا گیا ہے تاکہ لوٹ مار اور غارتگری جو عین مقصد ہے اُس میں آسانی ہو۔
جس دیدہ دلیری کے
ساتھ حکومت کے اعلیٰ عہدوں پر براجمان اصحاب نفرت اور بغض کو ہوا دے رہے ہیں ایسی
فضا شاید ہی پہلے کبھی دیکھی گئی ہو۔ ہر دن کسی اہم شخصیت کی طرف سے کوئی نہ کوئی
ایسا بیان آجاتا ہے کہ عداوت کی آگ بھڑکنے لگتی ہے۔ پھر تو تو میں میں کی وہ کا ن
پڑی آوازیں اُٹھتی ہیں کہ شیطان بھی پناہ مانگنے پر مجبور ہوجائے۔ آخر یہ سب کیوں
ہورہا ہے۔ اتنی زیادہ شدت پرستی، ایک دوسرے کے خلاف بغض و عناد اور نفرت۔ ایسی کیا
وجہ کہ آزادی کے ستر سال بعد بھی کچھ گھاؤبھر نہیں پائے اور آج ان زخموں کو پھر سے
کھروچا جارہا ہے اور ان پرنمک چھڑکاجارہا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جو نظر آرہا
ہے، اس کے سوا بھی، اس کے پیچھے کوئی اور ہی مقصد ہو۔ کیا ملک کی ایک بڑی آبادی کو
خوف اور انتشار میں مبتلا کر کے امن وامان کے ساتھ ملک کو ترقی کے راستے پر لگایا
جاسکتا ہے۔ کیا تیزی سے آگے بڑھتی ہوئی اس سائنسی دنیا کوہزاروں سال پرانی ضعیف
العتقادی اور مظاہر پرستی کی سوچ و فکر میں پھر سے ڈھالا جاسکتا ہے۔ موجودہ دور میں
اگر کسی عام آدمی سے بھی یہ سوالات پوچھیں جائیں تو وہ آسانی سے کہہ دے گا کہ یہ
سب ناممکن ہے، تو پھر اس سعی لاحاصل کا منشا کیا ہے۔ اس کے پیچھے کون سی طاقتیں
کار فرما ہیں۔ کہیں ہمارا ملک اپنوں کی نادانی سے کسی بیرونی سازش کا شکار تو نہیں
ہوگیا ہے۔
تاریخ شاہد ہے،ایک
خود ساختہ دشمن اور اُس سے انتقام ایک ایساخطرناک نظریہ ہے کہ اس نظریے میں الجھ
کر کئی ترقی یافتہ قومیں تباہ و برباد ہوگئیں ہیں۔ اس نظریے کو جب عیار سیاستدانوں،
مذہبی انتہا پسندوں اور سرمایہ داروں کی کھلی سرپرستی حاصل ہوجاتی ہے اور بیرونی طاقتیں
بھی اپنے مقاصد کے حصول کے لئے انہیں شہ دینے لگتے ہیں تو پھر تباہی و بربادی کا
وہ بھیانک رقص شروع ہوتا ہے کہ انسانیت کی روح کانپ جاتی ہے۔ وطن عزیز بھی اسی
تباہی والے راستے پر آگے بڑھتا نظر آرہا ہے۔ جس تیزی سے منظر نامے تبدیل ہورہے ہیں
اس سے ایسا لگتا ہے کہ کوئی قیامت صغریٰ بہت ہی قریب ہے۔ ملک کا سچافکر مند دانشور
طبقہ ہر ممکن حد تک عوام کو اس سے آگاہ کرانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے، لیکن کچھ
نام نہاد دانائے وطن عوام کومذہب اور قوم پرستی کا افیم چٹا کر انہیں حقائق سے
غافل رکھنے پر تلے ہوئے ہیں۔ عوام کا ایک طبقہ مکمل طورپر، پروپگنڈے کا شکار ہوکر
ذہنی طور مفلوج ہوچکا ہے۔ اپنے اچھے برے کی تمیز کھو کر صرف اور صرف اندھی اور نام
نہاد دشمنی میں مبتلا انتقام اور بدلے کے لئے بیتاب ہے۔ اسے یہ پڑھا دیا گیا ہے کہ
اس جنگ میں جو ایک طرفہ ہوگی دشمنوں کو ختم کرنے کے بعد بہت سا مال غنیمت ملنے
والا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے تمام معاشی مسائل کو آسانی سے سلجھا سکتا ہے اور ایک
آرام و آسائش کی زندگی گزار سکتا ہے۔ ایسا
لگتا ہے اس خوبصورت سپنے کے پیچھے جوبھیانک تاریکی ہے اس کی طرف کسی کی نظرنہیں
ہے، ہر کوئی بس اس دھن میں مبتلا ہے کہ کسی بھی طرح اس سپنے کی تعبیر پالیں۔نفرت
بغض اور عداوت کا جو زہر اُن کے دل و دماغ میں گھول دیا گیا ہے وہ انہیں اور شہ دے
رہا ہے کہ تعبیر کے لئے وہ ہر ممکن کوشش کریں، اگر اس میں ان کا اپنا نقصان ہوتا
ہوا نظرآئے تو بھی کوئی پریشانی کی بات نہیں، کیونکہ یہ سب ایک وقتی چیز ہوگی اور
پھر آگے آرام ہی آرام ہے۔
اندھیارا بہت
گہرا ہورہا ہے۔ مستقبل میں کیا چھپا ہے
کوئی نہیں جانتا۔ تباہی اور بربادی کی آہٹ تو ہر کوئی محسوس کررہا ہے لیکن اس سے
بچاؤ کی تدبیر کے لئے جتنی کوششیں ہونی چاہئیے اتنی نہیں ہورہی ہے۔ زور و شور تو
بہت ہے لیکن ٹھوس آواز کہیں سے نہیں اُٹھ رہی ہے۔ عوام کا ایک بڑا طبقہ جو انصاف
پسندہے،بھائی چارگی اور یکجہتی پر وشواس رکھتا ہے، شش و پنج میں مبتلا ابھی تک
تماشا بین بنا ہوا ہے، جب تک اس سے مکالمہ کر کے، اس کو زمینی حقائق سمجھا کر اس
لڑائی میں اس کو ساتھ نہیں لیا جائے گا، اسکو اس بات کی آگہی نہیں دی جائے گی کہ
ملک آج جس روش پر گامزن ہے اگر اسی روش پر آگے بڑھتا رہا توساری دنیا میں نہ صرف
اس کی ساکھ بری طرح متاثر ہوگی بلکہ معاشی میدان میں بھی وہ سب سے پچھڑ کر انتشار
اور انارکی کا شکار ہوجائے گا، تب تک اس میدان کارزار میں کوئی پیش رفت نہیں ہوگی۔
Comments
Post a Comment