تلخ و تُرش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ



٭جب دہلی جل رہی تھی تو کچھ جبہ و دستار والے لوگ یہاں کے حکمرانوں سے خواجہ اجمیری کی درگاہ کے لئے چادریں وصول کرنے میں مصروف تھے۔۔۔ ایک خبر
کیا کریں، پاپی پیٹ کا سوال ہے۔ چندے اور چادریں لینا چھوڑ دیں تو یہ پھر کیا کریں۔ پتہ نہیں لوگ جبہ و دستار والوں کے پیچھے ہی کیوں پڑے رہتے ہیں، کیا دنیا جہاں کی فکر کرنے کے لئے بیچارے یہی ایک باقی رہ گئے ہیں۔
٭کچھ لوگو کے لئے دنگا ہی دھندا ہے۔۔۔ ایک عنوان
اور کچھ لوگو کا دھندا دنگے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ جیسے دنگے پر تحقیقاتی کمیشن کا قیام، باز آبادکاری کے نام پر چندے، فساد سے متاثرہ افراد میں راحت کے نام پر کچھ تقسیم کرنا اور پھر ان تصاویر کی اشاعت کر کے اپنی سیاسی اور سماجی قد میں کامیاب اضافہ کر لینا وغیرہ غیرہ۔
٭اہل اقتدار کب تک عدل و انصاف کو پامال کرتے رہیں گے۔۔۔ ایک سوال
 یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے،جب تک ان کے ہاتھ میں اقتدار ہے یہ عدل و انصاف کو پامال کرتے رہیں گے کیو نکہ موجودہ دور میں اقتدار میں استحکام لانے کے لئے یہ بے حد ضروری ہے۔
٭دہلی فسادات، برہم پوری منڈل کے بی جے پی اقلیتی سیل کے صدر محمد عتیق کا الزام۔ فساد میں فیکٹری جل گئی لیکن مسلمان ہونے کی وجہ سے پارٹی نے کیا نظر انداز۔۔۔ ایک خبر
گویا جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، دنیا کا دستور یہی ہے۔لیکن اب پچھتائے کیا ہوت، نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم، نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے۔
٭ہندوستان میں کورونا وائرس کی آمد۔ دوچار دن میں ہی تیس سے زیادہ معاملے درج۔۔۔ ایک خبر
جس ملک کی آبادی ایک حصہ کئی سالوں سے بھگت نامی وائرس سے متاثر ہو کر بدھی کھو چکا ہے اور چند مہینوں سے ایک حصہ سی اے اے اور این آرسی نام وائرس سے متاثر ہو کر سڑکوں پر بھٹکتا پھر رہا ہے وہاں کروناوائرس سے کچھ ہونے والا نہیں۔ ویسے بھی یہ چائنا کا مال ہے اور زیادہ دن چلنے والا نہیں۔ 
٭سینٹر فار مانیٹرنگ اکانومیCMIEکی جانب سے جاری حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان کی بے روزگاری کی شرح فروری 2020 میں   7.78% فیصد پر پہنچ گئی ہے، جو اکتوبر 2019  کے بعد سے سب سے زیادہ ہے۔
بے روزگاری کی شرح چاہے کتنی بھی زیادہ ہوجائے فکر کی کوئی بات نہیں۔ کیونکہ ملک کے سامنے اب سب سے بڑا مسئلہ سی اے اے، این آر سی اور این پی آر ہے۔ آنے والے پچیس تیس سالوں تک اس مسئلہ پر بحث ہوگی اس کے بعد اگر حالات مناسب رہے تو بے روز گاری پر بات ہوگی  چنتا نہ کریں، شُب شُب سوچیں۔
٭ہندوستان میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے تشدد پر ایران اور ترکی نے کیا ناراضگی کا اظہار لیکن سعودی ہنوز خاموش، آخرکیوں۔۔۔ ایک سوال
سوال کرنے کے لئے جو چیز چاہئے شاید وہ سعودیوں میں اب نہیں ہوگی، کوشش کر کے امریکہ سے امپورٹ کروادیں، پھر دیکھیں وہ فر فر کس طرح سوال کرتے ہیں۔
٭یس بینک پر آر بی آئی کی پابندی، اکاؤنٹ سے مہینے میں پچاس ہزار روپے تک نکال سکیں گے اکاؤنٹ ہولڈر۔۔۔ ایک خبر
اگر صرف پچاس روپے ہی نکالنے کے لئے کہا جائے تو بھی ہم کسی کا کیا بگاڑ لیں گے۔ عوام کو قطار میں کب کیسے اور کتنوں دنوں تک لگانا ہے وہ موجودہ سرکار کو خوب آتا ہے۔ اس لئے سوال مت کریں، بھیڑ بن کر جس طرف ہانکا جائیں اس طرف چلتے رہیں۔ اچھے دن آنے ہی والے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

اِتمام حُجت کس پر؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ............ اسانغنی مشتاق رفیقی