کروناوائرس اور خیرِ امت .............................. اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ


جرعات
وقت تھم سا گیا ہے۔فضاؤں میں سناٹے پھیلنے لگے ہیں۔ دنیا بھر کی انسانی آبادیوں میں موت کا ٹانڈو دھیرے دھیرے اپنی رفتار بڑھا رہا ہے۔جس کی بناء پر ڈر اور خوف کا بھیانک ماحول بن گیا ہے۔ اتنا سب دیکھنے اور سننے کے باوجود نہ کہیں شورِ فغاں ہے نہ کہیں سینہ کوبی کی صدائیں، ماتم بھی سرگوشیوں میں ہونے لگے ہیں۔ نوحہ گر وں کے نوحے میں اب سُروں کی نہیں ہیبت کی آہٹ محسوس ہورہی ہے۔ کیا مشرق کیا مغرب، سب کی دانائی دھری رہ گئی ہے۔ قدرت کی ایک ہلکی سے کروٹ نے دنیا کا  نقشہ ہی بدل دیا ہے۔ نام نہاد ترقی کا ڈھول بیچ بازار میں پھٹ گیا ہے۔سائنسی معراج کو پالینے کا دعویٰ کرنے والا انسان ایک نظر نہ آنے والے وائرس سے اتنا ڈر جائے گا یہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔قدرت کو مسخر کرلینے والے بلند بانگ دعوؤں کی حیثیت پانی کے بلبلے سے بھی بہت کم ثابت ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے ستاروں پر کمندیں ڈالنے کے چکرمیں انسانوں نے اس بات پر غور کرنا ہی چھوڑ دیاتھاکہ اگر کبھی خود ان کی زمین ان کے پاؤں کے نیچے سے کھسکنے لگے گی تو کیا ہوگا۔ کرونا وائرس کوئی عذاب، بلا یا مصیبت نہیں بلکہ قدرت کی جانب سے ایک ہلکی سی سرزنش ہے کہ اے انسان!تو چاہے کتنا بھی آسمانوں میں اڑ لے، زمین کو چیر کر پناہ گاہیں بنا لے، خلاؤں کو مسخر کر لے، تیری حیثیت میرے آگے صفر بھی نہیں ہے۔
موجودہ صدی کی اس عظیم وبا کو لے کر ساری دنیا پریشان ہے، موت کے اس بھیانک رقص نے سخت سے سخت دل لوگوں کے دلوں کو موم کردیا ہے، انسانیت کی تاریخ میں شاید ہی ایسی بد ترین گھڑی کوئی آئی ہو جب ایک دوسرے کے ساتھ ملنے جلنے، دکھ، دردبانٹنے پر بھی پہرے لگا دئے گئے ہوں۔لوگ اپنوں کو قید تنہائی میں سسک سسک کر مرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں لیکن کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں، حتٰی کہ قریب پہنچ کر تسلی کے دو بول بولنے سے بھی گھبرارہے ہیں اور اپنی اس بے بسی اور لاچاری پر خون کے آنسو رو رہے ہیں۔
اس خوفناک اور رونگٹے کھڑے کردینے والے منظر نامے میں بھی ہماری قوم جس بے پروائی اور غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے اُس پر حیرت ہی نہیں افسوس بھی ہورہا ہے۔ خیر امت کے عہدے پر فائز ہونے کا دعویٰ کرنے والی آخری وحی کی حامل، ملت اسلامیہ، جس کا پہلا فرض ہی یہی ہے کہ وہ ایسے حالات میں آگے بڑھ کر بھلائی کے لئے انتہائی اقدام کرے اورانسانیت کو موت اور تباہی کی اس وادی سے نکالنے میں کامیاب قیادت فراہم کرے، خود خلفشار کا شکار، ضعیف العتقادی کے مرض میں مبتلا، لایعنی مباحث میں الجھی، منافقانہ دنیا بیزاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے، اس وبا کو اور تیزی سے پھیلانے کا باعث بنی ہوئی ہے۔ خیر امت کا مطلب صرف یہی نہیں ہے کہ آپ انسانوں کو خدا کا پیغام پہنچاتے رہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ انہیں دنیا میں ہر مصیبت اور پریشانی سے نجات دلاتے رہیں، ہر ناگہانی آفت کے موقع پر ان کی قیادت کریں، ہر حال میں ان کی خیر خواہی اور بھلائی کے لئے کوشاں رہیں چاہے وہ آپ کی پرواہ کریں یا نہ کریں اور سچ پوچھیں تو خیر امت کا یہی اصل مطلب ہے۔
فرض نماز بے شک اہم عبادت ہے، اور جماعت اس کے لئے ضروری شرط لیکن اسلام انسانی جان کی حرمت کو اس پر مقدم کرتاہے۔قرآنی آیات اور سنن نبوی سے ایسے کئی شواہد مل جائیں گے جن سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اگر کبھی سوال انسانی جان اور نماز با جماعت کا آئے تو انسانی جان کے تحفظ کے لئے نماز،جماعت کے بغیر گھروں میں یا جہاں ہو وہاں پڑھ لیں۔ حضرت عمر ؓ کا سفر شام جب وہاں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی تھی، آدھے راستے سے واپسی اورحضرت ابو عبیدہؓ کے اس سخت جملے پر ”افرارا ً من قدر اللہ“  یعنی اے عمرؓ! تقدیر الٰہی سے بھاگتے ہو، آپ کاسیدھا جواب ”نعم افرمن قضاء اللہ الی قضا ء اللہ“  یعنی ہاں تقدیر الٰہی سے بھاگتا ہوں مگر بھاگتا بھی تقدیر الٰہی کی طرف ہوں، اس واقعے سے بھی یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ شریعت آپ کو اس بات کی بلکل اجازت نہیں دیتی کہ آپ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے لئے تقدیر کا سہارا لیں۔ اتنے سارے واضح ہدایات کے باوجوداس مسئلے کو لے کر امت میں فتوے بازی کا بازار لگنا موجودہ ہنگامی حالات میں ہماری سنجیدگی کی پول کھولتا ہے۔ 
خدارا! سمجھیں! یہ موقع بحث و مباحثہ کا نہیں سنبھلنے کا ہے، اگر ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں میں ہماری جگ ہنسائی نہ ہو، ہم خیر امت کے منصب پر برقرار رہیں  تو پہلے اس بات پر غور و فکر کرنی ہوگی کہ کیا ہم اپنے آپ کو اس کے لائق ثابت کرنے کے تئیں سنجیدہ ہیں۔کیا ہم میں حالات کو سمجھ کر اس سے نپٹنے کی صلاحیت،قدرت کے منصوبوں کی شرح  قدرت کے قائم کردہ اصولوں سے کرنے کی اہلیت موجود ہے۔ کیاہم نے  موجودہ حالات سے نبرد آزما ہونے کے لئے کوئی ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دے رکھی ہے۔ کاش اے کاش ایسا ہو۔ اللہ ہمیں سمجھ دے۔

Comments

Popular posts from this blog

اِتمام حُجت کس پر؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ............ اسانغنی مشتاق رفیقی