Posts

Showing posts from May, 2020

Zaban-e-Khalq زبان خلق ، شمارہ 38

Image

تلخ و تُرش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

   پردھان منتری شری نریندر مودی کے اقتصادی پیکیج کا  ٭ دس 10فیصدی سے بھی کم حصہ، غریبوں اور بے روزگاروں کی راحت کے لئے ہے۔۔۔   ایک تجزیہ شکر کریں، یہ بھی بہت بڑی بات ہے، ورنہ اگر یہ بھی نہ ملتا تو آپ کیا بگاڑ لیتے۔ ٭اپنے ماسٹر کا ہو چکا ہے مڈل کلاس، اس کو پیکیج نہیں، تھالی بجانے کا ٹاسک چاہئے۔۔۔ صحافی رویش کمار ہٹلر کے دور میں جرمنی کے مڈل کلاس کا بھی یہی حال تھا۔ہندی میں شاید ایسے ہی دور کے تناظر میں کہا گیا ہے   ”وناش کالِ وپریدھا بدھی“۔۔۔ وناش کس کا ہونے والا ہے اب یہ وقت ہی بتائے گا۔ ٭کورونا بحران کے بیچ بدلے کی سیاست کر رہی ہے سرکار۔۔۔ سی پی آئی رہنما کنہیا کمار حالات کا فائدہ اُٹھانا اور سیاسی طورپر اپنے آپ کو مظبوط کرنا یہ ہر سیاسی پارٹی کا منشور ہوتا ہے۔ اس میں اچھنبے کی کیا بات ہے۔ اگر لال جھنڈے والے بھی ایسے حالات میں اقتدار میں ہوتے تو یہی کرتے۔ تاریخ گواہ ہے۔ ٭مدراس ہائی کورٹ نے کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے بیچ نقل مکانی کرتے مہاجر مزدوروں کی قابل رحم حالت کو انسانی المیہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حالت دیکھ کر آنسو روکنا کسی کے ...

موجودہ دور کا سب سے خطرناک وائرس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

  جرعات کرونا وائرس کو موجودہ دور کا سب سے زیادہ خطرناک وائرس کہا جارہا ہے۔ اس سے جو جانی اور مالی نقصان ہوا ہے اس کا صحیح اندازہ شاید ہی کبھی منظر عام پر آئے۔ لیکن یہ بات یقینی ہے کہ اس نظر نہ آنے والے حقیر سے جرثومے نے انسانی آبادی کو تُنگی کا ناچ نچا دیا ہے۔ حکومتیں بوکھلاہٹ کا شکار غلط سلط فیصلے لینے لگی ہیں تو عوام گھروں کے قیدی بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ انسانی تاریخ میں اتنی بڑی تالہ بندی نہ کبھی دیکھی گئی نہ سنی گئی۔ لوگ اتنا ڈر گئے ہیں کہ خونی رشتوں سے بھی خوف زدہ ہو کر بھاگنے لگے ہیں۔ بچوں کا باپ کے تدفین میں شرکت سے انکار، قبرستان میں دفن کے لئے جگہ نہ دینا، ایسا لگتا ہے قیامت برپا ہوگئی ہے۔حالانکہ اس نظر نہ آ کر بھی نظر آنے والے وائرس سے خوفزدہ انسان کو جب اس سے بھی خطرناک وائرس فرقہ پرستی سے متاثر، لیکن اس سے بے پرواہ دیکھتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے۔ ممکن ہے اور یقینا ممکن ہے کہ کرونا وائرس کا علاج مستقبل قریب میں دریافت ہو جائے اور انسانی آبادی اس موذی وبا سے ہمیشہ کے لئے چھٹکارا پالیں لیکن فرقہ پرستی کے جس موذی وبا کا انسان صدیوں سے شکار ہے اس سے خلاصی ک...

Zaban-e-Khalq زبان خلق ، شمارہ 37

Image

تلخ و تُرش .................................. اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

٭ہندوستان میں پنپتے اسلاموفوبیا پر خلیجی ممالک میں اُٹھے سوال۔۔۔ ایک خبر خوش فہمی مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں!!! یہ سب ان ممالک میں جاری لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہاں کے لوگوں کے وقت گزاری کے مشغلے ہیں۔جیسے ہی حالات نارمل ہوجایئں گے وہ اپنی مصروفیتوں میں گم ہوجائیں گے۔ اُس وقت اگر آپ پر قیامت بھی گزر جائے ان کے کانوں میں جوں بھی نہیں رینگیں گی۔ ٭کورونا وائرس کی وجہ سے جاری لاک ڈاؤن کے بیچ چودہ دن پیدل چل کر ممبئی سے یو پی میں اپنے گاؤں پہنچے شخص نے کچھ ہی دیر میں دم توڑ دیا۔۔۔ ایک خبر پیاسے کا کنوئیں کے پاس جا کر دم توڑناغالباً اسی کو کہتے ہیں۔ زندگی کی حقیقت بھی بس اتنی سی ہی ہے۔ عمر بھر کی تگ ود وکے بعد جب لگے گا کے راحت کے قریب پہنچ چکے ہیں موت کا جابر پنجہ دبوچنے آجائے گا۔ ٭پوری دنیا کا میڈیا جھوٹا ہے۔۔۔ مولانا طارق جمیل بے شک، لیکن مولانا سے کوئی پوچھے اس جھوٹ کے کاروبار کے جواب میں آپ سچائی کا پرچم کیوں نہیں بلند کرتے، اپنا میڈیا ہاؤس کیوں نہیں بناتے۔ تنقید کردینا آسان ہے،بدلاؤ لانے کی کوشش کرنا بہت مشکل اور یہ ہر کسی کی بس کی بات نہیں، اس کے لئے مومنانہ حلیہ نہیں مومنانہ فر...

تالہ بندی کے مثبت پہلو ........................... اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

جرعات کروناوائرس لاک ڈاؤن شروع ہوئے ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ اس وبائی عفریت سے چھٹکارے کی کوئی راست ترکیب ابھی تک دریافت نہیں ہوسکی ہے۔ لوگ اپنے اپنے گھروں میں قیدیوں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ کوئی اس وبا کو خدائی آزمائش یا کار خدا قرار دے رہاہے تو کوئی تجربہ گاہوں میں تیار کی گئی شر پرستوں کی سازش بتا رہا ہے۔ لیکن اس بات پر سب متفق ہیں کہ اس سے بچنے کا واحد راستہ سماجی دوری اختیار کرنا اور گھروں میں محدودہوجانا ہی ہے۔ دنیا بھر میں حکومتیں کہیں پیار و محبت کے ساتھ تو کہیں سختی کے ساتھ عوام کو اعلیٰ سطح پر تالہ بندی نافذ کرکے گھروں تک محدود رکھنے کی لگاتار کوششیں کررہی ہیں۔ اس کے باوجود وبا کی تیزی تا دم تحریر قابو میں آتی نظر نہیں آرہی ہے۔ وطن عزیز میں بھی سیاسی ہنگاموں اور اسلامو فوبیہ سے متاثر غلط پروپگنڈوں کے درمیان یہ وبائی مرض اپنا دائرہ وسیع کرنے میں کامیاب ہوتا نظر آرہا ہے۔ ہم مسلمان ایک جذباتی قوم ہیں، اس پر شاید ہی کسی کو اختلاف ہو۔ خاص کر بھارت میں جس قسم کے حالات ہیں اس کے تناظر میں اگرہم میں کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ اس پر تالہ بندی کے نام پر بے جا سخت...