تلخ و تُرش ........................................... اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ
۔
ہندوستان دنیا میں کووڈ سے سب سے زیادہ متاثرہ پانچواں ملک بن چکا ہے۔
متاثرین کی تعدادڈھائ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ ایسے وقت میں حکومت نے آٹھ جون سے ملک بھر میں عبادت گاہیں، ہوٹل اور مال کھول دئے ہیں۔۔۔ایک حیرت انگیز خبر
اصل میں اس خبر سے پریشانی حزب اختلاف
کو ہے، وہ اس بات سے دُکھی ہے کہ بھارت ترقی کرکے پانچویں پائدان پر کیسے پہنچ گیا
اور اُسے یہ بات بھی ہضم نہیں ہورہی ہے کہ لاک ڈاؤن اتنی آسانی سے انجام کو پہنچے،
وہ عوامی مقامات کو پھر سے پھلتا پھولتا دیکھنا پسند نہیں کرتی۔ لیکن حکومت عوام
کے ساتھ ہے، وہ عوام کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچا کر ہی دم لے گی۔
٭ مودی 2.0 کے پہلے سال میں جمہوریت کو ہی
کورنٹائن کر دیا گیا ہے۔۔۔ ایک عنوان
موجودہ حکومت کی نظر میں کانگریس کا سیکولرزم
جو بھارت میں جمہوریت کی اصل ہے، اُس کے لئے کروناوائرس سے بھی زیادہ خطرناک
ہے،جمہوریت کو کورنٹائن کر کے در حقیقت وہ اپنی بقا کو دائمی بنانا چاہتی ہے۔ اب یہ
جمہور پر منحصر ہے کہ وہ جمہوریت کو اس مسلط کی گئی کورنٹائن سے نکال پاتے ہیں یا
اسے یوں ہی بھوکے پیاسے مرنے چھوڑ دیتے ہیں۔
٭سخت لاک ڈاؤن سے تباہ ہوئی معشیت۔۔۔ صنت کار
راجیو بجاج
معیشت تباہ ہوئی ہے،کوئی بات نہیں، دو
چار سالوں میں مودی جی کچھ نہ کچھ سدھار لاہی لیں گے، اصل میں سخت لاک ڈاؤن کے ذریعے
ووٹ بینک کتنا مظبوط ہوا ہے، یہ بات
سمجھنے کی ضرورت ہے۔
٭کورناوائرس،ناک اور منہ کے ذریعے ہی نہیں
آنکھوں کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے، ڈاکٹروں کا چونکا دینے والا انکشاف۔۔۔ ایک خبر
بغیر مشاعروں کے گھروں میں بند بیچارے
اردو شاعروں پر ایک اور مصیبت، اب نہ وہ محبوب کی راہوں میں آنکھیں بچھا سکتے ہیں
نہ محبوب کی آنکھوں کی مدح میں زمین و آسمان کی قلابے ملا کر ان میں ڈوب جانے کی
کوشش کر سکتے ہیں۔ ہائے افسوس!!!
٭امریکہ میں ایک پولیس آفسر کے ہاتھوں ایک سیاہ
فام شخص کے موت کے بعد زبردست مظاہرے، عوام سڑکوں پر، ہندوستان میں اقلیتوں کو
انصاف کب؟۔۔۔ ایک سوال
یہ سوال نہیں ایک ایسا خواب ہے جس کی
تعبیر کوئی نہیں بتا سکتا، شعر سُنیے!
ہم کو اُن سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
٭ملک کی گھنی اور میڈیم آبادی والے علاقوں میں
کوروناوائرس کے کمیونٹی ٹرانسمیشن کی تصدیق ہو چکی ہے۔۔۔ماہرین
صرف کرونا وائرس ہی کی نہیں اور بھی کئی
خطرناک وائرس کی کمیونٹی ٹرانسمیشن ہوچکی ہے۔ جن میں اکثریتی زعم، فرقہ پرستی، اقلیت
دشمنی وغیرہ بڑی تیزی سے پھیل کر ملک کے ایک بڑے حصے کو انفیکٹ کر چکے ہیں۔لیکن
افسوس انکے پھیلاؤ کے روکنے کے لئے کچھ بھی نہیں کیا جارہا ہے اور نہ انہیں کوئی
خطرناک وائرس مانا جارہا ہے۔
٭ملک کی سب سے بڑی سائیکل بنانے والی کمپنی
اٹلس نے پروڈکشن کے لئے سرمایہ نہ ہونے کی بات کہہ کر اتر پردیش میں اپنا آخری
کارخانہ بھی غیر معینہ مدت کے لئے بند کر دیا۔۔۔ ایک خبر
بڑی اچھی خبر ہے، اب وہاں کے لوگ سائیکل
کے بجائے موٹر سائیکل استعمال کریں گے۔ پٹرول کی دیمانڈ بڑھے گی، میڈیکل لائن سے
بھی روزگار میں اضافہ ہوگا۔
٭مہاجر مزدور مسافروں کی موت کا ذمہ دار
کون؟۔۔۔ ایک سوال
یم دوت یعنی موت کا فرشتہ، یہ بھی
پوچھنے کی بات ہے۔ پتہ نہیں یہ اپوزیشن والے ہر بات میں بیچاری حکومت کو کیوں دوشی
قرار دیتے ہیں۔
٭ہم عرب نہیں کہ خاموش رہیں۔۔۔ امریکی مظاہرین
کا نعرہ
اس سے بڑا طمانچہ شاید ہی موجودہ صدی میں
کسی نے مارا ہو۔ لیکن یہ قوم اتنی ڈھیٹ ہوچکی ہے کہ سوائے سور اسرافیل کے یہ کسی
شئے سے بیدار ہونے والے نہیں۔
Comments
Post a Comment