غیر معمولی واقعات اور ہمارا جذباتی ردعمل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقی

  

جرعات

کسی بھی غیر معمولی واقعہ پر دو طرح کے رد عمل سامنے آسکتے ہیں۔ اگر معاشرہ تعلیم یافتہ، سمجھدار اور سلجھا ہوا ہو تو پہلے وہ واقعہ کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرے گا، اس کے تعلق سے جب یقین ہوجائے کہ ایسا ہوا ہے تو پھراس کے پیچھے چھپے مقصد تک پہنچنے کی جستجو کر ے گا، واقعہ اگر خلاف قانون ہے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی توجہ اس طرف مبذول کرنے کی سعی کرے گا۔ اگروہ کسی وجہ سے ٹال مٹول کرے تو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی ناراضگی درج کرے گا۔ واقعہ اگربد اخلاقی کے دائرے میں آتا ہے تو افہام و تفہیم کے ساتھ مرتکب کو سمجھانے کی آخری حد تک کوشش کرے گااگر سامنے والا ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کریں تو پھر اس کو اللہ کے حوالے کر دے گا کہ وہی اصل منصف ہے۔ وہیں اگر معاشرہ جاہلیت زدہ، تعلیم سے بے پرواہ، اخلاقی گراوٹ میں مبتلا ہے تو وہ فوری اور جذباتی رد عمل دیتے ہوئے قانون اپنے ہاتھ میں لے کر توڑ پھوڑ پر اترے گا، فساد پھیلانے کی جستجو کرے گاخود بھی نقصان اُٹھائے گا اور دوسروں کو بھی پریشانی میں مبتلا کرے گا۔

حالیہ دنوں میں جو بھی غیر معمولی واقعات سامنے آرہے ہیں اس کے ردعمل میں ہمارا معاشرہ جس جذباتی رد عمل کا مظاہرہ کرتا آرہا ہے اس  کے نتیجے میں ہماری جومنفی پہچان مضبوط ہورہی ہے وہ کیا ہے؟ ہم خود بہتر سمجھ لیں۔

یہ بات واضح ہو چکی ہے وطن عزیزمیں عوام کی اک بڑی اکثریت ہمیں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتی، ان کی نظرمیں ہم انتہا پسند، ذرا ذرا سی بات پر مشتعل ہوجانے والے فسادی، ہمیشہ مارپیٹ پر آمادہ رہنے والے جاہل لوگ ہیں۔ ہماری نادانی دیکھیں کہ ہم ہمیشہ بہانے بہانے سے ان کی اس سوچ کو سچ ثابت کر نے میں لگے رہتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنی سیاسی ساکھ مضبوط کر نے کے لئے اور ہماری اس کمزوری کا بھر پور اُٹھانے کے لئے کوئی نہ کوئی ایسی حرکت کر جاتے ہیں کہ ہم فورا مشتعل ہوکر قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر توڑ پھوڑ وغیرہ پر اتر آتے ہیں، یہ بات ان کے ہت میں جاتی ہے، وہ پھر سے ایک بار ہماری منفی تصویر عوام کو دکھا کر اپنا الو سیدھا کر لیتے ہیں اور ہم بدنامی کے ساتھ ساتھ مالی اور جانی نقصان بھی برداشت کر کے خود ہی مجرم اور قصوروار قرار دے دئے جاتے ہیں۔ پھر ایک لمبی مدت عدالتوں کے چکروں میں ہمارے جوانوں کی زندگیاں برباد ہوتی ہیں۔ ایسا عرصہ دراز سے ہوتا آرہا ہے لیکن پھر بھی ہم نادان بچوں کی طرح ہمیشہ وہی غلطی دہراتے رہتے ہیں۔

کہا گیا ہے مومن ایک ہی سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔ اگر ایسا ہے تو پھر کیوں ہم جان بوجھ کر غنیم کے جال میں پھنس جاتے ہیں اور اپنا نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ کیا یہ ہمارے ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔ بے شک ایسا ہی ہے، ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے آقا ﷺ نے تیرہ سال مکہ میں سخت مصیبتیں اور ظلم جھیلے، آپﷺ پر سنگ ساری کی گئی، راستے میں کانٹے بچھائے گئے، پیٹھ پر اونٹ کی اوجھڑی لادی گئی، ہر طریقہ سے آپﷺ کا مذاق اُڑایا گیا، مجنون کہا گیا، بچوں کو پیچھے لگوا کر آپﷺ پر آوازیں کسے گئے، لیکن آپﷺ نے ہمیشہ مسکرا کر ان ساری پریشانیوں کو سہا، ظلم برداشت کی، اپنا فریضہ ادا کرنے میں لگے رہے اور جب فتح مکہ پر موقعہ ملا کہ آپﷺ ان کی گرفت کریں  توآپ ﷺنے عام معافی کا حکم دے کر اپنے بلند اخلاق کا ایسا مظاہرہ پیش کیا کہ دنیا دنگ رہ گئی۔ مدنی زندگی کے دس سالوں میں بھی آپﷺ کو سکون سے رہنے نہیں دیا گیا، ایک طرف کھلے دشمن اور ایک طرف منافقین جو مچان لگائے آپﷺ کی تاک میں رہتے تھے، ان میں بھی آپﷺ نے ہمیشہ دفاعی محاذ ہی کھولا، خود کسی پر مسلط نہیں ہوئے، زبان و بیان کی پوری آزادی دی اور منافقین نے اس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے آپﷺ کو کس کس طریقے سے دکھ پہنچایا یہ سب حدیث کی کتابوں میں تفصیل سے موجود ہے لیکن ان کے ساتھ بھی آپﷺ کا رویہ مشفقانہ ہی رہا۔ اتنے بلند اخلاق والے نبی کے نام لیوا ہم آخر کیوں فوری اشتعال کا شکار ہوجاتے ہیں۔ کیا ہمارے نبیؐ کے اسوہ سے زیادہ ہمیں ہمارے جذباتی اُبال عزیز ہیں یا ہم اپنے  ناآسودہ خواہشات کی تسکین چاہتے ہیں۔یاد رکھیں، نبیؐ کے اسوہ سے غفلت برتنے کا انجام بھی فورا ظاہر ہوجاتا ہے جیسے غزوہ احدمیں جیتی ہوئی جنگ نبیؐ کی بات نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہار میں بدل گئی اسی طرح ہمارے جذباتی رد عمل سے سب سے زیادہ نقصان خود ہمیں ہی ہوتا ہے۔

حالات کو سمجھیں، ہمارے پاس اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے آپ ﷺ کا بتایا ہوا راستہ۔ تحمل اور بردباری والا راستہ، صبر اور حکمت والا راستہ، بلند اخلاق اور معاف کرنے ولا راستہ، ایک داعی والا راستہ، اس راستے پر چل کر ہم نہ صرف اپنے آ پ کو اور اپنے آنے والی نسلوں کو اللہ کی پناہ میں رکھ سکتے ہیں بلکہ مدعو قوم کو اپنا ہم نوا بنا کر ان میں کے ایک بڑے طبقے میں ابو طالب والی صفات پیدا کرکے شیطان کو وطن عزیز سے ہمیشہ کے لئے مایوس کر سکتے ہیں۔ اللہ ہمیں صحیح سمجھ دے۔

Comments

Popular posts from this blog

اِتمام حُجت کس پر؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ............ اسانغنی مشتاق رفیقی