کربلا کا سبق ......................................... اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ
جرعات
کربلا اسلامی تاریخ کا ایک ایسا عظیم سانحہ ہے جس کے دکھ اور درد سے اُمت شاید ہی کبھی نکل پائے۔ اس سانحہ پر اتنا کچھ لکھا اور بولا جاچکا ہے کہ اگر انہیں باتوں کو دہراتے رہیں تو بھی برسوں لگ سکتے ہیں۔ امام حسین ؓ کی اپنے گھرانے کے ساتھ مظلومانہ شہادت کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے، قرآن و سنت کی حفاظت، خلافت یعنی شورائی نظام کی بحالی اور ملوکیت کی نفی جیسے بلند مقاصد کے لئے دی گئی،ان کی اس شہادت سے جہاں ایک طرف باطل، ظلم اور گمراہی کے خلاف ڈٹ جانے کا سبق ملتا ہے وہیں زندگی کی آخری سانس تک اپنے مشن پر جمے رہنے کا حوصلہ بھی ملتا ہے۔ دوسری جانب اُن کی اس شہادت کے پیچھے جو طاقتیں کارفرما تھیں اُن کے آگے اقتدار یعنی کرسی کا حصول، اقتدار یعنی کرسی سے چمٹے رہنے کی شدید خواہش، اقتدار یعنی کرسی کے لئے صحیح غلط سے بے نیاز کچھ بھی کر جانے کا جنون جیسے گھٹیا مقاصد تھے۔ تاریخ شاہد ہے امام حسینؓ بغیر اقتدار کے بظاہر شکست اور شہادت کے صدیوں سے اور آج بھی کروڑوں لوگوں کے دلوں پر راج کر رہے ہیں، سینکڑوں اُن سے نسبت جوڑنے کو قابل فخر سمجھتے ہیں اور اُن کے قاتل بظاہراُن پر فتح پاکر، برسوں اقتدار میں رہنے کے باوجود قابل نفرت قرار پائے ہیں، اُن کا نام لینے والا کوئی نہیں ہے، نہ ہی اُن کے وہ عظیم الشان محلات باقی ہیں،نہ اُن کے وہ چاپلوسی مصاحبین جو اُنہیں آسمانوں پر اُڑاتے تھے اور نہ ان کے وہ تخت و تاج، جس کی خاطر وہ حد سے گذر گئے۔
اقتدار کی ہوس سچ میں اندھی ہوتی ہے،
وہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے اپنے پرائے میں کوئی تمیز نہیں کرتی۔ کرسی کی چاہ اور
اُس پر اپنی پکڑ مضبوط رکھنے کی خواہش ایک ایسا جنون ہے جس میں مبتلا ہوکر اچھے
اچھے بھی ظالم و جابر، شقی و ڈکٹیٹر بن جاتے ہیں۔ کربلا کا واقعہ بھی اقتدار کی
ہوس میں مبتلا چند جنونیوں کی شخاوت کا بد ترین مظاہرہ ہے۔ تعجب ہوتا ہے کہ وہ لوگ
جو دن میں پانچ وقت نماز میں آل رسولؐ پر سلامتی کی دعا ئیں بھیجتے تھے انہی لوگوں
نے اقتدار کے خاطر آل رسولؐ کو قتل کر
ڈالا۔ تاریخ کا جو خونی باب اِن بد بختوں نے اپنے اس ظالمانہ عمل سے لکھنا شروع کیا
وہ ہنوز رُکا نہیں ہے۔ آج بھی اس بد نصیب اُمت میں وقتا فوقتاً ایسے افراد جنم لیتے
رہتے ہیں جو اقتدار کی خاطر اپنوں کا خون اس بے دردی سے بہاتے ہیں کہ کربلا کی یاد
تازہ ہوجاتی ہے۔ ہماری اپنی صفوں میں بھی اگر ہم نظر ڈالیں توہم پر ایسے کئی چہرے
واضح ہوسکتے ہیں جن کا مقصد کسی بھی طرح کاچاہے چھو ٹا ہو یا بڑا اقتدار کا حصول
ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بظاہر دیکھنے میں سیدھے سادے، شریف النفس، ملنسار، درد مند
نظر آتے ہیں لیکن جیسے ہی کہیں اقتدار یعنی کرسی کا معاملہ آتا ہے اُن کا رنگ بدل
جاتا ہے، وہ بالکل اجنبی بن کر ہر وہ حربہ آزمانے پر اُتر آتے ہیں جس سے کرسی کا
حصول، اُس پر پکڑ اور اُس کے ساتھ دائیمیت مضبوط ہو۔ یہی وہ لوگ ہیں جو نعرہ تو
امام حسینؓ کا لگاتے ہیں لیکن عمل میں اُن
کے قاتلوں کا دم بھرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے نزدیک کرسی تک پہنچنے کے لئے کوئی صحیح
غلط نہیں ہوتی اور نہ کوئی معیار ہوتا ہے۔ چاہے اپنے اندرقابلیت کا فقدان ہو، جس
کرسی کی حصول کی جستجو ہے اُس کی الف با سے بھی واقفیت نہ ہو لیکن اپنے آپ کو ایسے
پیش کریں گے جیسے وہ کرسی بنی ہی اُن کے لئے ہے۔ قاتلین امام حسینؓ کے مقلد یہ لوگ
اپنا اقتدار مضبوط کرنے کے لئے قابل لوگوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے سے بھی باز نہیں
آتے۔ معاشرے کے مضبوط لوگوں کی، جن سے اُن کی کرسی کو کوئی خطرہ ہوسکتا ہے، کردار
کشی کے ذریعے، اُن کے خلاف افواہیں پھیلا کر یا ان کی کسی کمزوری کو لوگوں کے بیچ
عریاں کر کے لوگوں میں اُن کی ساکھ خراب کر نے کی مسلسل کوشش میں لگے رہتے ہیں،تاکہ
مستقبل میں کوئی اُن کی کرسی کو چیلنج نہ کر سکے۔
ہر وہ برائی جس کے خلاف امام حسین نے
اپنی جان کی قربانی دی، ہمارے درمیان نہ صرف شان و شوکت سے جاری ہے بلکہ معیار بھی
بن چکا ہے۔ چاہے وہ دینی ادارے ہو یا دنیاوی معاملات سے منسلک ادارے بظاہر شورائی
نظام جاری ہونے کا ڈھکوسلہ تو کیا جاتا ہے لیکن حقیقت میں بدترین یزیدی نظام کے
تحت ہوتے ہیں۔ اقتدار پر قابض ابن زیاد اور شمر کے چیلے انہیں اپنی پشتینی جاگیر کی
طرح چلاتے ہیں۔ اہلیت اور قابلت نہیں عصبیت کی بنیاد پر اقتدار کی منتقلی ہوتی ہے۔
باپ کے بعد ادارے کی کرسی، مدرسے کی مہتمم شپ، جماعت اورپارٹی کی صدارت بیٹے کو یا
بھائی کویا اس کے قریبی رشتہ دار کو ہی ملے گی۔ ایک اور بات جس میں یہ کرسی پرست یزیدی
نظام سے بھی ایک قدم آگے نظر آتے ہیں وہ ایک ہی فرد کا کئی کئی اداروں کے اقتدار
پر مکمل قبضہ ہے۔ معاشرے کا کوئی حق پرست، اما م حسینؓ کا مقلد جب اُن کی اس
ملوکانہ طر ز عمل پر سوال کھڑی کرتا ہے، تو پھر ایک کربلا برپا ہوجاتا ہے۔ وہ
گمراہ، باغی، بزرگوں کی توہین کرنے ولا، بڑوں کا نافرمان، مغرب پرست اور نجانے کیا کیا قرار دے دیا جاتا ہے۔
وطن عزیز میں جو حالات ہیں وہ کسی سے
پوشیدہ نہیں۔ پتہ نہیں کب کیا ہوجائے اور ہماری زمین ہمارے پاؤں کے نیچے سے کھینچ
لی جائے، اس سے پہلے ہمیں بیدار ہونا ہے۔ امام عالی مقامؓ نے جن اعلیٰ مقاصد کے
خاطر اپنی ہی نہیں اپنے پورے خانوادے کی قربانی پیش کی اُنہیں اپنے معاشرے میں
زندہ کرنا ہے۔ جب تک ہم اپنے اپنے اقتدار کے دائروں میں قوانینِ خلافت نافذ نہیں
کریں گے، شورائیت کواپنا طرز عمل نہیں بنائیں گے، پشتینیت اور عصبیت کے طاغوتی فکر
سے اوپر اُٹھ کر نہیں سوچیں گے، قابل اور اہل لوگوں کے حوالے اقتدار کر کے اُن کی
اقتداء میں اپنا مقدمہ لے کے آگے نہیں بڑھیں گے ہمارا بھلا نہیں ہوگا۔ اللہ ہمیں
صحیح سمجھ دے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment