واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولاتفرقو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

 

 

جرعات

واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولاتفرقو،

اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اورتفرقہ نہ ڈالو،۔۔آل عمران، آیت 103، 

قرآن مجید کی یہ ایک ایسی عظیم الشان آیت ہے کہ اگر ہم اس ایک آیت پر مکمل خلوص کے ساتھ عمل کرنے کی ٹھان لیں تو اُخروی نجات تو یقیناملے گی،ساتھ ہی یہ دنیا بھی اللہ رب العزت ہمارے لئے مسخر کردے گا،جیسا کہ قرون اولیٰ کے مسلمانوں کے لئے کیا تھا۔ لیکن افسوس، اس بات کا علم رکھنے کے باوجود ہماری اکثریت غفلت میں مبتلاہے اورجو تھوڑی بہت جمعیت باقی ہے اس میں بھی تفرقہ ڈالنے کی فکر میں لگی ہوئی ہے۔

سنی اور شیعہ کی تفریق صدیوں پرانی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ معلوم اور نامعلوم وجوہات کے بنا پر اس میں شدت پیدا ہوتی جارہی ہے، اس پر تبصرہ کرنا عبث ہے کیونکہ دونوں فریق اپنے اپنے عقیدے میں مضبوط ہوچکے ہیں اور دونوں کے پاس اپنے عقیدوں کو ثابت کرنے لئے دلائل بھی ہیں۔ اب صرف اتنا ہوسکتا ہے کہ اختلافی بحث کو چھیڑے بغیر کلمہ کی بنیاد پر اکٹھا رہنے کی تلقین کی جائیں۔

وطن عزیز میں موجودہ حالات کے پس منظر میں سنیوں میں جو دراڑیں پڑیں ہیں اس کے تعلق سے سنجیدگی سے فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلے ہی سے حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی اور اہل حدیث مسلک کے نام پر ٹکڑوں میں بٹے ہمیں دیوبندی، بریلوی، سلفی مکتب فکر کے عنوان پر بانٹا گیا۔ان میں موجود فروعی اور معمولی اختلافات کو اس قدر اچھالاگیا کہ اب یہ مکتب فکر نہ رہ کر ایک دوسرے سے متحارب فرقوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ مساجدیں الگ الگ، ایک دوسرے پر دروازے بند۔ اذان دینے کے طریقے سے لے کر مسجد کی طرز تعمیر میں بھی خود کو دوسروں سے الگ دکھانے کی پوری کوشش۔ پھر ان فرقوں میں اصلاح کے نام پر جو جماعتیں کھڑی ہوئیں جیسے تبلیغی جماعت، جماعت اسلامی و دیگر، ان کے درمیان آپسی اختلافات۔ اس بنیاد پر مساجد کی تقسیم۔ تعلقات میں شدید کڑواہٹ۔ ایک دوسرے کو گمراہ اور بے دین ثابت کرنے کی پوری کوشش۔ ایک اصلاحی جماعت میں پھر اندورنی پھوٹ اورشوریٰ اور امارت کے عنوان پر وہ دو گروہوں میں تقسیم۔ مسلک کے طرز پر سلسلے والوں کی گروہ بندی، اپنے سلسلے کو افضل سمجھنے کی ضد۔ علم کو عام کرنے کی پر خلوص جستجو میں ملک کے طول و عرض میں جو مدرسوں کا جال بچھایا گیا ان کے نام پر گروہ بندی۔ قاسمی، ندوی، فلاحی، رشادی وغیرہ پر تفاخر اور اپنا مدرسہ، وہاں کے اساتذہ، وہاں کی طرز تعلیم کو دوسرے مدرسوں سے بہتر اور برتر ثابت کر نے کے خاطر دوسروں مدرسوں اور وہاں کے اساتذہ کی تذلیل۔یہ تو ہوئی ہمارے درمیان مذہب کے نام پر موجود تفریق، جن کا ہر فریق صرف اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے۔بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی، اس سے آگے بھی ایک لمبی فہرست ہے۔

جغرافیائی حد بندی اور ذات کے عنوان پر بھی ہم میں اتنی تنگ نظری ہے کہ الامان الحفیظ۔ شمال اور جنوب کی تقسیم دوسرے قوموں کی طرح ہم میں بھی ہے، اگر کہا جائے تو کچھ زیادہ ہی ہے۔ پھر بہاری، گجراتی، مدراسی، بنگالی وغیرہ علاقائی عصبیت کا نمبر آتا ہے۔ اسی کے ساتھ پیشے کے لحاظ سے ذات کی تقسیم اور ایک دوسرے کو کم تر سمجھنے کی سوچ، جو ہمسایہ قوم کے دیکھا دیکھی ہم میں سرایت کر گئی، ہمارے سماج کو دیمک کی طرح اند ر ہی اندر کھائے جارہی ہے۔ سید اور شیوخ کو برہمن کی طرح اہل فضیلت میں شمار کر کے باقی تمام جیسے جولاہوں، تیلیوں، ْقصابوں، دھوبیوں، بھٹیاروں، لوہاروں، درزیوں، سناروں، نائیوں، چماروں، بساطیوں، کلالوں وغیرہ کو کم تر سمجھنا، لبابین اور دکنی کی تفریق، آج بھی ہم میں پورے زور و شور سے جاری و ساری ہے۔ کفو کے نام پر ذات پات کی اس غیر انسانی تفریق کو مذہبی رنگ دے کر آپسی میل ملاپ اور رشتہ و دوستی کے فروغ سے بھی روکا جاتا ہے۔

سیاسی میدان میں نہ ہونے کے برابر رہنے کے باوجود جو جماعتیں ہم میں موجود ہیں ان کی آپس میں ناگ اور نیولے کا رشتہ رہتا ہے۔ ہر جماعت، پارٹی کی ایک ہی کوشش ہوتی کہ دشمن کو بعد میں ہرایا جائے پہلے صف میں موجود اپنے بھائی کو کیسے زیر کیا جائے۔ ان پارٹیوں میں اندرونی کھینچا تانی چلتی رہتی ہے اور گزشتہ کچھ دہائیوں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ یہ جماعتیں اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر،دو دو تین تین  جماعت بن چکے ہیں، ہر پارٹی کا لیڈر الگ، جھنڈا الگ، نشان الگ، لیکن سب کا ایک ہی دعویٰ کہ وہ مسلمانوں کی فلاح و بہبودی چاہتے ہیں۔

سماجی میدان میں جو گروہ کام کر رہے ہیں ان کی حالت پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔ ایک ہی ادارے میں ایک ہی مقصد کو لے کر دو گروپ ہمیشہ باہم دست وگریبان رہتے ہیں۔ کوئی بھی فرد کسی کا پابند ہونا نہیں چاہتا بلکہ خود اپنی جگہ سب کچھ ہونا اور کہلوانا چاہتا ہے۔ انا اور ہٹ دھرمی اتنی کہ اگر مقصد بھی فوت ہو جائے کوئی بات نہیں، اپنی بات نہ گرنے پائے۔ چچا بھتیجے سے بر سر پیکار، بھائی بھائی کے خلاف، کہیں باپ بیٹوں میں ٹھنی ہوئی ہے تو کہیں سالے بہنوئی میں ٹھنی ہوئی ہے۔

اللہ رحم کرے، حالات سخت ترین ہوتے جارہے ہیں۔ دشمن ہر طرف سے ہم پر یلغار کر نے میں لگا ہوا ہے۔ معاشی، سیاسی، تعلیمی ہر میدان سے دھتکارے جارہے ہیں۔ لیکن ہمیں ان سب کی کوئی پرواہ نہیں۔ ہمیں ہمارا مسلک، ہمارا مکتبہ فکر، ہماری جماعت، ہمارا مدرسہ، ہمارا سلسلہ، ہماری پارٹی، ہماری علاقائی عصبیت ہی اول ہے، اس کے بعد ہی دین اور اس کے احکام۔ ایسے میں اللہ کا فضل ہم پر کیسے ہوگا اور اس کی مدد کیسے آئے گی؟ جب تک ہم اس کی رسی یعنی قرآن مجید کو مضبوطی سے تھام کر، اس کے احکامات کے آگے سر تسلیم خم کر کے، ہم میں موجود ہر قسم کی تفرقہ بازی کو ختم کر کے یک جٹ نہیں ہوں گے، اللہ کی مدد نہیں آئے گی۔  اللہ ہمیں صحیح سمجھ دے۔

Comments

Popular posts from this blog

اِتمام حُجت کس پر؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ............ اسانغنی مشتاق رفیقی