تلخ و تُرش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

 


٭عرب خطے میں امن کے قیام کے لئے مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل بنیادی اور ابتدائی جز ہے،  آزاد فلسطینی ریاست بننے تک اسرائیل سے تعلقات قائم نہیں ہوسکتے۔۔۔ سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز(متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہونے اوراسرائیل کے اعلیٰ سطح کے وفد کا امارات کے دورے کے لئے سعودی فضائی حدود استعمال کرنے کے پس منظر پر کہی گئی ایک بات)

بھلے سے اس آزاد فلسطینی ریاست کا رقبہ ہمارے ملک کے ایک قریہ جتنا ہی کیوں نہ ہو۔ دو قدم آگے جا کر ایک بالشت پیچھے ہٹنے کی اس سیاسی عیاری کا جواب نہیں۔ خدا شاہ سلمان بن عبدلعزیزاور ان کے خاندان کو سلامت رکھے۔

٭کیا نئی قومی تعلیمی پالیسی  2020ہندوستان میں تبدیلی لاسکے گی؟ ۔۔۔۔۔ ایک سوال

زمینی سطح پر یہ نئی پالیسی کتنے فیصد لاگو ہوتی ہے دیکھ کر ہی اس پر کچھ کہا جاسکتا ہے، کیونکہ بھارت میں ایسی کئی پالیسیاں سالوں سے لاگو ہونے کے انتظار ۔  میں قطار میں ہیں۔

 ٭وفات کے دو ہزار ایک سو  سال بعد بھی ایک خاتون اپنے تابوت میں بغیر گلے سڑے اور اکڑے، نرم حالت میں موجود۔ بال اور پلکوں کے ساتھ اندرونی اعضا بھی سلامت ہیں۔۔۔ چین سے ایک حیرت انگیز خبر

اس میں حیرت کی کیا بات ہے، عورت جب ٹھان لے تو سب کچھ ممکن ہے۔ زندگی میں بھی زندگی کے بعد بھی۔ ایک اور بات، جنہیں چینی اشیاء کی پائداری پر شک ہے وہ اپنے اس سوچ پر نظر ثانی کر لیں۔

٭شہزادہ بن سلمان کے اقتدار کومضبوط کرنے کے لئے شاہی خاندان میں گرفتاریوں کا سلسلہ جاری۔۔۔ سعودی عرب سے ایک خبر

یعنی آل سعود بھی مغلیہ خاندان کی راہ پر چل پڑے ہیں اور ممکن ہے شہزادہ بن سلمان سعودی شاہی خاندان کے تاریخ میں اورنگ زیب قرار پائے۔

٭ آنے والے صدارتی انتخاب سے پہلے، صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا گزشتہ انتخابی وعدہ پورا کرنے کے لئے، جس میں انہوں نے نہ ختم ہونے والی جنگوں میں سے امریکی فوج کو نکالنے کی بات کہی تھی، امریکا کا عراق اور افغانستان سے ستمبر کے اختتام تک ہزاروں فوجیوں کے انخلاء کا اعلان۔۔۔ ایک خبر

زمین پر بھی گریں اور مونچھ کو مٹی بھی نہ لگیں شاید اسی کو کہتے ہیں۔ انتخابی وعدہ بھی پورا ہوگا اور فوجی انخلاء کی وجہ سے ناک بھی کٹنے سے بچ جائے گی۔

٭بھارت کے دو وزرا ء کا ایک ہی ہفتہ میں ایران دورہ، مودی حکومت کے لئے ایران اچانک اتنا اہم کیوں ہو گیا۔۔۔ ایک سوال

چانکیہ نیتی میں وقت پڑنے پر گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ گدھا سچ مچ میں باپ بن گیا ہے۔ گدھا ہمیشہ گدھا ہی رہے گا۔

بہار، پندرہ سال اقتدار میں رہ چکی بی جے پی کے لئے سشانت سنگھ راجپوت کی موت انتخابی مدعا کیوں ہے؟۔۔۔ ایک سوال 

اس لئے کہ عوام ایسے ہی مدعوں پر ووٹ دیتی ہے اور بی جے پی ایک عوامی پارٹی ہے۔ رہا بے روزگاری کا مدعا، مہنگائی کا مدعا، لاء اینڈ آرڈر کا مدعا،یہ سب خواص کی اُپچ ہے،اس پر ووٹ نہیں ملتے بلکہ اکثر اوقات ڈپازٹ بھی گنوانی پڑتی ہے۔

٭بلیک پینتھر کا کردار نبھانے والے امریکی اداکار چاڈوک بوس مین کا کینسر سے انتقال۔۔۔ ایک خبر

ہم نہیں مانتے، دال میں کچھ کا لا ہے، امریکہ صدر کو چاہئے کہ وہ فورا ایف بی آئی سے اس کی تحقیقات کرائیں کہ یہ موت کینسر سے ہی ہوئی ہے یا کچھ اور بات ہے اور آنے والے صدارتی انتخاب میں اس کو ایک انتخابی مدعا بنا لیں تاکہ جیت آسان ہو۔ سُنا ہے آج کل امریکی عوام بھی بھارتیوں کی طرح ہی سوچنے لگے ہیں۔

٭کرونا وائرس متاثرین افراد میں اضافہ کے باوجوداب یہ خبر شہ سرخی نہیں بن رہی ہے۔۔۔ ایک تبصرہ

کیونکہ یہ  ”ایکٹ آف گاڈ“  ہے، اور کار خدا کو خبر بنا کر شہ سرخی میں لانا خدا کی توہین ہے۔ ہمارے عوام سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں لیکن خدا، گاڈ، بھگوان کی توہین برداشت نہیں کرسکتی۔

Comments

Popular posts from this blog

اِتمام حُجت کس پر؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ............ اسانغنی مشتاق رفیقی