تلخ و تُرش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ
٭وزیر اعظم نریندر
مودی کے انکار کے باوجود کیوں ڈٹینشن سینٹر بنا رہی ہے یو پی سرکار؟۔۔۔ ایک سوال
یہ بھی کوئی
پوچھنے کی بات ہے، ہمارے وزیر داخلہ نے واضح الفاظ میں پوری کرونولوجی سمجھا دی
ہے، پھر بھی ہمارا یہ سوال ہماری بے وقوفیت کی دلیل ہے۔ سیاست میں انکار اور اقرار
کوئی معنی نہیں رکھتے۔ اس میں جو کہا جاتا ہے وہ نہیں کیا جاتا بلکہ جو نہیں کہا
جاتا ہے وہیں کیا جاتا ہے۔ آنے والے دہائی کے بعد کے الیکشنوں میں ڈٹینشن سینٹر ایک
بہت بڑا مدعا بننے والا ہے یاد رکھیں۔
٭28 اکتوبر سے تین مرحلوں میں ہوں گے بہار اسمبلی
انتخابات، گنتی 10 نومبر کو۔۔۔ بہار سے ایک خبر
یعنی 28 اکتوبر سے 10
نومبر تک راوی بہارمیں چین ہی چین لکھے گا۔ اس کے بعد ووٹنگ مشینس کا مسئلہ اُٹھے
گا، ووٹوں کی تقسیم پر کچھ خاص پارٹیوں کو مورد الزام ٹہرا کر ان کی ہجو سرائی ہوگی۔اور
ایک آخری بات کوئی بھی جیتے، آخر میں جیت مقدر کے سکندر کی ہی ہوگی۔
٭کیا کرونا ہماری
زندگی کا حصہ بن چکا ہے؟۔۔۔ ایک سوال
بن چکا نہیں بنا
دیا گیا ہے۔ اب یہ مت پوچھیے کہ اس کے پیچھے کس کس کا ہاتھ ہے۔ یہ بات اچھی طرح
سمجھ لیں کہ ہماری حکومت کا اس مسئلہ میں کوئی ہاتھ نہیں، وہ پہلے ہی دن سے تھا لی
بجا کر، دیا جلا کر، خدمت گاروں پر پھول برسا کر کرونا کو دیس نکالا کر نے کی پوری
کوشش کر رہی ہے۔ اگر کوئی حکومت کے خلوص پر شک کرتا ہے تو یقین رکھیں وہ دیش بھگت
نہیں ہوگا۔
٭من کی بات کی
بجائے خاطر خواہ اقدامات ہوں۔۔۔ راہل گاندھی
من کی بات کہنے
سے منٹوں میں عوام کے ذہنوں تک رسائی مل جاتی ہے، نام ملتا ہے، شہرت میں اضافہ
ہوتا ہے، اس کی وجہ سے ووٹ ملتے ہیں۔لیکن اقدامات کے لئے سالوں درکار ہوتے ہیں، یہ
عوام تک فوری نہیں پہنچتے، اس سے اتنی شہرت نہیں ملتی جتنی ملنی چاہییے تو ایسے میں
کون اس کے پیچھے وقت برباد کرے، راہل جی سچ میں ابھی بھی بچکانی باتیں ہی کرتے ہیں،
پتہ نہیں انہیں سیاست کا شعور کب آئے گا۔
٭زرعی بل پر مودی
حکومت کو لگا بڑا جھٹکا، شرومنی اکالی دل نے این ڈی اے سے توڑا رشتہ۔۔۔ ایک خبر
شرومنی اکالی دل
نے مودی حکومت سے خلع لیا ہے، مودی حکومت نے شرومنی اکالی دل کو تین طلاق نہیں دی
ہے، اس لئے رجوع کا امکان ابھی بھی باقی ہے۔ویسے بھی سیاست میں رشتہ ٹوٹنے اور
رشتہ جڑنے میں منٹوں کا فا صلہ ہوتی ہے۔
٭آزمائش کے اس
دور میں کانگریس اگر مسلمانوں کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئی تو وعدہ فراموشی ہوگی۔۔۔
کرناٹکا کانگریس رہنما رحمٰن خان
کانگریس سے وعدہ
وفائی کی امید۔۔۔ہائے ہائے، ہمیں ہمارے رہنماؤں کی معصومیت پر ترس آتاہے۔ عوام اب
سب اچھی طرح سمجھتی ہے، بقول غالب۔۔
تیرے وعدے پر
جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مرنہ
جاتے اگر اعتبار ہوتا
٭حکومت اردو
والوں کے جذبات سے نہ کھیلے۔۔۔ ایک بیان
ستر سالوں جس کی
عادت سی ہوگئی ہو وہ کیسے چھوٹ سکتی ہے اور ویسے بھی اردو والوں کے جذبات سے صرف
حکومت ہی نہیں، اس کے نام نہاد چاہنے والے بھی تو کھیلتے رہتے ہیں۔
٭مذہب کی بنیاد پر
شہریت قانون بنا نا جائز نہیں۔۔۔ سابق نائب صدر جمہوریہ محمد حامد انصاری
جائز اور ناجائز
کی باتیں اب صرف داخل نصاب ہیں، عمل میں وہی لاگو ہوتا ہے جو حکومت چاہتی ہے۔ مذہب
کی بنیاد پر شہریت قانون ہی نہیں اور بھی بہت کچھ بننے والا انتظار کریں یا پھر۔۔۔
٭بھگت سنگھ کے
فکر و فلسفہ کو نہیں ماننے والا رائٹ ونگ ان کو اپنا ہیرو کیوں بنانا چاہتا ہے؟۔۔۔
ایک سوال
ووٹ کے لئے۔ یہ
سب سمجھنے کی بات ہے، چانکیہ نیتی سچ میں کمال کی نیتی ہے۔
Comments
Post a Comment