Posts

Showing posts from October, 2020

Zaban-e-Khalq زبان خلق ، شمارہ 48

Image
 

تلخ و تُرش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

    ٭نبی کریمؐ کی شان میں گستاخی آمیز کارٹونوں کی حمایت اور اسلام مخالف تبصرہ کی وجہ سے فرانسیسی صدر کے خلاف عالم اسلام میں شدید برہمی اور احتجاج۔۔۔ ایک عالمی خبر   کہیں یہ مسلم حکومتوں کا اسرائیل سے قائم ہوتے رشتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے عوامی جذبات کو ایک الگ رخ پر موڑنے کی کامیاب چال تو نہیں۔ اگر ایسا ہے تو اس پورے مسئلے کے پیچھے کس کا کیا کردار ہے شاید ہی کبھی اس پر سے پردہ اُٹھے گا۔ ٭بہار میں بے روزگاری سے بڑی کوئی دہشت نہیں۔۔۔آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو صرف بہار نہیں پورے ملک میں بے روزگاری ہی اصلی دہشت ہے، اسی کی وجہ سے فساد اور انتشار پھیل رہا ہے لیکن حکومت مخصوص فائدے کے لئے، بے کار اور لایعنی چیزوں پر ہماری توجہ مبذول کراتی رہتی ہے۔ ہم بھی بیچارے الو بننے میں آج کل بڑی مہارت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ٭مخالفین کے خلاف تنظیموں کا استعمال کر رہی ہے مرکزی حکومت۔۔۔ کانگریس صدر سو نیا گاندھی صرف تنظیموں کا نہیں، مخالفین کے خلاف اور بھی بہت ساری سادھنوں کا استعمال کر رہی ہے۔ لیکن سوال اُٹھائے گا کون؟ ایک اور بات مرکزی حکومت کو اتنا طاقتور بنانے میں اس کی کوششو...

وتعاونو اعلی البر والتقوی (سورۃ المائدۃ۔ ۱) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

  جرعات  وتعاونو اعلی البر والتقوی ۔۔ سورۃ المائدۃ۔1  اور ایک دوسرے کی نیک کام اور پرہیزگاری کے کاموں میں مدد کیا کرو۔ انسان ایک معاشرتی حیوان ہے، وہ کبھی بھی تنہا اور اکیلا زندگی گذار نہیں سکتا، اسے زندگی کے ہرموڑ پر ایک ساتھی اور سہارے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اپنی بنیادی ضرورتوں کے لئے اُسے ایک دوسرے کا محتاج ہونا پڑتا ہے، یہ قانون فطرت ہے اور اس سے فرار ممکن نہیں۔ اسلام ایک فطری دین ہے، اس کے احکامات انسان کی اِس فطرت کو ملحوظ رکھتے ہوئے بنائے گئے ہیں۔ چاہے وہ حقوق اللہ ہو یا حقوق العباد، دونوں حقوق کی ادائیگی کے لئے جو بھی قوانین اتارے گئے ہیں ان میں معاشرہ کا کردار بہت اہم ہے۔فرض نماز جو ایک اہم عبادت ہے جس کے بغیر دین کا تصور مکمل نہیں ہوتا، اس کے لئے اہم شرط جماعت کی ہے۔ مسجد کا تصور بھی ایک دوسرے کو جوڑے رکھنے کے لئے بنایا   گیا ہے۔ زکواۃ   ایک اہم عبادت ہے، لیکن اس کا مقصدبھی معاشرتی رشتوں میں مضبوطی لانا ہے۔ روزہ جوبظاہر انفرادی عبادت نظر آتا ہے لیکن اس میں بھی افطاری کے وقت اجتماعیت کو احسن قرار دیا گیا ہے اور روزہ کا مقصد ہی ایک دوسرے کی غم خواری بتا...

Zaban-e-Khalq زبان خلق ، شمارہ 47

Image
 

تلخ و تُرش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

    ٭بابری مسجد مذہب کے لئے نہیں، اقتدار حاصل کرنے کے لئے مسمار کی گئی تھی۔۔۔ ڈاکیومنٹری فلمساز آنند پٹوردھن بے شک، لیکن بھگت یہ بات سمجھتے کب ہیں، ان کے نزدیک انہیں جو پڑھا دیا گیاہے وہ ہی اصل ہے۔ کوئی لاکھ کچھ کہہ لیں، ثبوت پیش کریں، انہوں نے جو سمجھ رکھا ہے اُس سے ایک بالشت بھی پیچھے ہٹنے والے نہیں، ہمارے جنونی مسلک پرستوں کی طرح۔ ٭یوپی میں انسانی حقوق کی پامالی پر کوئی سوال نہیں کیوں؟۔۔۔ ایک سوال یوپی میں انسانی حقوق کی کوئی پامالی نہیں ہورہی ہے، اپوزیشن اور اربن نکسل بیکار میں واویلا مچا رہے ہیں۔ وہ ہر جاندار شئے کو انسان انسان کہہ کر حکومت کوغلط دشا میں لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں، حکومت اچھی طرح جانتی ہے کے اس کے قلمرو میں انسان کون ہیں اور وہ ان کے حقوق کی مکمل حفاظت کر رہی ہے۔ ٭ہاتھرس جاتے ہوئے گرفتار کئے گئے صحافی اور دیگر 3 مسلم نوجوانوں پر غداری کا کیس۔۔۔ ایک خبر ہزار بار سمجھایا جاتا ہے کہ اپنی اوقات میں رہو، لیکن یہ لوگ سمجھتے نہیں،حکومت کے معاملات میں دخل دینے کی ضد پکڑے ہوئے ہیں، شکریہ ادا کریں کہ صرف غداری کاکیس ہوا ہے ورنہ انکاونٹر اور ماب لینچنگ بھی ہوسکتا تھ...

تعلیم گاہیں، مدارس اور نصاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

جرعات آزادی کے بعد برادران وطن کی ایک بڑی اکثریت ہندو، سکھ، بدھ متی، جینی، عیسائی وغیرہ نے تعلیم کے میدان میں جو شاندار ترقی کی ہے وہ قابل داد ہے۔ اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم کے جتنے مواقع میسر آئے اُن سے سو فیصد مستفیض ہونے کی کوشش میں،لگن اور محنت کے ساتھ مکمل کامیابی حاصل کر کے آج یہ لوگ اتنے بلند مقامات پر براجمان ہیں کہ جنہیں دیکھ کر رشک آتا ہے۔ لیکن افسوس!ہم مسلمان، جن کے نزدیک تعلیم کا حصول بنیادی فریضہ قرار دیا جاتا ہے وہ اس میدان میں بہت پیچھے ہیں۔حالات اور حکومتوں کو دوش دینے کے بجائے اگر ہم اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر دیکھ لیں تو اس بات کے لئے کافی ہے کہ چلو بھر پانی میں شرم سے ڈوب مریں۔ انگریزوں سے ورثہ میں ملی تعلیمی نظام کو ہم نے بغیر غور و خوص کہ آزادی کے بعد بھی آگے بڑھایا، عصری اور دینی علوم کی جو تفریق قائم تھی اُسے بغیر چھوئے اپنے نسلوں پر تھوپا اور یوں تعلیم کے میدان میں بھی دو لخت ہوگئے۔ یہ اور بات کہ دو ٹکڑے ہو کر بھی کسی بھی ایک دھڑے سے کوئی کارہائے نمایاں انجام نہ دے سکے۔ عصری تعلیم کا جھنڈا سر سید نے بلند کیا، ان کا مقصد مسلمانوں میں عصری تعلیم کو عام کرنا ت...