Posts

Showing posts from November, 2020

Zaban-e-Khalq زبان خلق ، شمارہ 50

Image
 

تلخ و تُرش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

  ٭ لو جہاد پر گھماسان، بی جے پی مقتدرہ ریاستوں کی سرکاریں لو جہاد کے خلاف بل لانے کی مکمل تیاری کرچکی ہیں،اپوزیشن نے سرکاروں کے اس طرح کا قانون بنانے کو شخصی آزادی میں دخل اور ملک میں فرقہ وارانہ کھائی کو گہرانے کی کوشش قرار دیاہے۔۔۔ ایک خبر لو جہاد نامی ایک خیالی اُپچ کے خلاف قانون بنا کر موجودہ سرکار کا جو بھی ہدف ہو لیکن اس سے امہ کو ضرور فائدہ ہوگا۔امہ کے اُن نوجوان کو جو اپنوں کے حسرت بھری نگاہوں کو نظر انداز کر کے انہیں عمر بھر کے لئے آرزوؤں کے انگاروں میں جھلستا ہوا چھوڑ کر یا انہیں مرتد ہونے پر مجبور کر کے ہوس کو محبت کا نام دے کر غیروں کے پیچھے تن من دھن لٹا تے ہیں ان کو سبق سکھا کر گھر واپسی کرانے کا اس سے بہتر طریقہ شاید ہی کوئی ہوسکتا ہے۔ ٭جے ڈی یو کو پھسلنے سے روکنے میں ناکام رہے نتیش کمار کیا اس بار اپنے ادھورے وعدے پورے کر پائیں گے یا پھر اس باری میں وہ بی جے پی کے آگے گھٹنے ٹیکنے کو مجبور ہوں گے؟۔۔۔ایک سوال گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں، یوں کہئیے گھٹنے ٹیک چکے ہیں۔ وزراء کی فہرست میں ایک بھی اقلیتی طبقہ کے نمائندے کا نہ ہونا اس کی شروعات ہے۔ آگے آگے دیکھئے ہو...

ٹمل ناڈو اسمبلی انتخابات، ہمارا ہر ووٹ ہمارا مستقبل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

جرعات متحد رہنے کی برکات سے ہم مسلمان جتنے واقف ہیں شاید ہی دوسرا کوئی ہو۔ چودہ سو سالہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب جب امت نے متحد ہوکر کسی بات کی ٹھانی ہے وہ حاصل کر کے رہی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ قرون اولہ کے دور کے مسلمانوں میں فکری اختلافات نہیں تھے۔ لیکن جب بھی امہ کے مشترکہ مفاد پر کوئی چوٹ پڑی سب اپنے اختلافات بھلا کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح جم گئے اور باطل طاقتوں کو منہ توڑ جواب دے کر انہیں پسپا کر دیا۔ تاریخ سے اس پرکئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ افسوس! اتنا سب کچھ جاننے کے باوجود آج مسلمانوں کی جو حالت ہے اُ س پر خون کے آنسو رونے کو جی کرتا ہے۔ فکری اختلافات تمام حد پار کرکے اب مستقل ایک مذہب کی شکل اختیار کرتے جارہے ہیں۔ دین اور شریعت کی صحیح تفہیم کا دعویٰ کرتے ہوئے شہر کے ہر نکڑ پر کئی کئی مکتبہ ء فکر چوپال جمائے بیٹھے ہیں۔ ہر کوئی صرف اپنے کو حق سمجھتا ہے اور دوسروں کو گمراہ اور بے دین قرار دے کر ان کی ہجو اُڑاتا پھرتا ہے۔ سماجی معاملات میں جتنے بھی ادارے اور جماعتیں ہیں ان میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی ایک طرف ہوڑ لگی ہوئی ہے تو دوسری طرف خود ان کے اندر بھی گروہ ...

Zaban-e-Khalq زبان خلق ، شمارہ 49

Image
 

تلخ و تُرش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

  ٭بہار اسمبلی انتخابات، گیارہ  سیٹوں پر ہار جیت کا فرق ایک ہزار سے بھی کم، آرجے ڈی کا ووٹ فیصد بھی سب سے زیادہ اور بڑی پارٹی بھی وہی، لیکن ین ڈی اے اکثریت کے بل بوتے پر اقتدار پر قابض۔۔۔ ایک بڑی خبر یہی تو جمہوریت ہے، یہاں سر گنے جاتے ہیں باقی ساری باتیں ضمنی ہیں۔ جب تک آپ اس نہج پر سیاست کی داؤ نہیں کھلیں گے آپ عوام میں مقبول ہو کر بھی ہارتے ہی رہیں گے۔ ٭بنگال میں ممتا بنرجی کیا بی جے پی کی وجے رتھ کو روک پائیں گی؟۔۔۔ ایک بڑا سوال ناممکن تو نہیں لیکن مشکل ضرور ہے، بی جے پی کی چانکیہ نیتی کو توڑ اسی کے جیسے بننے میں پوشیدہ ہے اور ساتھ ہی عوام میں ووٹ کٹاؤپارٹیوں کے تئیں بیداری لانے کی بھی ضرورت ہے۔ ٭صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے جھوٹ کی بو سونگھ کر کئی امریکی ٹی وی نیٹ ورکس نے براہ راست کوریج روک دیا۔۔۔ ایک خبر امریکہ اگر عالمی لیڈر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو بجا ہے، کیونکہ اندرون خانہ اُس کے یہاں جمہوریت کے تمام ستون ایک دوسرے کے اثر میں آئے بغیر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ سوچئے!کیا ایسا ہمارے بھارت میں ممکن ہے۔ ٭بہار اسمبلی انتخابات، کس نے کس کا کھیل بگاڑا؟۔۔۔۔ ایک ...

بڑھتی ہوئی مایوسی کا اندھیرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

    جرعات زمانہ ہر روز ایک قیامت کی چال چل رہا ہے۔ منظر نامے اتنے تیزی سے بدل رہے ہیں کہ کچھ بھی یقینی نہیں رہ گیا ہے۔ گزشتہ سال کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں رہا ہوگا کہ آنے والا سال انسانوں کے لئے کیا کچھ لے کر آرہا ہے۔ ایک ہوا چلی اور بس یوں لگا کہ دنیا ساکت ہوگئی ہے۔ انسانوں کی چیخ و پکار، مشینوں کے بے ہنگم شور سب بند، نہ مسجدوں سے ذکرکی آوازیں نہ مندروں اور گرجاؤں سے گھنٹیوں کی صدا۔ ایسا گہرا سکوت کہ زور سے سانس لینے پر بھی کچھ ٹوٹ جانے کا گمان ہو۔ ان سب سے پرے قدرت کی مسکراتی چہچہاہٹ کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ کوئی ہماری اس بے بسی کا لطف لے رہا ہے۔ سورج، چاند اور ستاروں کی گردشوں میں کوئی فرق نہیں، نہ زمین پر بارش کے برسنے میں کوئی تبدیلی آئی نہ رات اور دن کے نکلنے میں کوئی بدلاؤ آیا۔ قدرت کا نظام حسب معمول رواں لیکن انسانوں کی ہلچل منجمد ہو کر رہ گئی۔ انسانی تاریخ میں وبائیں تو بہت ساری آئیں لیکن ایسی وبا نہ کبھی کسی نے دیکھی نہ سُنی۔ مذہبیوں نے اسے خدا کی ناراضی سے منسوب کیا تو ملحدوں نے فطرت سے چھیڑ چھاڑ کو اس کی وجہ بتائی اور سائنسیوں نے اس کے لئے خود انسانو...