بڑھتی ہوئی مایوسی کا اندھیرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

  

جرعات

زمانہ ہر روز ایک قیامت کی چال چل رہا ہے۔ منظر نامے اتنے تیزی سے بدل رہے ہیں کہ کچھ بھی یقینی نہیں رہ گیا ہے۔ گزشتہ سال کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں رہا ہوگا کہ آنے والا سال انسانوں کے لئے کیا کچھ لے کر آرہا ہے۔ ایک ہوا چلی اور بس یوں لگا کہ دنیا ساکت ہوگئی ہے۔ انسانوں کی چیخ و پکار، مشینوں کے بے ہنگم شور سب بند، نہ مسجدوں سے ذکرکی آوازیں نہ مندروں اور گرجاؤں سے گھنٹیوں کی صدا۔ ایسا گہرا سکوت کہ زور سے سانس لینے پر بھی کچھ ٹوٹ جانے کا گمان ہو۔ ان سب سے پرے قدرت کی مسکراتی چہچہاہٹ کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ کوئی ہماری اس بے بسی کا لطف لے رہا ہے۔ سورج، چاند اور ستاروں کی گردشوں میں کوئی فرق نہیں، نہ زمین پر بارش کے برسنے میں کوئی تبدیلی آئی نہ رات اور دن کے نکلنے میں کوئی بدلاؤ آیا۔ قدرت کا نظام حسب معمول رواں لیکن انسانوں کی ہلچل منجمد ہو کر رہ گئی۔

انسانی تاریخ میں وبائیں تو بہت ساری آئیں لیکن ایسی وبا نہ کبھی کسی نے دیکھی نہ سُنی۔ مذہبیوں نے اسے خدا کی ناراضی سے منسوب کیا تو ملحدوں نے فطرت سے چھیڑ چھاڑ کو اس کی وجہ بتائی اور سائنسیوں نے اس کے لئے خود انسانوں کے بعض حرکتوں کو ذمہ دار قراردیا۔بات جو بھی رہی ہو، اس میں پھنس کر انسانوں کا وہ طبقہ جو ہمیشہ غربت، ظلم اور ناانصافی میں پستا رہا ہے اور بھی بُری طرح پس کر رہ گیا۔ استحصال کرنے والوں نے اس کا خوب استحصال کیا۔ خوف کی اس فضا کو اپنے حق میں ہموار کر کے عیار سیاست دانوں نے کمالِ عیاری سے جہاں اپنی کرسیاں مضبوط کر لیں وہیں سرمایہ داروں نے اپنی تجوریاں خوب بھر لی۔

ایک طرف وبا سے مرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں گنی جارہی ہے تودوسری طرف ایک خاص طبقے کی ترقی کا گراف بہت تیزی سے اوپر کو جارہا ہے۔ ہر وہ مجلس، اجتماع، جلسہ، جلوس جس سے کسی سیاست دان یا سرمایہ دار کا کوئی مفاد وابستہ نہیں، بند۔ لیکن ہر وہ محفل اور جلسے جن سے سیاست دانوں اور سرمایہ داروں کا مفاد وابستہ ہے بغیر کسی رکاوٹ کے جاری۔ اس دوہرے معیار کی وجہ سے کچھ لوگ وبا کا ہی انکار کرنے لگے ہیں حالانکہ یہ غلط ہے۔ جب سے دنیا قائم ہوئی ہے یا انسانی تاریخ لکھی اور یاد رکھی جانے لگی ہے، انسانوں میں موجود ایک خاص طبقے نے اپنے مفاد ات کے تحفظ کے لئے ہر بری اور اچھی چیز کاہمیشہ استحصال کیا ہے۔ چاہے وہ مذہب ہو یا فلسفہ، سائنسی ایجاد ہو یا فنون لطیفہ یہ تمام انسانوں کے بہتری اور ترقی کے لئے وجود میں آئے لیکن ان سب کا ان کے وجود میں آنے کے تھوڑے ہی عرصے میں، اس مفاد پرست طبقے نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے کامیاب استحصال کیا ہے۔ اسی طرح وبا اور موذی بیماریوں کو بھی پھیلنے کے مواقع فراہم کر کے پھر ان کے علاج کے نام پر مسیحا بن کر عوام کو بے وقوف بنانے میں ہمیشہ کامیاب رہے ہیں۔

غریب اور مظلوم طبقہ کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ اپنے مفادات کی پہچان نہیں رکھتا، فیصلے جذبات میں بہہ کر عقل اور حقائق کو پرے رکھ کرکرتا ہے، خاص کر مذہب کے حوالے سے بہت حساس ہوتا ہے۔ اس کی اس کمزوری کا سرمایہ دار طبقہ ہر موڑ پر استحصال کرتا ہے، اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے اسے کٹھ پتلی بنا کر نچاتا ہے،عیار سیاستدانوں کے ذریعے آپس میں الجھائے رکھتا ہے۔ مذہب کے نام پراپنے زر خرید ملاؤں، صوفیوں،پنڈتوں،سادھوؤں، پادریوں، اورنام نہاد مذہبی رہنماؤں کے ذریعے سماج کو ٹکڑوں میں بانٹ کر معاشرے پر اپنی گرفت مضبوط کرتا ہے تاکہ اس کے سرمائے میں اضافہ ہوتا رہے اور کوئی اس کی اختیار کو چیلنج نہ کرے۔

دنیا کے دوسرے اکثر ممالک کی طرح آج وطن عزیز میں بھی یہی سب کچھ ہورہاہے۔ سرمایہ دار طبقہ، عیار سیاست دان اور مذہبی جنونیوں کا ایک ایسا گھٹ جوڑ وجود میں آگیا ہے جو اپنے اپنے مفادات کے لئے مکمل اشتراک کے ساتھ عوام کو گمراہ کر کے ان کا کامیاب استحصال کرنے میں لگ گیا ہے۔ ان کی خوش بختی کہیں یا مظلوم عوام کی بد بختی کہ وطن عزیز بھی اس عالمی وبا کے لپیٹ میں آگیا اور یوں اس طبقے کو استحصال کا ایک اور نادر موقع مل گیا۔ پہلے تو اس وبا کو ہی ایک مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی گئی پھر اس وبا کے پھیلنے کی وجہ ایک اقلیتی مذہبی طبقے کو قرار دے کر اس سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی اور اس وبا کے ذیل میں وجود میں آنے والی لاک ڈاؤن کی آڑ میں کئی ایسے فیصلے لئے گئے جس سے سرمایہ دار طبقے کی مفادات کو زبردست تحفظات حاصل ہوئے۔ عوام کو مذہبی بھول بھلیوں میں الجھا کر ان کے ذہنوں کو اس قدر ماؤف کر دیا گیا ہے کہ اپنی تمام مشکلات اور مسائل بھول کر یہ جانتے ہوئے بھی ان مشکلات اور مسائل کے ذمہ دار،سرمایہ دار، عیار سیاست دان اور مذہبی جنونی ہیں، انہیں کی مفادات کا اب یہ اپنی جان سے بڑھ کر تحفظ کرنے لگے ہیں۔

حالیہ بہار اسمبلی انتخابات اور ملک کی کئی ریاستوں میں ہوئے ضمنی انتخابات سے یہ بات عیاں ہوچکی ہے کہ مذہبی شدت پرستی کاوہ جن جس کو سرمایہ داروں نے چراغ سے نکالنے میں اپنا سرمائے کا بہت بڑا حصہ سرف کیا ہے تاکہ عوام اسی تماشے میں الجھے رہے اوریوں ان کے

 مفادات کا تحفظ ہو، وہ باہر آکر تانڈو ڈالنے لگا ہے۔ عوام ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر اپنے فیصلے عقل سے نہیں جذبات سے لینے لگی ہے۔ پتہ نہیں اسے کب ہوش آئے گا۔ آئے گابھی یا نہیں، کیا قدرت کے خزانے میں عوام کے لئے صرف استحصال ہی ہے۔ کیا یہ دنیا ہمیشہ سرمایہ داروں کے اشاروں پر ہی ناچے گی۔ کیا عیار سیاستداں اور مذہبی جنونی، سرمایہ داروں کی سرپرستی میں عوام کا خون ہمیشہ  چوستے رہیں گے۔ 

شاید ہی کسی کے پاس اس کا جواب ہو!!!

اگر مستقبل اسی بڑھتی ہوئی مایوسی کا تسلسل ہے تو مایوسی کی اس بھیانک تاریکی میں امید کا دیا کون جلائے گا؟ اللہ رحم کرے۔


Comments

Popular posts from this blog

اِتمام حُجت کس پر؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ............ اسانغنی مشتاق رفیقی