تلخ و تُرش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ
٭کووڈ کی وجہ سے دوہزار تیس تک ایک ارب سے زیادہ
افراد انتہائی غربت کا شکار ہوسکتے ہیں۔۔۔اقوامِ متحدہ
ویسے بھی اب کونسے دولت مند ہیں جو
دوہزار تیس تک انتہائی غریب ہوجائیں گے، بس اتنا ہوگا کہ تھوڑی پریشانیاں اور بڑھ
جائیں گی،غریب کو ہمیشہ غم سہنے کی عادت رہتی ہے وہ یہ درد بھی سہہ لیں گے۔ اقوام
متحدہ کو غریبوں کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں، وہ اپنے سرمایہ دار آقاؤں کے مفادات
کا تحفظ کرتی رہیں اُس کے لئے یہی بہت ہے۔
٭یورپی یونین نے ترکی کو بحیرہ روم میں گیس کی
ذخائر کی دریافت سے روکنے کے لئے پابندیاں عائد کرنے پر مشاورت کی۔۔۔ ایک خبر
یورپی یونین اپنی تمام نام نہاد ترقی
پسند سوچ کے باوجود ایک حاسد پڑوسن ہی نکلی جس کی ناک، کان اور آنکھ ہمیشہ پڑوسی کی
ہانڈی، دروازہ اور دیوار کے ساتھ لگی رہتی ہے، وہاں تھوڑی سی ہل چل ہوئی، ادھر اس کے
سینے میں آتش فشاں ابلنے لگے۔ ہائے افسوس
٭فلسطین کے لئے اصولی موقف میں کوئی تبدیلی
نہیں،مملکت سعودیہ ہمیشہ کی طرح آج بھی اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہے اور فلسطینی
اراضی پر اسرائیل قبضے کے خلاف ہے۔۔۔سعودی کابینہ
بھگتوں کے لئے تسلی کے یہ بول کافی ہیں
لیکن ہم جیسے کافروں اور مشرکوں کے لئے۔۔۔
اب ہم کیا کہیں، غالب کی زبان میں سن لیجئے
تیرے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ
جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
٭مودی سرکار کو جمہوریت پسند نہیں۔۔۔ کانگریسی
رہنما راہل گاندھی
تو کیا آپ کو جمہوریت پسند ہے؟اگر ہے
تو پھر آپ کی پارٹی میں کتنی جمہوریت ہے؟ اس پر بھی کچھ تبصرہ ہوجائے تو کتنا اچھا
ہوگا۔
٭بالی ووڈ کی سابق اداکارہ ثنا خان شوہر مفتی
انیس کے ساتھ ہنی مون منانے کشمیر پہنچیں۔۔۔ ایک خوبصورت خبر
جنت الارضی کی طرف یہ خوبصورت سفر
مبارک ہو مفتی صاحب، ایک شعر آپ کی نذر
حوروں کا انتظار کرے کون حشر تک
مٹی کی بھی ملے تو روا ہے شباب میں
لیکن یاد رہے یہ سب ہم اوپری من سے کہہ
رہے ہیں، حقیقت میں آ پ کی قسمت کو دیکھ کر ہم رشک اور حسد سے جلے بھنے بیٹھے ہیں۔
٭ ممبئی میں کراچی بیکری کے نام پر تنازع کے
بیچ مہاراشٹرا کے سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کے اس بیان پر کہ ”کراچی بھی ایک
دن ہندوستان کا حصہ ہوگا“ شیو سینا کے لیڈر سنجے راؤت نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ
”کراچی بعد میں جائیں گے، پہلے مقبوضہ کشمیر تو واپس لو۔۔۔ ایک خبر
کیا بات ہے سنجے راؤت جی! اس سے بہتر طنز
سابق وزیر اعلیٰ کے بیان پر کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔جگ جگ جیو۔یعنی بقول شاعر
آگ اپنے ہی دامن کی ذرا پہلے بجھالو
فرصت ہوتو پھر ہم کو بھی جلنے سے بچالو
٭کانگریس کمزور ہوئی ہے، ختم نہیں۔۔۔ کانگریس
لیڈر غلام نبی آزاد
تو کب ختم ہوگی!!! کمزور ہوئی ہے کا مطلب کیا ہے، کہیں یہ تو نہیں
کہ بی جے پی کی بی ٹیم بن گئی ہے، اُس کو جتانے میں ایک بڑا کردار ادا کر رہی ہے۔
اگر ایسا ہے، شاید ایسا ہی ہے تو اب اس کے ختم ہونے میں زیادہ دیر باقی نہیں رہ گئی
ہے۔
٭صحافت ایک ذمہ دار پیشے کا نام ہے، اس کی سب
سے اہم شرط غیر جانبداری ہے۔۔۔ایک بیانیہ
بات سو فیصد درست ہے لیکن یہ ماضی کی
بات ہے، صحافت پر جب سے سرمایہ داروں کی اجارہ داری قائم ہوئی ہے نہ یہ ذمہ دار پیشہ
رہا ہے نہ غیر جانبدار۔موجودہ دورمیں صحافت کا مطلب اندھ بھگتی کو فروغ دینا،
حکومت کے جبر و استبداد کی تاویل کرنا، سرمایہ داروں کے مفادات کا تحفظ کرنا رہ گیا
ہے۔
٭نظریہ ارتقاء، زندگی کے آغاز کے بارے میں
چارلس ڈراون کا خیال شاید درست ہی تھا۔۔۔ بی بی سی
مذہبی نظریہ سے ہٹ کر اگر دیکھا جائیں
تو ڈراون کی بات میں بہت دم ہے۔ موجودہ دور کے انسانوں میں جتنی حیوانیت دیکھنے کو
مل رہی ہے اس سے تو ایسا لگتا ہے کہ انسان بننے کے لئے اس نسل کو اور کئی صدیاں
چاہئیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment