تلخ وترش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق رفیقیؔ

  

٭پٹرول اور ڈیزل کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ گیس بھی ہوا مہنگا۔ ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں پچاس روپئے کا اضافہ، پریس کانفرنس میں سلنڈر رکھ کر کانگریس نے حکومت کو گھیرا۔۔۔ ایک خبر

لیکن موجودہ حکومت کے کان میں جوں بھی نہیں رینگے گی،کیونکہ اسے پتہ ہے کانگریس کے چلانے سے کچھ نہیں ہونے والا، زمانہ بدل گیا ہے، لوگوں کواب ان مسئلوں پر بھڑکایا نہیں جاسکتا۔ عوام کو سڑکوں پر لانے کے لئے زمینی مسئلے نہیں آسمانی مسائل چاہئے اور آسمانی مسائل اُٹھانے کا فن صرف موجودہ حکومت کو آتا ہے۔

٭مسلمان داعیانہ کردار اپناتے ہوئے ہمت و حکمت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کریں۔۔۔ ایک نصیحت

پہلے اس کی وضاحت ہو کہ داعیانہ کردار سے مراد کیا ہے، اسلامی داعیانہ کردار یا مسلکی داعیانہ کرداراور دوسری بات جذباتی ابال کو ہمت اور وقتی فائدوں کے لئے لئے جانے والے فیصلوں کو حکمت کا نام دینے سے حالات کا مقابلہ کرنے کی سکت کیسے پیدا ہوگی۔

٭کرناٹک، انسداد گؤ کشی بل بنا قانون، گورنر کی دستخط کے بعد حکومت نے جاری کیا نوٹیفکیشن۔۔۔ ایک خبر

مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اسے اپنی انا کا مسئلہ نہ بنائے۔ اس آرڈیننس سے نقصان ہمیں کم اُن کو زیادہ ہے جو ان مویشیوں کی تجارت سے جڑے ہوئے ہیں۔

٭اجمیر شریف درگاہ کے لئے وزیر اعظم شری نریندر مودی نے سونپی چادر،ساتویں بار ہوگی چادر پوشی۔۔۔ایک خبر

کوئی تبصرہ نہیں، صرف ایک شعر عرض ہے:

مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت

اب کھل کے مزاروں پہ یہ اعلان کیا جائے

٭پچھتر برس کے شہریوں کو انکم ٹیکس رٹرن بھرنے سے چھوٹ۔۔۔ ایک خبر

 کمر توڑ مہنگائی،ماحولیاتی بگاڑاورسماجی انتشار کے اس دور میں عام آدمی پچھتر برس کا ہندسہ پالیں یہ ناممکن تو نہیں بہت مشکل ہے۔یہ بات حکومت بھی اچھی طرح جانتی ہے۔

۔

٭ترکی میں متنازع اسلامی مبلغ اوقتار عرف ہارون یحییٰ کو

 ایک ہزار پچاسی برس قید کی سزاِ

ایک ٹی وی چینل کے مالک ہارون یحییٰ کو دو ہزار اٹھارا میں دو سو ساتھیوں ۔ِ ِکےہمراہ 

 نابالغوں کے جنسی استحصال اورا غوا کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا۔۔۔ ترکی سے ایک خبر   

۔ 

اچھا، یہ وبا ترکی میں بھی موجود ہے، ہم تو سمجھے تھے کہ بر صغیر کے(بلا تفریق مذہب)مذہبی شخصیات کا ان معاملات میں انفرادیت ہے۔ محترم ہارون یحییٰ جس شان سے اپنی ٹی وی چینل پر صنف نازک کے جھرمٹ کے ساتھ درشن دیتے تھے اس کو دیکھ کر یہی لگتا تھا کہ موصوف کو اردو کا یہ شعر کہیں سے مل گیا ہے اور انہوں نے اس پر عمل کر ڈالاہے۔

حوروں کا انتظار کرے کون حشر تک

مٹی کی بھی ملے تو روا ہے شباب می 


٭ ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق بنگلہ دیش میں دس سال میں اسۤی لاکھ افراد غربت سے نجات پاچکے ہیں،    

فی کس آمدنی تین گناہ بڑھ گئی ہے اور اس سال اقتصادی نمو میں آٹھ فیصد اضافے کی امید ہے۔ اس ملک کی ترقی کی رفتار کے آگے کہیں ہم پیچھے نہ رہ جائیں۔معروف صنعت کارآنند مہندرا٭  

کیا فرق پڑتا ہے، اگربنگلہ دیش اوردوسرے تمام پڑوسی ملک بھی سنگاپور اور ہانگ کانگ بن جائے۔ ہمیں ہر حال میں مسلمانوں کو ان کی اوقات بتانی ہے چاہے اس کی وجہ سے ملک کا دیوالیہ بھی نکل جائے۔ جب ایک بار یہ کار خیر مکمل ہوجائے گا تو پھر ترقی کے بارے میں سوچیں گے۔

٭اورنگ آباد کے بعد اب مہارشٹرا کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے عثمان آباد کا نام بدل کر دھارا شیو لکھا۔۔۔ ایک خبر

کوئی بات نہیں، آج جوکھلواڑ آپ دوسروں کے باقیات کے ساتھ کررہے ہیں وہ کل کوئی دوسرا آپ کے باقیات کا ساتھ بھی کرسکتا ہے یہ

 سبق ضرور یاد رکھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

اِتمام حُجت کس پر؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ............ اسانغنی مشتاق رفیقی