ہمارے درمیان کا مفاد پرست ابلیسی گروہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق رفیقیؔ

  

جرعات

ہٹ دھرمی اور ضد جاہلیت کی پہلی پہچان ہے۔ اپنی بات پر اڑے رہنا، چاہے حق آپ پر مکمل واضح کیوں نہ ہوجائے، شیطانی صفت ہے۔ ایسی جاہلیت زدہ ذہنوں کے تعلق سے قرآن مجید کا ارشاد ہے کہ ”اللہ نے ان کے کانوں اور دلوں پرمہر لگا دی ہے اور ان کے آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے،“ ایک اورجگہ قرآن مجید نے انہیں بہرے گونگے اور اندھے سے تعبیر کیا ہے۔ گویا حق سے بغض اور انکار کی وجہ سے خدا نے ان کے زبان پر سماعتوں پر اور بصارتوں پر مہر لگادی ہے جس کی وجہ سے وہ کان رکھ کر بھی سُن نہیں سکتے، آنکھ رکھ کر بھی دیکھ نہیں سکتے، زبان رکھ کر بھی بول نہیں سکتے۔یہ لوگ حقیقت میں شیطان کے بھگت ہیں اور اسی کے نقش قدم پر ہیں کیونکہ اس نے حق واضح ہوجانے کو بعد بھی محض اپنی انا کی تسکین اور ذاتی خواہش کے خاطر اس کو نہ صرف جھٹلایا بلکہ اپنی اس حرکت کی تاویل بھی پیش کی۔ اُن کے نزدیک حق اُن کی مفاد کا نام ہے اور سچائی اُن کی انا۔

دراصل یہ انسانوں کا وہ بد ترین گروہ ہے جو خدا سے جنگ کر نے پر تُلا رہتا ہے۔ سچائی اور حقیقت کی ان کے یہاں کوئی قدر نہیں ہوتی۔ وہ صرف اور صرف اپنی ذاتی خواہشات اور انا کی تسکین کے لئے جیتے ہیں۔ خود غرضی ان میں اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ وہ مطلب کے حصول کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ نہ انہیں رشتوں کی پرواہ ہوتی ہے نہ سماج میں اپنی پہچان کی۔ بس ان کا جنون ہی ان کے لئے سب کچھ ہوتا ہے۔ بیچ سڑک پر الف ننگے ہونے سے لے کر باطل کے آگے حالت قیام میں کھڑے ہونے، رکوع و سجود میں گرنے سے بھی انہیں کوئی عار نہیں ہوتا۔دوسروں کی زندگی اور اس سے جڑی چیزیں اُن کی نظر میں اتنی ہیچ ہوتی ہیں کہ وہ ضرورت پڑنے پر انہیں مسل کر آگے بڑھنے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔ زندگی کے ہر اُس میدان میں جہاں سے اُن کا کوئی مفاد وابستہ ہو وہ صف اول میں کھڑے ہو کر ہڑ بونگ مچاتے نظر آئیں گے۔ اپنے آپ کو ہر قسم کے اصول و ضوابط سے اوپر سمجھنے والا یہ گھمنڈی گروہ در حقیقت انسانی معاشرے کا وہ ناسور ہے جس کی وجہ سے پورا سماج درد اور پریشانی میں مبتلا رہتا ہے۔

ایسا نہیں کہ اس گروہ میں صرف جہلا پائے جاتے ہیں بلکہ بڑے بڑے عالم، دانشور، اور قوم و ملت کے رہبر سمجھے جانے والے بڑے بڑے لوگ بھی اس کے صف میں نظر آتے ہیں۔ افسوس ہوتا ہے جب یہ لوگ حق کا علم سب سے زیادہ رکھنے کے باوجود نہ صرف خود گمراہی میں مبتلا ہوتے ہیں بلکہ عوام کے ایک بڑے طبقے کو بھی اپنے ساتھ ذلالت کے دلدل میں کھینچ لے جاتے ہیں۔ انہیں بلکل اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ ان کی وجہ سے قوم و ملت کو کتنا نقصان پہنچ رہا ہے، معاشرے میں فساد برپا ہونے اور خون ریزی کا اندیشہ ہے،بھائی بھائی میں دشمنی پیدا ہوسکتی ہے، دوستی دشمنی میں تبدیل ہو کر سماج میں انتشار کا سببب بن سکتی ہے۔ انہیں تو بس اپنا مفاد عزیز ہوتا ہے، اپنی انا اور ضد اتنی پیاری ہوتی ہے کہ وہ اس کے خاطر پوری قوم و ملت کے مستقبل کو داؤ پر لگانے سے بھی پیچھے نہیں ہٹتے۔

آج کل یہ ابلیسی گروہ ہمارے درمیان بہت زیادہ سر گرم ہے۔ زندگی کے ہر موڑ پر یہ ہمیں الجھانے کی کوشش میں ہے۔ مذہب کی دہائی دے کر  جذباتی نعروں کے ذریعے ہمیں ہانکا کر کے اس قربان گاہ کی طرف لے جانا چاہتا ہے جہاں ان کے مفاد کا دیوتا براجمان ہے، تاکہ اس کے آگے ہماری بھینٹ چڑھا کر اپنی شیطانی مراد پالے۔ اس گروہ کے افراد کی پہچان بہت دشوار ہے۔یہ لوگ ہمدردی کا ماسک لگا کر ہماری صفوں میں گھس پیٹ کرتے ہیں۔ ماضی کو رونا رو کر، حال کی مجبوریوں کا ذکر کر کے، حق پرست علماء،دانشور وں اور رہبران کی انسانی کمزوریوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کر کے ان سے ہمیں بد گمان کرا کے، مستقبل کاسنہرا خواب دکھلا کر ہمیں شیشہ میں اتارنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ اور اگر ایک بار ہم ان کی جال میں پھنس گئے تو چاہ کر بھی اس سے خلاصی پانا ہم سے ممکن نہیں ہو گا۔  جب تک حق کا صحیح علم ہمیں نہیں ہوگا، اس بات کا قوی امکان ہے کہ ہم ان کی چکنی چاپلوسی جذباتی باتوں میں الجھ کر اپنا اور اپنی قوم کا نقصان کر بیٹھیں گے۔

 ایسے میں ان کے تعلق سے ہمارا رویہ کیا ہونا چاہیے؟ سب سے پہلی بات تو یہ ہے ہمیں جیسے ہی ان کی پہچان ہوجائے ان سے دوری اختیار کر لینی چاہیے۔ اگر ان کی پہچان میں کوئی دشواری پیش آرہی ہے تو حق پرست علماء، دانشور اور رہبران سے رجوع ہونا چاہیے۔ بہتر ہے کہ ان سے نہ صرف دوری اختیار کی جائی بلکہ جہاں تک ہوسکے ان سے آمنا سامنا ہو نے سے بھی بچا جائے۔ کیو نکہ وہ اپنے ہاتھ میں ابلیسی جال لئے پھرتے ہیں، ذرا سی غفلت سے ان کے جال میں پھنسنے کا امکان ہے۔ خدا سے رہنمائی طلب کرتے ہوئے ہمیشہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ حالات پر نظر رکھتے ہوئے محاسبہ بھی کرتے رہنا چاہیے تاکہ نہ صرف خود بھی اس گروہ کے مکاری سے بچ سکیں بلکہ اوروں کو اس گروہ سے بچانے میں مدد دے سکیں۔

Comments

Popular posts from this blog

اِتمام حُجت کس پر؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ............ اسانغنی مشتاق رفیقی