Posts

Showing posts from May, 2021

Zaban-e-Khalq زبان خلق ، شمارہ 61

Image
 

تلخ وتُرش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق رفیقیؔ

    ٭دیگر ریاستوں کو چنئی کارپوریشن کے کورونا روک تھام کے اقدامات پر عمل کرناچاہئے۔۔۔ مرکزی محکمہ صحت صرف کورونا روک تھام کے اقدامات پر ہی نہیں چنئی کارپوریشن اور ٹمل ناڈو حکومت اور بھی بہت سارے معاملات ہیں جنہیں بطور نمونہ اگر دوسرے ریاستیں اپنے آگے رکھیں تو ان کا بہت بھلا ہوسکتا ہے۔ ٭اے آئی اے ڈی ایم کے سے وابستہ سابق وزیر محترمہ ڈاکٹر نیلو فر کفیل صاحبہ کو پارٹی کے اصولوں کے خلاف کام کرنے کے الزام پر پارٹی کی بنیادی رکنیت سے خارج کر دیا گیا۔۔۔ ایک خبر پارٹی کے ساتھ زیادہ وفاداری نبھانے کا شاید یہی انجام ہے اور اسی کا نام سیاست ہے۔محترمہ کی سیاسی عروج اور زوال اور ان کے سابقہ رویوں پر یہ شعر صادق آتا ہے، نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم   نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے ٭کورونا کے بعد اب ملک میں بلیک فنگس اور وہائٹ فنگس، ماہرین میں تشویش۔۔۔ایک خبر اسی کانام قدرت کی کرونالوجی ہے، کاش یہ بات اقتدار کے نشے میں مست مغرور دماغوں کے سمجھ میں آجائے۔ ٭وزیر اعظم کے ساتھ کووڈ بیٹھک میں دوسری پارٹیوں کے وزرائے اعلیٰ کو نہیں ملا بولنے کا موقع۔۔۔ مغربی بنگال کی وزیر ا...

امتحان کے سات سال اور ہمارا رویہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق رفیقیؔ

    جرعات اقتدار کی گلیاروں میں تبدیلی آئے سات سال کا طویل عرصہ گذر چکا ہے۔گنگا میں بہت سارا آلودہ پانی بہہ چکا ہے اور اب آلودہ پانی کے ساتھ انسانی لاشیں بھی بہنے لگی ہیں۔ وقت کے مورخ کا قلم لگاتار پل پل کی حالات کو اپنے گرفت میں لے کر محفوظ کرنے میں مصروف ہے۔ وطن عزیزکے حالات چاہے اُن کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو تشویشناک ہی نہیں مایوس کن بھی ہیں۔ جمہوریت کے خیمے میں آہستگی کے ساتھ ڈکٹیٹر شپ کا اونٹ داخل ہوچکا ہے۔ وفاقی حکومت کے آڑ میں آمریت کو مضبوط کرنے کا عمل پوری شدت سے جاری ہے۔ جمہوریت کے چاروں ستون کی بنیادوں میں بنیاد پرستی کا زہر اتنا گھول دیا گیا ہے کہ اُن کے سائے سے بھی کڑواہٹ کی بو آنے لگی ہے۔ مواصلات کے تمام اقسام چاہے وہ برقی ہو یا کاغذی ہو یا سماجی ان سے وابستہ اکثریت حکومت کی غلطیوں کو اجاگر کر کے عوام کے آگے سچائی لانے کے بجائے ارباب اقتدار کی پردہ پوشی اور ان کی خوشامدی میں لگے ہوئے ہیں۔ دو ایک جگہ سے حکومت کے خلاف آواز اٹھتی بھی ہے تو حکومت کے بھگت یا تو ان کو پھیلنے نہیں دیتے یا ان کی اہمیت کم کرنے میں پورا زور لگا دیتے ہیں۔اور ویسے بھی نقار خانے میں طوطے...

Zaban-e-Khalq زبان خلق ، شمارہ 60

Image
 

تلخ و ترش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق رفیقی

    ٭ٹمل ناڈو اسمبلی انتخابات 2021، وانم باڑی اسمبلی حلقے سے مسلم لیگ امیدوار کی ہار کے ذمہ دار کون؟۔۔۔ ایک سوال ہمارے اپنوں کی سستی اور آرام طلبی، اگر یہ حالات کی نزاکت سمجھتے ہوئے ووٹ ڈالنے کے عمل کو فرض کے درجے پر رکھتے اور پولنگ میں اس کی وجہ سے کم از کم دس فیصد کا اضافہ ہوجاتا تو الیکشن آسانی سے جیتا جاسکتا تھا۔ ٭آکسیجن کے بغیر دم توڑتا ہندوستان، کیا اس تباہی کو روکا جاسکتا تھا؟۔۔۔ ایک سوال بے شک روکا جاسکتا تھا، لیکن جو اس کو روک سکتے تھے ان کی پہلی ترجیح کچھ اور ہے، اقتدار کی ہوس کے آگے انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ازل سے یہی دنیا کا دستور رہا ہے اور شاید ابد تک بھی ایسا ہی رہے گا۔ ٭بنگال اسمبلی انتخابات2021، وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور مرکزی وزیروں کی پوری فوج کا تن تنہا مقابلہ کر کے ممتا بنرجی نے واضح اکثریت کے ساتھ جیت درج کر لی، بی جے پی کا بنگال میں حکومت بنانے کا خواب چکنا چور۔۔۔ ایک خبر اگر عورت کچھ ٹھان لے تو کیا کچھ کرسکتی ہے یہ جیت اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ لیکن بی جے پی کے خواب کو چکنا چور کر نے کی قیمت عوام کو اپنی جان دے کر چکانی پڑ رہی ہے ا...

کرونا کا ٹانڈو ، کیا یہ کوئی خدائی قہر ہے یا ہماری بد اعمالیوں کا نتیجہ یا کچھ اور!!! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق رفیقیؔ

    جرعات آہ و بکا، ماتم و گریہ کا ایک شور ہے جو ملک کی چاروں دشاؤں میں برپا ہے۔ موت کا ایسا ٹانڈو شاید ہی کسی کے وہم و گمان میں رہا ہوجو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ کہیں بوڑھے باپ کے کاندھوں پر جوان بیٹے کا جنازہ ہے تو کہیں بیٹیاں اپنی باپ کی ارتھی اُٹھائے شمشان گھاٹ پر لائن میں کھڑی ہیں تاکہ نمبر آنے پر اپنے باپ کو چتا کے حوالے کر سکیں۔ شوہر اپنی بیوی کی لاش سائیکل میں لادے اس کی انتم سنسکار کے لئے سر گرداں ہے تو کہیں کوئی بیٹا اپنے ماں باپ کی زندگی بچانے کے لئے آکسیجن کی تلاش میں گلی گلی مارا مارا پھر رہا ہے۔ یہ کیا قیامت برپا ہوگئی ہے کہ ہر قدم پر یاتو جنازے سے سامنا ہورہا ہے یا جلتی چتاؤں کی تپش سے۔ کیا یہ کوئی خدائی قہر ہے یا ہماری بد اعمالیوں کا نتیجہ یا کچھ اور!!! ہر آنکھ اشکبار ہے، ہر چہرے پر اداسی اور غم کی پرچھائیاں اتری ہوئی ہیں، کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا ہے، ہائے یہ کیا ہورہا ہے، کیوں ہورہا ہے، آخرکب تک ایسا   ہوتا رہے گا۔ زندگی اور موت کی یہ آنکھ مچولی کب تک چلے گی۔ یتیموں اور بیواؤں کے شور ماتم پر موت کا یہ رقص کب تک جاری رہے گا۔ اور کتنے انسانوں کی قربانی چاہئے...