تلخ و ترش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق رفیقی
٭ٹمل ناڈو اسمبلی انتخابات 2021، وانم باڑی
اسمبلی حلقے سے مسلم لیگ امیدوار کی ہار کے ذمہ دار کون؟۔۔۔ ایک سوال
ہمارے اپنوں کی سستی اور آرام طلبی،
اگر یہ حالات کی نزاکت سمجھتے ہوئے ووٹ ڈالنے کے عمل کو فرض کے درجے پر رکھتے اور
پولنگ میں اس کی وجہ سے کم از کم دس فیصد کا اضافہ ہوجاتا تو الیکشن آسانی سے جیتا
جاسکتا تھا۔
٭آکسیجن کے بغیر دم توڑتا ہندوستان، کیا اس
تباہی کو روکا جاسکتا تھا؟۔۔۔ ایک سوال
بے شک روکا جاسکتا تھا، لیکن جو اس کو
روک سکتے تھے ان کی پہلی ترجیح کچھ اور ہے، اقتدار کی ہوس کے آگے انسانی جان کی
کوئی قیمت نہیں ہوتی ازل سے یہی دنیا کا دستور رہا ہے اور شاید ابد تک بھی ایسا ہی
رہے گا۔
٭بنگال اسمبلی انتخابات2021، وزیر اعظم، وزیر
داخلہ اور مرکزی وزیروں کی پوری فوج کا تن تنہا مقابلہ کر کے ممتا بنرجی نے واضح
اکثریت کے ساتھ جیت درج کر لی، بی جے پی کا بنگال میں حکومت بنانے کا خواب چکنا
چور۔۔۔ ایک خبر
اگر عورت کچھ ٹھان لے تو کیا کچھ کرسکتی
ہے یہ جیت اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ لیکن بی جے پی کے خواب کو چکنا چور کر نے کی قیمت
عوام کو اپنی جان دے کر چکانی پڑ رہی ہے اور یہ بہت بڑی قیمت ہے۔
٭اسمبلی انتخابات میں مایوس کن کارکردگی کے
بعد کانگریس پارٹی کے ترجمان رندیپ سورجے والا نے کہا کہ پارٹی عوام کے فیصلے کو
قبول کرتی ہے اور وہ اس کا تجزیہ کرکے غلطیوں کو دور کرے گی۔۔۔ ایک خبر
کانگریس دو دہائیوں سے یہی کرتی آرہی
ہے اور آج تک نہ صحیح تجزیہ تک پہنچ سکی ہے اور نہ اپنی غلطیوں کو سدھار سکی ہے۔
پتہ نہیں پارٹی کو کب عقل آئے گی، آئے گی بھی یا نہیں یا موجودہ قیادت اس صد سالہ
پارٹی کو دفن کر کے ہی دم لے گی۔
٭ مرکزی حکومت کے پرنسپل سائنسی مشیر، کے
وجئے راگھون نے ایک پریس کانفرنس میں کورونا کی تیسری لہر کو ناگزیر قرار دیتے
ہوئے ملک کو اس کے لئے تیار رہنے کی تلقین کی ہے۔۔۔ ایک خبر
ملک تو تیار ہے ہی کیونکہ اس کے پاس
دوسرا کوئی چارہ نہیں لیکن کیا مرکزی حکومت اس کے لئے تیار ہے۔ جو مرکزی حکومت
دوسری لہر پر ہی اب تک کوئی واضح کامیابی حاصل نہیں کرسکی ہے وہ تیسری لہر پر
کتناسنجیدہ رد عمل دے گی یہ تو وقت ہی بتائے گا۔
٭اپوزیشن رہنماؤں نے مرکز سے بڑے پیمانے پر
مفت ٹیکہ کاری مہم شروع کرنے کی مانگ کی۔۔۔ ایک خبر
اور یہ رہنما کر بھی کیا سکتے ہیں، لیکن
حکومت ان کی سنے گی اس کی امید کم ہی ہے، حکومت کے ترجیحات اور ہیں، اس کی اب تک کی
کارکردگی گواہ ہے وہ ان عوامی مسئلوں میں اپنی طاقت ضائع کرنا پسند نہیں کرتی۔
٭عالمی وبا کرونا وائرس کے دوران غربت کے
خلاف جنگ متاثر ہوئی اور انتہا پسندی میں اضافہ ہوا۔۔۔ امریکی نیشنل انٹیلی جنس
کونسل NIC
کرنا وائرس سے پہلے غربت کے خلاف جنگ
لڑی جارہی تھی یہ سن کر اچھا لگا۔اے کاش یہ سچ بھی ہو۔ کرونا وائرس کی وجہ سے
انتہا پسندی میں اضافہ ہوا یہ کہنا غلط ہو گا، ہاں یوں کہا جاسکتا ہے کہ اس کو لے
کر ارباب اقتدار نے جو پالیسیاں وضع کی اس کی وجہ سے ایسا ہوا۔
٭دبئی: رمضان میں ریستوران کو دن کے اوقات میں
پردے سے ڈھاپنے کی پابندی ختم۔۔۔ ایک خبر
یعنی اب گناہ کے لئے وہاں آڑ کی بھی
ضرورت نہیں ہوگی۔ کھلے عام عیش و عشرت کی پوری آزادی ہوگی۔ اچھا ہے، کچھ منافقین
کے چہرے واضح ہوگئے اور کچھ نادانوں کا عربوں پربھرم ٹوٹا۔
٭ریپ کے جرم کو عورت کے لباس سے جوڑنا درست
نہیں۔۔۔ ایک مغربی عورت کا بیان
یقینا، لباس کا معاملہ اور ہے عصمت دری
کا جرم اور، سخت ترین پردے میں رہ رہی عورتیں بھی عصمت دری کا شکار ہوتی رہی ہیں
جبکہ عام لباس میں گھومنے والی عورتیں فحش سمجھے جانے والے کلچر میں بھی محفوظ۔
ہوس کو بس شکار سے مطلب ہوتا ہے اس کی ظاہری رکھ رکھاؤ سے نہیں۔
٭سعودی عرب: حائل صوبہ میں پہلا سنیماگھر کا
افتتاح، اس سنیما گھر میں 10 اسکرینس اور1309 نشستیں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سعودی عرب
میں سنیما گھروں کی مجموعی تعداد33، اسکرینوں کی مجموعی تعداد342 اور نشستوں کی
مجموعی تعداد 35ہزار ہوگئی ہے۔۔۔ ایک خبر
سعودی عرب کے بھگت متوجہ ہوں۔ آپ کے
قبلہ و کعبہ کے طرز پر حرام حلال کی بحث میں الجھے بغیر آپ بھی اپنے گھروں میں
اسکرین لگا کر سنیما بینی سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔
Comments
Post a Comment