عام آدمی! کیا کبھی بیدار بھی ہوگا؟ ......................... اسانغنی مشتاق رفیقی

  

جرعات

حالات نازک سے نازک تر ہوتے جارہے ہیں۔ ہر طرف ایک ہا ہا کار مچا ہوا ہے۔ ایسالگتا ہے وقت کا پہیہ فسطائیت کے طوفانوں میں الجھ کر اپنی سمت کھو بیٹھا ہے۔ پتہ ہی نہیں چل رہا ہے کہ ہم مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں یا ماضی کی طرف پلٹ چکے ہیں۔ جھوٹ پر سچ کا ملمع چڑھا کر اس خوبصورتی اور شان سے سیاست کے بازار میں بیچا جارہا ہے کہ ہر کوئی آنکھ بند کر کے منہ مانگے داموں اسے خرید رہا ہے۔ مذہب کے وہ نعرے جن کو سن کر دل عقیدت سے سرشار ہوجاتا تھا آج خوف و دہشت کے علامت بن کر رہ گئے ہیں۔نفرت وبغض کو قابل فخر اور محبت و بھائی چارگی کو بزدلی سمجھا جانے لگا ہے۔ حکمرانوں کو سوائے اپنے اور اپنے مفاد کے کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ نوکر شاہی اچھے اور برے کی تمیز سے ماورا ہو کر دونوں ہاتھوں سے دولت بٹورنے میں لگی ہوئی ہے۔ عوام کا تو پوچھنا ہی کیا، سوائے خواب خرگوش کے مزے لینے کے انہیں کچھ نہیں آتا۔ رہی حزب مخالف، وہ ایک ایسے بے پتوار کشتی کی طرح ہے جس کا ہر مسافر خود کو ناخدا سے کم سمجھنے پر تیار نہیں ہے۔ بظاہر تو سمندر پُر سکون ہے لیکن اس کے اندر ہی اندر جو طوفان اٹھ رہا ہے پتہ نہیں وہ کب ساحلوں کو تہس نہس کر کے دکھ دے۔

اچھے دن آنے والے ہیں“سے جو کہانی شروع ہوئی، لگتا ہے وہ اب تیزی سے اپنے انجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ سات سال کے طویل عرصے میں ایک بھی اچھا دن نہیں آیا۔ اچھے دن آئے تو بس ان سرمایہ داروں کے جنہوں نے اس کہانی پر سرمایہ کاری کی اور اِسے سیاست کے پردوں پر اس خوبی سے چلایا کہ ہر کوئی الجھ کر رہ گیا اور آنکھ بند کر کے ایک ڈرامے کو حقیقت سمجھ بیٹھا۔

سب سے زیادہ داد کے مستحق تو وہ کہانی کار ہیں جو یہ کہانی لکھ رہے ہیں۔ ہر دن کے لئے ایک نیا اور اچھوتاخیال، جیسے ہی یہ لگے کہ تماشہ بین بیزار ہونے لگے ہیں کہانی کو نیا موڑ دے کر لفظیات کا ایک ایسا خوشنما جال پھیلایا جاتا ہے کہ کچھ عرصے تک سب پر اسی کا سحر چھایا رہے۔کہانی کا ہر کردار بھی اپنی جگہ خوب محنت کرر ہا ہے اور اپنے جوہر دکھا رہا ہے لیکن مرکزی کردار کی بات ہی اور ہے۔ شاید ہی سیاست کے بازار میں اتنی بہترین اداکاری اور کسی نے کی ہو جتنی اس کہانی کا مرکزی کردار ادا کررہا ہے۔

 ہونی کو کون ٹال سکتا ہے،جو ہونا تھا وہ ہوگیا۔جس کو لُٹنا ہے وہ لٹ رہا ہے،جس کو لُوٹنا ہے وہ لوٹ رہا ہے۔ عوام کوآپس میں لڑوا کرجس کو کرسی پر براجمان ہونا تھا وہ کرسی پر اپنی پکڑ مضبوط کرچکا ہے۔ سیاست دان اور سرمایہ دار کا یہ اشتراک اپنی پوری توانائی کے ساتھ ملک پر قابض ہے۔اور رہا عام آدمی، وہ تو پہلے ہی سے قطار میں تھا، راشن کے لئے قطار، شکم بھرنے کے لئے قطار، دوائی کے لئے قطار، سفر کے لئے قطار، اسکول اور کالج میں قطار، جمع کی ہوئی محنت کی پونجی نکالنے کے لئے قطار، تفریح کے لئے قطار، ووٹ دینے کے لئے قطار،مثانہ ہلکا کرنے کے لئے قطار، شکم خالی کرنے لئے قطار، اورحد تو اب ہوگئی جب انتم یاترا کے لئے بھی قطار لگانی پڑی، شاید ہی اُسے اس قطار سے کبھی نجات ملے۔ کہانی کار نے ایسا ہی لکھ رکھا ہے۔ ایک بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ اس کہانی میں عام آدمی کا کوئی کردار نہیں ہے۔ اسے تو بس قطار میں لگنا ہے، سرمایہ داروں کے مفاد کی حفاظت کے لئے ووٹ دینا ہے، مذہب اور ذات پات کے خدائی فوجداروں کے سروں پر اقتدار کا تاج سجانا ہے اور پھر اپنی انتم یاترا کے لئے پھر سے قطار میں لگ جانا ہے۔

ُآخر کب تک یہ سب یونہی چلتا رہے گا۔ کیا عام آدمی،سرمایہ داروں اور سیاست دانوں نے عیاری سے مذہب اور ذات پات کی جوپٹی اس کی آنکھوں پر باندھ دی ہے انہیں کھول کر حالات کو اپنے لئے بدل سکے گا۔کیاوطن عزیز کے مقدس دھرتی پر فسطائیت کا جو ننگا ناچ جاری ہے اسے روک سکے گا۔ اقتدار کے نشہ میں اندھے ہوکر عورتوں، بوڑھوں، بچوں اور اقلیتوں پر بد ترین ظلم ڈھارہے درندوں کو لگام لگا سکے گا۔ کیا یہ سب ممکن ہے۔ کیا عام آدمی پھر سے کہانی کا مرکزی کردار بن سکے گا۔ یقینا ایسا ہوگا اور ضرور ہوگا۔ لیکن اس کے لئے عام آدمی کے فہم تک ہر وہ بات پہنچانی ہے جو اسے اُس خواب گراں سے بیدار کر سکے جس میں وہ فسطائی طاقتوں کے خوبصورت لفظیات کے سحر میں پھنس کر مبتلا ہے۔ اُس کو سچائی اور حقیقت کاآئینہ دکھانا ہے جس میں وہ اپنے اور اپنے آنے والی نسلوں کا مستقبل دیکھ سکے۔ اس کو اس بات کا یقین دلانا ہے کہ اگر اس نے ابھی بھی ہوش کے ناخن نہ لئے تو اس کی تباہی یقینی ہے۔ لیکن یہ سب کرے گا کون؟ کون ہے جو بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے۔

یہ سب کام آپ کو اور ہم کو ہی کرنا ہے، بحیثیت ایک ذمہ دار شہری اور وطن پرست کے۔ اگر آپ کے دل میں انسانیت کے لئے، اپنے وطن کے لئے، اپنی آنے والی نسلوں کے لئے ذرا بھی فکر ہے، آپ موجودہ حالات کو لے کر مستقبل سے خوفزدہ ہیں تو اس سے پہلے کہ اور دیر ہوجائے عام آدمی تک پہنچئے، اسے بیدار کیجئے، سرمایہ داروں اورسیاست دانوں کے مفاد پرستانہ اشتراک سے جو حالات بنتے جارہے ہیں اسے، اُس پر واضح کر کے حالات کو بدترین ہونے سے بچائیے۔ اتنا ضرور یاد رکھئے، کل اگر کچھ زیادہ ہی غلط ہوگیا تو تاریخ آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

اِتمام حُجت کس پر؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ............ اسانغنی مشتاق رفیقی