تلخ و رتُرش .................... اسانغنی مشتاق رفیقی

  

٭عالم دین کی بیٹی کو گھر سے بھگایا، بے عزت کی پھر قتل کر دیا۔سہارنپور کے ایک مدرسہ کے مہتمم کے بیٹے اور اس کے دوست کی گھناؤنی حرکت، دونوں گرفتار۔۔۔ ایک خبر

جرم اور گناہ کا نہ کوئی دین ہوتا ہے نہ مذہب۔ لیکن اس پوری کہانی کے پیچھے جو محرکات ہیں ان پر غور و فکر کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ ایسے جرائم کا سد باب کیا جاسکیں۔

٭ٹمل ناڈو، اے ڈی ایم کے لیڈران نے کی وزیر اعظم مودی سے ملاقات، کیا یہ ملاقات وی کے ششیکلا کی پارٹی میں بڑھتی ہوئی مداخلت کو لے کر تھی؟۔۔۔ایک سوال

کوئی شک، اے ڈی ایم کے کو ٹمل ناڈو کی سیاست میں زندہ رکھنا ہے تو وہ مرکز سرکار کے دروازے پہ سجدہ ریز ہوئے بغیر ناممکن ہے۔

٭یو پی میں آنے والے اسمبلی انتخابات کو ذہن میں رکھ کر اصل مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے چھوڑا گیا ہے بڑھتی آبادی کا شوشہ۔۔۔ایک خبر

اس میں کوئی شک نہیں۔ الیکشن تک ایسے اور کئی شوشے چھوڑے جائیں گے۔ اب یہ عوام کا کام ہے کہ وہ اپنے مسائل کو رکھ کر ووٹ کرتی ہے یا ان شوشوں پر یقین کر کے۔

٭اگر میڈیا رپورٹس درست ہیں تو الزامات بہت سنگین ہیں، پیگاسس معاملے پر عدالت عالیہ کا پہلا تبصرہ

زیادہ خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں، تبصرہ الگ چیز ہے اور مکمل سماعت کے بعد فیصلہ الگ چیز۔

٭ہندو نہیں، ملک خطرے میں ہے، مودی حکومت پر کانگریس کا حملہ، دہلی میں حکومت کے خلاف زبردست احتجاج۔۔۔۔ ایک خبر

کانگریس سوائے احتجاج کے اور کیا کرسکتی ہے۔ سیاست کا موجودہ منظر نامہ کانگریس کی ہی تو دین ہے۔ اگر اس کی سیاست اقدار پر چلتی تو شاید آج اس کی اتنی بری حالت نہ ہوتی۔

٭متحدہ عرب امارات میں درجہء حرارت کو کم کرنے کے لئے مصنوعی بارش۔۔۔ ایک خبر

یعنی عربوں نے سچ مچ ترقی کر لی ہے، خوب  

٭ٹوکیو اولمپکس ختم: امریکہ نے سب سے زیادہ میڈلز جیتے، بھارت نے

ایک گولڈ دو سلور چھ برانز جیتے ۔۔۔۔۔۔۔ ایک خبر

چلو کچھ تو جیتے۔لیکن اتنا یاد رکھیں یہ سب ہمارے وزیر اعظم کی وجہ سے ہی ممکن ہوا ہے۔ کیا سمجھے۔

٭طالبان کی پیش قدمی روکنے کے لئے افغانستان بھر میں کرفیو نافذ۔۔۔ ایک عالمی خبر

جن کی پیش قدمی کو امریکہ جیسی سوپر پاور نہ روک سکی کیا ان کو ایک کمزور حکومت کی جس کا دائرہ اختیار اپنے ہی ملک میں سمٹ کر رہ گیا ہے، نافذ کردہ کرفیو روک دے گی۔

٭وہ مسلمان مجرم ہوگا جو کسی مسلمان سے پیشہ یا کام کی بنا پر اس سے پرہیز کرے گا، اس کو بہ نظر ذلت دیکھے گا۔۔۔ مولانا آزاد

لیکن اب تو مسلمانوں میں پیشہ ہی عزت اور ذلت کا معیار بن گیا ہے۔ افسوس صد افسوس۔

٭حقوق انسانی کو سب سے زیادہ خطرہ پولیس اسٹیشن میں، اہم شخصیات بھی نہیں بخشی جاتیں۔۔۔ چیف جسٹس آف انڈیااین وی رمنا

اس کی وجہ پولیس کے کاموں میں سیاست دانوں کی بے جا دخل اندازی ہے،جس نے پولیس والوں کو اتنا نڈر کردیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہی کل سمجھنے لگے ہیں۔جب تک سخت قانون بنا کر ان پر نگرانی نہیں رکھی جائے گی اس کو روکنا نا ممکن ہے۔

٭دہلی:پارلیمنٹ سے بمشکل دو کلو میٹر کے فاصلے پر جنتر منتر میں منعقدہ تقریب میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز نعرے لگائے گئے۔۔۔ ایک خبر

اگر پارلیمنٹ میں بھی مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز نعرے لگیں تو اس پر تعجب نہیں کرنا چاہئے کیونکہ وطن عزیز میں اب کچھ بھی ممکن ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

اِتمام حُجت کس پر؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ............ اسانغنی مشتاق رفیقی