تلخ و ترش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق رفیقی

  

٭ہم غلامی کی طرف بڑھ رہے ہیں، ستر سالوں کی جمع پونجی کو فروخت کیا جارہا ہے۔۔۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی

اب کی بار یہ طوق اکثریت چاہ کر پہن رہی ہے، اس لئے آزادی کے نام پر سیاست کرنا بہت مشکل ہے۔ کانگریس کو چاہئے کہ اگر وہ سیاست کے میدان میں خود کو زندہ رکھنا چاہتی ہے تو اپنے لئے اس سے بھی بڑا کوئی اور نعرہ ڈھونڈے۔

٭بھارت میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی ملک کی ترقی کے لئے انتہائی خطرناک۔۔۔صدر جمعیتہ العلما ء مولانا ارشد مدنی

ساتھ ہی اے کاش!! مولانا اگر یوں بھی بول جاتے کہ ”مسلمانوں میں بڑھتی ہوئی مسلک پرستی، مکتبہء فکر کی ضد اور اندھی تقلید امت کی ترقی کے لئے انتہائی خطرناک ہے،“  تو کتنا اچھا ہوتا۔

٭معیشت تانا شاہی سے آگے نہیں بڑھ سکتی۔۔۔ راہل گاندھی نے جی ڈی پی کی گرتی شرح نمو پر وزیر اعظم مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا

لیکن حکومت اور سیاست تو آگے بڑھ سکتی ہے۔ معیشت کی فکر جب عوام کو ہی نہیں تو پھر حکمران کیوں کرے راہل جی۔

٭سی آئی اے سربراہ کی افغان رہنما ملا برادر سے خفیہ ملاقات ہوئی۔۔۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ

یعنی افغانستان میں آج کل جو ڈرامہ چل رہا ہے اس کا اسکرپٹ پہلے ہی تیار ہوچکا تھا۔بہت خوب۔

٭مہاراشٹرکے وزیر اعلیٰ اور شیوسینا لیڈر ادھو ٹھاکر ے کے خلاف بی جے پی مرکزی وزیر نارئن رانے کی بد زبانی،نارائن رانے گرفتار اور ضمانت پر رہا، سڑکوں پر بی جے پی بمقابلہ شیو سینا، کئی دفاتر پر حملے۔۔۔ ایک خبر

 ایسا لگتا ہے یہ واقعہ مہارشٹرا کی سیاست میں ایک نیا موڑ ثابت ہوگا۔لیکن ان دو مہا رتھیوں کی لڑائی میں جو دھول اُڑے گی اس کے آڑ میں  پتہ نہیں کیا کچھ کھیل کھیلا جائے گا۔

٭ہمارا ٹارگٹ2024 کا الیکشن ہے، منظم طریقے سے پالیسی بنانی ہوگی۔۔۔ کانگریسی رہنما سونیا گاندھی

خواب دیکھنے کے لئے ظاہری آنکھ کی بھی ضرورت نہیں پڑتی، لیکن خواب کی تعبیر پانے کے لئے لوہے کا جگر چاہئے، جو ایسا لگتا ہے موجودہ کانگریسی رہنماؤں کے پاس نہیں ہے۔میڈیم کو چاہئے کہ پہلے وہ اس پر دھیان دیں۔

٭دبئی میں دنیا کا بلند ترین جھولا، سیاحوں کو محظوظ کرنے کے لئے تیار۔۔۔ ایک خبر

عرب سر زمین اب ایسی عیاشیوں کے لئے ہی وقف ہو کر رہ گیا ہے،یہاں سے انسانیت کی فلاح و بہبودی کے لئے امید رکھنا  فضول ہے۔

٭ سعودی عرب، افغانستان میں طالبان کے معاملے میں اب تک خاموش کیوں ہے۔۔۔ ایک سوال

شاید ان کے حاکم اعلیٰ انکل سام کی جانب سے حکم نہیں ملا ہوگا۔

٭مدھیہ پردیش کے مالوہ میں ماب لینچنگ کے بڑھتے واقعات اور حکومت کے ساتھ پولیس انتظامیہ پر جانب داری کا الزام لگاتے ہوئے کانگریس کارکنان نے اندور میں پیدل مارچ کرتے ہوئے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔۔۔ ایک خبر

 اگر ایسے مسائل پر طاقت کا مظاہرہ کرنے کی روش کانگریس شروع سے ہی اپنا لیتی تو آج اس کی اتنی بری حالت نہ ہوتی اور عوام کی ایک بڑی تعداد کو اپنے پشت پر پاتی۔

٭کیا وزیر اعظم شری نریندر مودی کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔۔۔ ایک سوال

ایسے شوشے بھگتوں کا لہو گرم رکھنے کے لئے چھوڑے جاتے ہیں تاکہ وہ مزید فعال ہوجائیں۔ اس سروے کے باہر آنے کے بعد روز بروز کی خبروں پر نظر ڈال لیں تو سب سمجھ میں آجائے گا۔

٭ہندوستان سے کرونا کا جلد خاتمہ ناممکن، لوگ انفیکشن کے ساتھ رہنے کی عادت ڈالیں۔۔۔ ایک خبر

وہ تو ڈال چکے ہیں اور دوسرا راستہ بھی تو نہیں ہے۔ جب غریبی کے ساتھ، بے روز گاری کے ساتھ، فسادت کے ساتھ، کرپشن کے ساتھ رہنے کی عادت ڈال چکے ہیں تو کرونا کون سی بڑی بات ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

اِتمام حُجت کس پر؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ............ اسانغنی مشتاق رفیقی