تلخ و ترش ............ اسانغنی مشتاق رفیقی
٭ٹی ایم سی کے سپریمو ممتا بنرجی کا مسلسل کانگریس پر راست حملہ اور اس کے حلیفوں سے بڑھتے ہوئے روابط، کیا پھر سے تیسرے محاذ کی تیاری ہے۔۔۔ ایک تبصرہ
بی جے پی کے بڑھتے قدم کو روکنے لئے کے لئے تیسرے محاز کی نہیں متحدہ محاذ کی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات میں کانگریس کو نظر انداز کر کے کی جانے والی کوئی بھی کوشش سیاسی خود کشی ہوگی۔ ممتا بنرجی ایک منجھی ہوئی سیاستداں ہیں، ان سے تیسرا محاذ بنانے کی غلطی نہیں سر زد ہو سکتی۔ رہی کانگریس پران کے حملے کی بات، تو شاید یہ کوئی سیاسی چال ہے جس کے تعلق سے ابھی کچھ کہنا بہت مشکل ہے۔
٭مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں بتایا ہے کہ پچھلے پانچ سالوں میں چھ لاکھ سے زائد افراد ہندوستانی شہریت ترک کر چکے ہیں۔۔۔ ایک خبر
”وشوا گرو“بننے کی بات کرنے والی حکومت کے سنہرے دورمیں ملک کے سپوتوں کا اس طرح شہریت ترک کر کے چلے جانا بڑے شرم کی بات ہے۔شاید ہی اس کا احساس حکومت اور اس کے اندھ بھگتوں کو ہو!!
٭ بنگال کے بی جے پی اراکین پارلیمنٹ نے وزیر اعظم سے مل کر مطالبہ کیا ہے کہ وہ سی اے اے کے قواعد بنا کر قانون کو جلد از جلد نافذ کریں۔۔۔ ایک خبر
ایک طرف پارلیمنٹ میں حکومت کی یہ یقین دہانی کہ ابھی سی اے اے کو ملک بھر میں نافذ کر نے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور دوسری
طرف اسی کے اراکین پارلیمنٹ کا یہ مطالبہ، کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ ضرور اس کرونالوجی کے پیچھے کوئی بات پوشیدہ ہے۔سیاست میں عیاری کے تعلق سے تو سن رکھا ہے لیکن عیاری ہی سیاست بن جائے ایسا کبھی کبھار ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ سی اے اے اور اس کو لے کر کی جانے والی سیاست اس کی ایک مثال ہے۔
٭پارلیمنٹ میں حکومت نے کہا کہ اس کے پاس زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کے دوران مرنے والے کسانوں کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ ایسے میں ان کے وارثین کو کوئی مالی تعاون یا معاوضہ دینے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔۔۔ ایک خبر
وارثین کو معاوضہ یا مالی تعاون دینے کا سوال بعد میں، لیکن پیگاسس جاسوسی سافٹ وئیر کے لئے بد نام حکومت کا یہ کہنا کہ اس کے پاس زرعی آندولن کے دوران جاں بحق ہوئے کسانوں کاکوئی ریکارڈ نہیں، ہضم ہونے والی بات نہیں ہے۔
Comments
Post a Comment