تلخ و ترش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق رفیقی
٭راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے اتر پردیش انتخابات کے پیش نظر مسلم خواتین تک بڑے پیمانے پر رسائی کا پروگرام شروع کیا ہے۔۔۔ پی ٹی آئی
کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ مسلم خواتین کی اکثریت ناقص العلم ہوتی ہے اور انہیں آسانی سے ٹرانس میں لیا جاسکتا ہے۔ اور انہیں یہ بھی پتہ ہے کہ مسلم خواتین کا تعلق مساجد اور مدارس سے برائے نام بھی نہیں ہے تو ان کے درمیان غلط باتیں اور نام نہاد آزادی کا منتر باآسانی پھیلایا اور پھونکا جاسکتا ہے۔ اب یہ مسلم مردوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آر ایس ایس کی اس خطرناک چال سے مقابلہ کے لئے کیسے اپنے آپ کو تیار کرتے ہیں۔
٭لفظ لینچنگ2014 سے پہلے ملک میں عملی طور پرکبھی نہیں سنا گیا۔۔۔ کانگریس رہنما راہل گاندھی
اس میں کوئی شک نہیں کہ 2014 سے پہلے لفظ لینچنگ ملک میں عملی طور پر کبھی نہیں سنا گیا لیکن اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ 2014 کے بعد جتنے بھی لینچنگ ہوئے اس کے لئے میدان کانگریس نے ہی اپنے ستر سالہ دور اقتدار میں تیار کیا تھا۔لگتا ہے یہ بات راہل جی کہنا بھول گئے۔
٭حکومت کی ناقص پالیسی کی وجہ سے چار ہزار چھ سو کروڑ روپئے کا دال گھوٹالہ۔۔۔ دی وائر
’دال میں کچھ کالا ہے‘ اور ’لگتا ہے ساری کی ساری دال ہی کالی ہے‘، ایسی باتیں تو بہت سنی اور کئی بار دال گھوٹالہ کھانے کا اتفاق بھی ہوا،لیکن’دال میں گھوٹالہ بھی ہو سکتا ہے‘ ایسا پہلی بار سنا۔دال کا یہ گھوٹالہ حکومت کی ناقص پالیسی کی وجہ سے نہیں عوام میں بیداری کی کمی اور حکومت پر اندھا اعتماد کی وجہ سے ہوا ہے۔
٭دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم اور ان کی چھوٹی اہلیہ اردن کے سابق شاہ حسین کی 47 سالہ بیٹی حیا بنت الحسین کے درمیان برطانوی ہائی کورٹ میں طلاق، شیخ محمد کو کورٹ کا حکم کہ وہ شہزادی حیا کو55 کروڑ پاؤنڈ ادا کریں۔۔۔ بی بی سی
بندر بانٹ کے اس کھیل میں در حقیقت بندر ہی فائدے میں ہے۔ ساری دولت گھوم پھر کر بندر کے پاس بندر کے ملک میں ہی رہے گی۔ افسوس ان بلیوں پر جو سب کچھ جانتے ہوئے بھی اپنے مسئلوں کا حل بندروں سے کراتے ہیں۔
٭ مجھے وزیر بننے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔۔۔ ٹمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالین کے بیٹے اور اسمبلی رکن اُدایاندھی اسٹالین
اس کا مطلب ہے بہت جلد اُدایاندھی اسٹالین کو کوئی بڑی وزارت ملنے والی ہے۔یہ سیاست ہے بابا!!! یہاں جو کچھ بولا جاتا ہے اس کا مطلب الٹا ہی لیا جانا چاہیے۔
٭ہجومی تشدد یعنی ماب لینچنگ سے متعلق بل جھارکھنڈ اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں پیش کرنے کا امکان،جرم ثابت ہونے پر جرمانہ اور جائیداد ضبط کرنے کے علاوہ تین سال سے عمر قید تک کی سزا کا اہتمام۔۔۔ ایک خبر
ایک اچھی پہل، اسی نہج پر اگر دیگر ریاستیں بھی قانون بنالیں تو ہجومی تشدد جیسے گھناؤنے جرم پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ مرکزی سرکار اس تعلق سے کوئی کوشش کرے گی اس کا امکان کم ہی ہے کیونکہ ایسا کرنے سے اس کے بھگت اس سے ناراض ہوسکتے ہیں اور وہ کسی بھی حال میں اپنے بھگتوں کی ناراض کرنے کی غلطی نہیں کرے گی۔
٭کیا ہندی فلموں کو جنوبی ہند کی علاقائی فلموں سے سیکھنے کی ضرورت ہے؟۔۔۔ ایک سوال
بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ صاف لفظوں میں کہا جائے تو آج کل اکثر ہندی فلمیں تخریب کے راستے پر چل پڑی ہیں اور جنوبی ہند کی فلمیں تعمیر کے راستے پر۔ جا بے جاماردھاڑ، فحاشی اور عریانیت، سطحی رومانیت کے چکر ویو سے نکل کر جنوبی ہندکی فلمیں جس تیزی سے حقیقت پسندی اور صالح اقدار کی طرف مائل ہورہی ہیں یہ قابل تقلید روش ہے۔
٭پڑوسی ملک پاکستان میں دہی خریدنے کے لئے ایک ٹرین ڈرائیور نے ریلوے اسٹیشن کے قریب ٹرین روک دی۔۔۔ ایک خبر
اور ٹرین کے تمام مسافر دہی ہو کر رہ گئے۔ اچھا ہوا ٹرین ڈرائیور نے دہی کے لئے ریلوے اسٹیشن کے قریب ٹرین روکی، اگر اس ڈرائیور کو ہرن کے شکار کا شوق ہوجاتا اور وہ کسی جنگل میں ٹرین روک کر ہرن کی تلاش میں نکل جاتا تو۔۔۔
٭امریکی ایوان میں اسلاموفوبیا کے خلاف صدر بائیڈن کی مکمل حمایت سے بل منظور۔۔۔ ایک عالمی خبر
اس صدی کی سب سے اچھی پہل، اگر سنجیدگی کے ساتھ اس قانون کو مضبوط کیا جائے اور اقوام متحدہ کے تحت اسے ساری دنیا پر نافذ کیا جائے تو فسطائی اور تخریبی طاقتوں کے خطرناک منصوبوں پر پانی پھیرا جا سکتا ہے اور امن و امان کی ایک نئی تاریخ لکھی جاسکتی ہے۔
٭امریکہ میں یہودیوں کی تعداد صرف1.9فیصد ہے اور ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد سرکار کے حساب سے14.3فیصد۔ یہودی اتنی کم تعداد ہونے کے باوجود امریکہ میں کیوں چھائے ہوئے ہیں اور ہندوستان میں مسلمان دلتوں سے بھی پسماندہ؟۔۔۔ ایک گھمبیر سوال
ایسا اس لئے کہ یہودیوں نے تبدیلی کا احساس بہت پہلے سے کر لیا اور اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال کر حالات کو اپنے موافق بنا لیا۔ لیکن مسلمانوں نے تبدیلی کو اپنا دشمن سمجھ لیا، جمود کے ساتھ چمٹے رہے، تبدیلی کو اپنے من مانے سانچوں میں ڈھالنے کی کوشش میں حالات کو بری طرح بگاڑ لیا۔اب واویلا کر رہے ہیں اور اپنے زوال کا الزام دوسروں کے سر ڈال رہے ہیں حالانکہ ابھی بھی وقت ہے اگر یہ چاہیں تو ذرا سی کوشش سے حالات کے دھارے کو اپنے موافق کر سکتے ہیں، بس جمود کے دائروں سے اپنے آپ کوباہر نکالناہے۔
٭میں ہندو ہوں، ہندوتوا وادی نہیں، مہاتما گاندھی ہندو تھے اور گوڈ سے ہندو توا وادی۔ یہ ملک ہندوؤں کا ہے ہندوتوا وادیوں کا نہیں۔۔۔ کانگریس رہنما راہل گاندھی
بظاہر یہ بیانیہ صحیح لگ رہا ہے لیکن حقیقت میں یہ بھی فاشسٹ نظریہ کی ہی جیت ہے۔ ایک طویل سیکولر تاریخ رکھنے والی ایک قدیم سیاسی پارٹی کا سربراہ جب ووٹ بینک سیاست کے لئے اپنی مذہبی شناخت کی دہائی دے اور سیکولر ریاست کو اکثریتوں کا ملک قرار دے تو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ اس پر خوش ہو کر تالی بجائی جائے یا سر پیٹا جائے۔
Comments
Post a Comment