تلخ و ترش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق رفیقی

٭کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ مودی حکومت خارجہ پالیسی کے معاملے میں جو اسٹریٹجک غلطی کر رہی ہے، اس کا خمیازہ ملک کو بھگتنا پڑے گا۔۔۔ یو این آئی مودی حکومت داخلہ پالیسی کے معاملے میں جو اسٹریٹجک غلطیاں کر رہی ہے اُس کا خمیازہ،جب اُس کے بھگت پورے تحمل اور صبر کے ساتھ بھگت رہے ہیں تو اُس کی خارجہ پالیسی کی غلطیوں کا خمیازہ ملک اور ملک کے عوام کیوں نہیں بھگت سکتے؟ ٭یوکرین پر روس کا حملہ: امریکی صدر بائیڈن یوکرین میں فوجیں کیوں نہیں بھیجیں گے؟۔۔۔ ایک سوال (بی بی سی) اس لئے کہ اس کے بعد جو صورتحال پیدا ہوگی اس کا انہیں بخوبی اندازہ ہے، اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ یوکرین میں نہ پٹرول ہے نہ گیس ہے اور نہ معدنی ذخائر، ایسے میں اس جنگ میں کودنا پوری طرح سے گھاٹے کا سودا ہے، اور امریکہ کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتا۔ ٭اتر پردیش اسمبلی انتخابات: سونبھدرا میں انتخابی مہم کے دوران مقامی رکن اسمبلی اور بی جی پی امیدوار بھوپیش چوبے اپنی کرسی پر کھڑے ہوگئے اور اپنے کان پکڑ کر اُٹھک بیٹھک کرکے عوام سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگنے لگے۔۔۔ سوشیل میڈیا سے اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے عوام کو الو بنانا اگر ایک فن ہے تو یہ فن آج کل کے نیتاؤں کو خوب آتا ہے۔سچ میں داد کے مستحق ہیں بی جے پی کے یہ امیدوار۔ ٭بہار میں بی جے پی ایم ایل اے کی طرف سے مسلم سماج کے ووٹنگ حقوق ضبط کئے جانے کی مانگ کے ایک دن بعد، ریاست کی حکمراں جماعت جنتا دل یونائیٹڈ نے اتحادی پارٹی بی جے پی کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ اپنے قانون سازوں کو قابو میں رکھے ورنہ طویل مدت تک حکومت نہیں چلے گی۔۔۔ آئی اے این ایس بی جے پی کی پالیسیوں اور اس کی سیاست کی خوب جانکاری رکھتے ہوئے بھی کرسی کی خاطر اس سے اتحاد کرنا اور جب اس کا کوئی نیتا مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیان دے تو اس کی سرزنش کی دبے دبے لفظوں میں مانگ کرکے مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرنا کہ وہ ان کے ساتھ ہے،سچ ہے ”رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی“ والی سیاست میں جے ڈی یو مہارت ہی نہیں، ید طولیٰ رکھتی ہے۔ ٭مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کو اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی جیت پر یہ کہتے ہوئے اعتماد کا اظہار کیا کہ بی جے پی 403ممبران اسمبلی میں 300سے زیادہ سیٹیں جیت لے گی۔۔۔اے این آئی لگتا ہے بلی کے خواب میں آج کل چھیچھڑے نہیں بکرے کے سالم ران نظر آنے لگے ہیں۔ ٭قومی دارالحکومت دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ دہلی میں کورونا وائرس کے متاثرین میں مسلسل کمی اور لوگوں کو در پیش مسائل کے پیش نظر کرونا وائرس سے متعلق تمام پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں اور یکم اپریل سے تمام اسکول کھل جائیں گے۔۔۔ یو این آئی یعنی عوام کو چاہئے کہ اب تک ”خواب تھا جو کچھ کے دیکھا، جو سُنا افسانہ تھا“ کہہ کر آگے بڑھ جائیں،اور جہاں قطار ہے وہاں قطار میں لگ جائیں۔ لاک ڈاؤن کا کھیل اب ختم ہوگیا ہے۔ ٭کرناٹکا حجاب تنازعہ: بنگلور کے ایک معروف کالج میں ایک سکھ طالبہ کو اپنی پگڑی اتارنے کے مطالبے کے بعداب منگلور کے ایک نجی اسکول نے ایک چھ سالہ سکھ لڑکے کو پگڑی پہننے کی وجہ سے داخلہ دینے سے انکار کردیا ہے۔۔۔ آئی اے این ایس یعنی بہت جلد سبھوں کا نمبر آنے والا ہے، جتنی جلدی یہ بات عوام سمجھ لیں اتنا اچھا ہے ورنہ آخر میں پچھتانے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔ ………………………………………..

Comments

Popular posts from this blog

اِتمام حُجت کس پر؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ............ اسانغنی مشتاق رفیقی