جماعت اسلامی ھند، شہر وانم باڑی کے حوالے سے ایک تعارف ....................... اسانغنی مشتاق رفیقی

جرعات جماعت اسلامی ہند، یقیناً ہندوستان کی ایک ایسی واحد جماعت ہے جو آج بھی اپنے دستور اور اصولوں سے پوری طرح جڑی ہوئی ہے۔ سخت سے سخت حالات میں بھی اس نے اپنا بنیادی عقیدہ، نصب العین اور طریق کار سے کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ قرآن و سنت کو بنیاد بنا کر اپنی اصلاحی تحریک کے لئے جو اصول اس نے اپنے دستور کے لئے وضع کئے، ان اصولوں سے وہ آج بھی اسی طرح جڑی ہوئی ہے جس طرح روز اول جڑی ہوئی تھی۔ آزاد ہندوستان کے طول وعرض میں پھیلی ہوئی اس کی ستر سے زائد سالہ تاریخ کا ایک ایک ورق اس بات کا شاہد ہے کہ اس نے مصائب و آلام کے بدترین طوفانوں میں بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ اس کے رفقاء نے پابند سلاسل و زنداں ہونا منظور کر لیا لیکن کبھی اپنے اصول اور دستور سے غداری نہیں کی۔ اس کی اس حیران کردینے والی مضبوطی کا راز، اس کا واضح، بغیر لاگ و لپیٹ اور منطقی الجھاؤ کے صاف صاف عقائد ہیں۔ کلمہ، توحید کا کامل اقرار، نبوت اور اس کی مکمل شہادت، کتاب اللہ، اس کی حجت ہونے پر انتہائی یقین، شخصیت پرستی کی مکمل نفی، یہ وہ عقائد ہیں جن پر مضبوطی جماعت اسلامی کو دوسرے اصلاحی جماعتوں سے ممتاز کرتی ہے۔ عقائد کی اسی مضبوطی کی وجہ سے اس کے پھیلاؤ میں شدید رکاوٹیں آتی رہیں اور آج بھی یہ رکاوٹیں وقتاً فوقتاً اپنا سر اٹھاتی رہتی ہیں،لیکن اس کے باوجود جماعت دھیرے دھیرے ہی سہی صالح نفوس کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہے اور اس کی وجہ یہی عقائد کی مضبوطی ہے۔ خصوصاً دستور میں عقائد کے عنوان کے تحت درج یہ شق شق نمبر 6- رسول خدا کے سوا کسی انسان کو معیار حق نہ بنائے۔ کسی کو تنقید سے بالا تر نہ سمجھے، کسی کی ذہنی غلامی میں مبتلا نہ ہو۔ ہر اک کو خدا کے بنائے ہوئے اسی معیار کامل پر جانچے اور پرکھے اور جو اس معیار کے لحاظ سے جس درجہ میں ہو اس کو اسی درجہ میں رکھے۔ اور طریق کار کے عنوان کے تحت درج یہ شق شق نمبر 2- جماعت اپنے تمام کاموں میں اخلاقی حدود کی پابند ہوگی اور کبھی ایسے ذرائع اور طریقے استعمال نہ کرے گی جو صداقت و دیانت کے خلاف ہوں یا جن سے فرقہ وارانہ منافرت، طبقاتی کشمکش اور فساد فی الارض رونما ہو۔ ایسے اصول ہیں جن کی بنیاد پر جماعت کو بہت کچھ سہنا پڑا، عقائد کے تحت موجود شق نمبر6، کو بنیاد بنا کر جماعت پر گستاخ صحابہ اور منکرینِ بزرگان دین کا ٹھپہ بھی لگادیا گیا۔ لیکن بفضل اللہ تعالی جماعت آج بھی ان ہی اصولوں کو سینے سے لگائے شخصیت پرستی کی مہلک بیماری سے کوسوں دور ہے۔ جنوبی ہندوستان میں مسلمانوں کے حوالے سے ضلع ٹمل ناڈو کا شہر وانم باڑی، مشہور و معروف ہی نہیں اپنی ایک منفرد پہچان بھی رکھتا ہے۔ جدید تعلیم کو لے کر جنوبی ہندوستان میں سیر سید کی تحریک کا پہلا اثر اسی شہر میں دیکھا گیا اور اسی طرح دیو بندی تحریک کے اثرات سے دین کی بڑی بیداری بھی بہ نسبت ٹمل ناڈو کے دوسرے علاقوں کے اسی شہرمیں راہ پائی اور آج بھی یہ شہر ہندوستان بھر میں دینی اور دنیاوی تعلیم اور بیداری کے لحاظ سے بطور خاص جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ جہاں تک جماعت اسلامی کا تعلق ہے شہر وانم باڑی میں اس کے اثرات 1944 سے پہنچنے شروع ہو گئے تھے۔اس دور میں مولانا مودودی کے تصنیفات بالخصوص ترجمان القرآن اور سہ روزہ دعوت یہاں کے علمی حلقوں میں ذوق و شوق سے پڑھے جاتے تھے۔آزادی کے بعد جب جماعت اسلامی ھند کا قیام عمل میں آیا اور ملک بھر میں ارکان سازی کے ساتھ ساتھ اس کے دفاتر قائم ہونے لگے تو وانم باڑی میں جناب اپاپلے عبیدالرحمٰن صاحب نے اپنے مکان کو ہی جماعت کے دفتر اور لائبریری کی شکل دے کر اجتماعات اور سوال و جواب کی نشستیں قائم کرنی شروع کردی تھیں اور یوں تحریک اسلامی کا بیج اس زرخیز زمین میں بونے کا فریضہ انجام دیا۔ ان کے ساتھ اس کارواں میں شریک افراد میں جناب مٹیکار جمیل صاحب، جناب اعجازاحمد اسلم صاحب، جانب ایم پی عبداللہ صاحب، جانب نری فضل الرحمٰن صاحب کا نام نامی نمایاں ہے۔ انہیں مخلص ارکان تحریک کی خلوص اور کاوشوں سے آج وانم باڑی میں تحریک اسلامی ایک گھنے اور سایہ دار درخت کی شکل میں نظر آرہی ہے۔ جماعت اور ارکان جماعت کو جہاں اپنوں کی مخالفت کا ایک سیلاب روز اول سے جھیلنا پڑا وہیں صاحبان علم و آگہی اور سمجھدار طبقے کی جانب سے بھی تہمت اور غلط فہمیوں کو اس شدت سے ہوا دی گئی کہ آج تک شہر کے عوام، جماعت کو لے کر بہت ساری بد گمانیوں میں مبتلا ہیں۔ اس کے باوجود مردان حق کا یہ قافلہ دھیرے دھرے ہی سہی حنیف ذہنوں کو متاثر کرتا آرہا ہے۔ صرف یہی نہیں، یہاں سے ایسے قد آوار شخصیات بھی پیدا ہو رہی ہیں جو اپنی قابلیت اور فراست کے بل بوتے پر جماعت کی مرکزی قیادت میں شامل ہو کر قوم و ملت کی رہنمائی میں سر فہرست آگئی ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

اِتمام حُجت کس پر؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

تلخ و ترش ............ اسانغنی مشتاق رفیقی