تلخ وترش .............. اسانغنی مشتاق رفیقی
٭آل انڈیا سروے آن ہائر ایجوکیشن نے انکشاف کیا ہے کہ اعلیٰ تعلیم میں مسلم اسٹوڈنٹ کے داخلے میں 8 فیصد کی گراوٹ درج کی گئی ہے۔ 20 فیصد مسلم آبادی والے اتر پردیش کی کارکردگی سب سے زیادہ خراب رہی ہے۔یہاں36 فیصد کی گراوٹ آئی ہے۔ وہیں کیرالہ میں43 فیصد مسلمانوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے داخلہ لیا ہے۔۔۔ دی وائراردو
ہم مسلم قوم کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ اس کا سارا دوش ہم حکومت اور سیاسی رہنماؤں کو دے کر کسی غریب کی شادی میں پہنچ جائیں گے، وہ بیچارا اپنا گھر دار بیچ کر ہمیں بریانی کھلائے گا پھر ہم اس کھانے میں نقص نکالتے ہوئے اپنے گھر کی راہ لیں گے۔ افسوس صد افسوس!!شاعر مشرق نے سچ کہا ہے
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
٭ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے الزام لگایا ہے کہ مرکز کی بی جے پی حکومت دیگر ریاستوں کی طرح تمل ناڈو میں بھی انکم ٹیکس، سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) جیسی ایجنسیوں کا غلط استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔۔۔ آئی اے این ایس
صاحب اور ان کی حکومت پر یہ الزام بالکل غلط اور بےبنیاد ہے۔ وہ ایجنسیوں کا کبھی غلط استعمال کرتے ہی نہیں ، صحیح وقت پر صحیح جگہ اور صحیح معاملے میں ہی کرتے ہیں اور اس کا صحیح فائدہ بھی اٹھاتے ہیں، کیا سمجھے!!!
٭ کرناٹک میں کانگریس کی نئی حکومت ریاست میں پچھلی بی جے پی حکومت کے ذریعہ نافذ کی گئی قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) کو ختم کرکے ایک نئی تعلیمی پالیسی تشکیل دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔۔۔ آئی اے این ایس
اب یہ کھیل چلتا رہے گا، ہر آنے والی حکومت نئی تعلیمی پالیسی کے نام پر سیاست کرے گی اور تعلیمی نظام کا کباڑا کیا جاتا رہے گا، بقول میرؔ
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہو تا ہے کیا
٭ امریکہ ’دیوالیہ‘ ہونے سے بچ گیا، امریکی ایوان نمائندگان نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے قرض کی حد میں اضافے کے معاہدے کی منظوری دے دی۔ اب اس بل کو سینیٹ میں پیش کیا جائے گا، جہاں اس پر باضابطہ مہر ثبت کیے جانے کی امید ہے۔۔۔ ڈی ڈبلیو اردو
جس کی وجہ سے کئی ملکوں کا دیوالیہ نکل چکا ہے وہ اور دیوالیہ!! یہ سب عوام کو الجھائے رکھنے کی نوٹنکی ہے اور کچھ نہیں۔
٭ کسی دوسرے ملک میں یہ کہنا کہ ہندوستان میں اقلیتی برادریوں کے لوگ خوف میں زندگی گزار رہے ہیں، ہندوستان کی توہین ہے۔۔۔ سان فرانسسکو میں راہول گاندھی کی تقریر پر مرکزی وزیر بھگوانت کھوبا
یعنی کہ
رات کو رات کہہ دیا میں نے
سنتے ہی بوکھلا گئی دنیا
٭ اے آئی اے ڈی ایم کے کے جنرل سکریٹری اور تمل ناڈو کے سابق وزیر اعلی ایڈاپاڈی کے پلانی سوامی نے کرناٹک کے نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے کاویری ندی پر میکیڈاتو ڈیم کی تعمیر کے بیان پر شدید تنقید کی ہے ۔۔۔ آئی اے این ایس
لگتا ہے پلانی سوامی جی کو آنے والے لوک سسبھا الیکشن کے لئے اک مدعا ہاتھ لگ گیا ہے مبارک ہو!! مبارک ہو!!!
٭پاکستان میں عید کا چاند اب ایک ہی دن نظر آنے کی امید، پاکستانی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق ملکی قومی اسمبلی نے "پاکستان رویت ہلال بل 2022" کو منظور کر لیا۔ اس بل کی رو سے نجی رویت ہلال کمیٹیوں کے قیام اور سرکاری اعلان سے قبل نئے چاند دکھائی دینے کے اعلان پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔۔۔ ڈی ڈبلیو اردو
یعنی طے کردہ وقت پر اگر چاند نظر نہ آئے تو حکومت چاند ماری کے میدان میں عوام کو چاند دکھانے کا انتظام کر دے گی، بے فکر رہیں۔
٭ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے ڈبلیو ایف آئی صدر برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف احتجاج کرنے والے پہلوانوں کی حمایت میں کولکتہ میں کینڈل مارچ کیا۔۔۔ پی ٹی آئی
کرناٹکا الیکشن کے بعد مرکز کے خلاف ہر ایرا غیرا نتھوخیرا احتجاج کے موڈ میں آگیا ہے اور یہ اس کے لئے اچھا شگون نہیں ہے۔
٭ ماہانہ 100 یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے خاندانوں کو پہلے 100 یونٹ بجلی مفت دی جائے گی۔ یعنی، چاہے کتنا ہی بل آجائے، انہیں پہلے 100 یونٹس کے لیے بجلی کا کوئی چارج نہیں دینا پڑے گا:۔۔۔ راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت
لگتا ہے گہلوت جی نے اپنے پہلے تُرپ کے پتے میں ہی اچھے اچھوں کی نیند اڑادی ہے، لیکن پھر بھی یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ ایسی چالوں سے الیکشن جیت ہی جائیں گے۔
٭ ترک ریاستوں نے مل کر آئی ایم ایف کے مقابلے میں ٹی وائے ایف قائم کر لیا۔ ترکیہ ، آذربائیجان ، ترکمانستان ، کرغزستان ، قازکستان نے مشترکہ طور پر آئی ایم ایف کے مقابلے میں ٹی وائے ایف قائم کیا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے سرمایہ کاری میں ایک دوسرے سے تعاون کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔ ترکش انویسٹمنٹ فنڈ کی مرکزی عمارت استنبول میں قائم کی جائے گی۔۔۔ ترکیہ اردو
ایک اچھی شروعات ہے، لگتا ہے کبھی یورپ کا مرد بیمار سمجھا جانے والا ترکیہ اب اپنی شناخت کھوجنے میں کامیاب ہوتا جارہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment